یہ قول متعدد ضلالتوں ، متکثرجہالتوں کی طُرفہ معجون ، بلکہ معجونِ فلاسفہ قرُۃُ العیون ہے ______زید مسکین نے
تَشَدُّ بقری (عہ)
کو علقِ نفیس جان کر
آمَنَّا بِہِ
تو کہہ دیا مگر نہ دیکھا کہ اس پر کیا کیا شناعاتِ عظیمہ ہائلہ وارد۔
عہ : مؤلف المنطق الجدید تمسک ھنا بما تفوہ بہ الباقر وھذا اللفظ یشیرالیہ ۲ ۱ محمد احمد۔
فاقول : وبحول اﷲ تعالٰی اُصول
(چنانچہ میں کہتا ہوں اور اﷲ تعالٰی کی توفیق سے حملہ آور ہوتا ہوں۔ ت)
اَوّلاً : تمام انواع کا قِدم لازم کہ جب طبائع مرسلہ میں مجرد امکانِ ذاتی مِلاک فیضان۔ اور امکانِ ذاتی یعنی دائرہ قدرت میں داخل ہونا ، قطعاً ازلی۔
والالزم الانقلاب
( ورنہ انقلاب لازم آئے گا۔ ت) _____ اور جناب مبدی تبارک و تعالٰی میں قطعاً بخل نہیں۔ تو واجب ہوا کہ ہر نوع قدیم ہو۔
اور یہ امراصولِ باطلہ فلسفہ پر قدم ہیولٰی وقدم صورتِ جسمیہ، وقدم صورتِ نوعیہ ، وقدم جمیع اشخاص منحصرہ
فیہا الانواع ، وقدم بعض افراد ( عہ۱) انواعِ باقیہ ، وقدم انواع و اشخاص اعراض لازمہ علی التفصیل المشار الیہ
( اس تفصیل کی بنیاد پر جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔ ت)کو مستلزم ،
کما لایخفٰی
( جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ ت) پورا پورا مذہب نامہذب فلسفہ مزخرفہ کا ثابت ہوگیا۔
عہ ۱: ای بمعنی فرد منتشر ۱۲ منہ ۔
فلسفی متبوع (عہ۲)کا مطلب بمادۃ ومدۃ سے نکلتا تھا ، مُتفلسف تابع نے مستلزمہ للفعلیہ صاف لکھ دیا ، ہیہات! اس متبوع سے کیا جائے شکایت کہ وہ حضرات تو قدیماً و حدیثاً سفہائے سفسطہ کے فضلہ خوار رہے ہیں۔
ومن لم یستغن بالقرآن فلا اغناہ اﷲ
( جو قرآن کے ذریعے استغناء حاصل نہ کرے اﷲ تعالٰی اس کو غنی نہیں کرتا ت) مگر اس تابع مدعی تسنُّن کا تلون و تفنن قابلِ تماشا______
نسال اﷲ الثبات علی الایمان والسنۃ
( ہم اﷲ تعالی سے ایمان و سنت پر ثابت قدمی طالب کرتے ہیں۔ت)
عہ ۲ : باقرداماد شیعی ۱۲ م
ثانیاً : اور اشدّو اعظم قباحت لازم کہ اس تقدیر پر قدرت الہیہ صرف انواعِ موجودہ میں منحصر ہوجاتی ہے۔ اور جو نوع نہ بنی اس کے یہ معنی کہ حق جل و اعلا کو اس پر قدرت ہی نہ تھی کہ اگر مقدور ہوتی تو ممکن ہوتی۔ اور طبیعت مطلقہ میں نفس امکان مستلزم فیضان ، تو انتفائے لازم انتفائے ملزوم پر دلیل جازم
ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
یہ شناعت خبیثہ تو ایسی ہے کہ جس طرح اسلامیوں کے نزدیک کفر ، یونہی شاید فلسفیوں کو بھی مقبول نہ ہو کہ وہ بھی تقاسیم کلی میں کلی معدوم الافراد کو قسیم ممتنع الافراد کی قسم بتاتے ہیں۔
کما صُرِّحَ بہ فی اسفارھم
( جیسا کہ ان کی معتمد کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ت)
یاللعجب ! اگر باقر غافل تھا "متبقر" ، تو عاقل تھا۔
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(ت)
( ۱ ؎۔ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶ )
ثالثاً : تابع و متبوع کا یہ قول کہ "جانب مبدء میں بخل نہ ہونا مستلزم فیضان ہے" اصولِ سنت سے محض مباین اہل سنت کا ایمان ہے کہ مبدیئ تبارک و تعالٰی جواد ، کریم ، اکرمُ الاکرمین ہے۔
جَلَّ جَلَالُہ وتقدَّس فَعَالُہ
مگر بایں ہمہ کوئی شے اس پر واجب نہیں مانتے۔
عالم جب تک نہ بنایا تھا وہ جب جواد تھا۔ اور اگر کبھی نہ بناتا تاہم جواد ہوتا۔ نہ اس نہ بنانے سے کوئی عیب اُسے لگتا نہ کوئی نقصان اس کے کمالِ اکمل میں آتا۔ کسی شے کا ایجاد و اعدام کچھ اس پر ضرور نہیں۔
قال تعالٰی :
فعال لما یرید ۱ ؎
( تمہارا رب جو چاہے کرے۔ ت)
( ۱ ؎۔القرآن الحکیم ۱۱/ ۱۰۷ و ۸۵ /۱۶ )
وقال تعالٰی :
یفعل اﷲ مایشاء ۲ویحکم ما یرید ۳؎
( اور اللہ جو چاہے کرے اور وہ حکم فرماتا ہے جو چاہے ۔ت )
( ۲ ؎۔القرآن الحکیم ۱۴ /۲۷ ) (۳ ؎۔القرآن الحکیم ۵ /۱ )
وقال تعالٰی
لایسئل عمّایفعل وھم یسئلون ۴ ؎
(اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا۔ت)
( ۴ ؎۔القرآن الحکیم ۲۱/ ۲۳)
وھٰذا واضح جلیّ عند کل من نور اﷲ بصیرتہ
( اور یہ واضح اور خوب روشن ہے ہر اس شخص پر جس کی بصیرت کو اللہ تعالٰی نے منور فرمایا۔ ت) _______ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے :
ومن لم یجعل اللہ نورا فمالہ من نور ۵
(جسے اللہ تعالٰی نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں ۔ت)
( ۵ ؎۔القرآن الحکیم ۲۴ /۴۰ )
تویہ استلزام بھی اسی فلسفہ ملعونہ پر مبنی کہ قادر مختار تعالٰی شانہ کو فاعل موجب اور ایجاد عالم کو اس کے کمال کا سبب جانتے ہیں ۔
تعالی اللہ عما یقول الظالمون علوّا کبیرا
(اللہ تعالٰی اس سے بہت بلند ہے جو ظالم کہتے ہیں ۔ت)
رابعاً : متفلسف تابع نے شطرنج میں یغلہ اور طنبور میں ایک نغمہ اور زائد کیا کہ "اگر غیر احق صادر اور احق غیر صادر ہو تو ترجیح مرجوح لازم آئے گی"۔
سُبحٰن اللہ ! نہ وہاں کوئی احق ،نہ قادر حمید ،
فَعَّال لِّمَایُریْد
پر تمہاری عقولِ سخیفہ حاکم نہ ہمارے نزدیک اس کے ارادہ کے سوا کوئی مرجح ، اور ہو بھی تو اس پر کچھ اعتراض نہیں۔
قال تعالٰی :
اِن الحکم الا اﷲ ۶ ؎
(حکم نہیں مگر اللہ کا۔ ت)
( ۶ ؎۔القرآن الحکیم ۱۲ / ۴۰ )
وقال تعالٰی،
واﷲ یحکم لا معقب لحکمہ ۷ ؎
(اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں۔(ت)