Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
25 - 212
شرح فقہ اکبر میں ہے :
  مَن یؤوّل النصوص الواردۃ فی حشرِ الاجساد وحدوثِ العالَم وعلم الباری بالجزئیات فانّہ یکفر ۴ ؎
جو شخص حشر اجساد ،  حدوث عالم اور اﷲ تعالٰی کے علم جزئیات کے بارے میں وارد ہونے والی نصوص میں تاویل کرے وہ کافر ہوجاتا ہے۔
  ( ۴ ؎  منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر  الایمان ھو التصدیق والا قرار  مصطفٰی البابی مصر ص۸۶)
بحرالرائق میں جمع الجوامع اور اس کی شرح سے منقول :
  من خرج بیدعتہ من اھل القبلۃ کمنکری ، حدوث العالم ،  فلا نزع فی کفر ھم لانکار ھم بعض ماعلم مجیئ الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بہ ضرورۃ  ۵؎ ا ھ مختصرا۔
جو کوئی بدعقیدگی کی وجہ سے اہل قبلہ سے خارج ہوجائیں ان کے کفر میں کوئی نزاع نہیں کیونکہ وہ بعض ایسی چیزوں کے منکر ہیں جن کو لےکر رسول اللہ َ کا تشریف لانا بالبداہت معلوم ہے اھ مختصراً (ت)
 ( ۵ ؎ البحرالرائق   کتاب الصّلٰوۃ     باب الامامۃ  ،  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ /۳۵۰)
ردالمحتار میں شرح تحریر علامہ ابن الہمام سے منقول  :
  لاخِلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام من حدوثِ العالم وحشر الاجساد ونفی  (عہ۱) العلم بالجزئیات ، وان کان من اھل القلبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات  ۱ ؎ ۔
ضروریات اسلام کے مخالف کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں جیسے حدوث عالم ،  حشر اجساد اور ( باری تعالٰی کے) علم جزئیات کا منکر ہونا اگرچہ وہ اہل قبلہ میں سے ہو اور تمام عمر عبادات کی پابندی کرنے والا ہو۔(ت)
عہ ۱ :  اقول : ھکذا وقع فی الکتاب ، والصواب اسقاط النفی۔ فانہ ھوالکفرا جماعاً ،  والضروریُّ ھوالاثبات____ وکانّہ رحمہاللہ تعالٰی لما ارادتمثیل مخالفۃ الضروریات وکان الیہ سبیلان :  احداھما بتعدید المخالفات ،  والاخرٰی بذکر الضروریات فالتبست فی البیان احداھما بالاخرٰی____ فسلک الاخرٰی فی الاولین، والاولٰی  فی الاخر ____  والامر واضح فلیتنبّۃ ۱۲منہ ۔
میں کہتا ہوں کتاب میں یونہی واقع ہوا جب کہ صحیح یہ ہے کہ لفظ "نفی" کو ساقط کیا جائے کیونکہ علم جزئیات کی نفی ہی بالاجماع کفر  ہے ، اور ضروری اس علم کا اثبات ہے گویا کہ مصنف علیہ الرحمہ نے جب ضرویات اسلام کی مثال ذکر کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے دو طریقے تھے : پہلا یہ کہ مخالفات کو گنواتے، اور دسرا یہ کہ ضروریات کا ذکر کرتے ،تو بیان میں دوونوں کا دوسرا یہ کہ ضروریات کو ذکر کرتے تو بیان میں دونوں ایک دوسرے سے غلط ملظ ہوگئے چنانچہ مصنف علیہ الرحم نے پہلی بار دونوں مثالوں میں دوسرے طریقے کو جب کہ تیسری مثال میں پہلے طریقے کو اختیار کیا۔ معاملہ واضح ہے ،آگاہ ہونا چاہئے  ۱۲ منہ (ت)
( ۱ ؎ ردالمحتار  ،  کتاب الصلٰوۃ     باب الامۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۷۷)
اور اسی طرح امام ابو زکریا یحیٰی نووی نے روضہ اور فاضل سید احمد طحطاوی ۲؂نے حاشیہ درمختار میں نقل کیا ہے ۔
 ( ۲ ؎ حاشیہ الطحطاوی   باب الامامۃ   المکتبتہ العربیۃ کوئٹہ   ۱ /۲۴۳)
غرض تصریحیں اس کی کتب ائمہ میں بکثرت ہیں۔
ولا مطمح فی الاستقصاء
(اور احاطہ مقصود نہیں ۔ت)___حتٰی کہ اہل بدعت بھی اس میں مخالف نہیں ۔
کما یرشدک الیہ قولہ "باجماع المسلمین"
( جیسا کہ اس کا قول "اجماع مسلمین" اس کی طرف تیری رہنمائی کرتا ہے۔(ت)

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ محصّل میں فرماتے ہیں :
  اتَّفق المتکلمون(عہ۲)  علٰی اَنّ القدیم یستحیل ستنادہ الی الفاعل (عہ۱) ۱؂ ۔
متکلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ قدیم کو فاعل کی طرف منسوب کرنا محال ہے۔(ت)
عہ ۲  :  ھولفظ یعم جمیع النظارمن اھل القلبۃ ، المقتدرین علٰی اثبات عقائد ھم التی انوابہا اﷲ تعالٰی بایراد الحُجج   وادِحاض الشُّبۃ ___سواء کانوامصبئین کمعشر اھل السنۃ والجماعۃ حفظھم اﷲ تعالٰی اوخاطئین کمن عداھم۔ کما صریح بہ فی المواقف وغیرھا فالحاصل "اتفق المسلمون"۱۲ منہ۔
یہ لفظ اہل قبلہ میں سے تمام اہلِ نظر کو شامل ہے جو اپنے عقائد کو جس کے ذریعے انہیں اللہ تعالٰی کا قرُب حاصل ہوتا ہے ایرا د ودلائل و ازلہ  شبہات کے ساتھ ثابت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ چاہے وہ صحیح ہوں جیسے اہلسنت کا گروہ۔ اللہ تعالٰی ان کی حفاظت فرمائے ،یا وہ غلط ہوں جیسے اہلسنت و جماعت کے علاوہ دیگر گروہ ۔جیسا کہ مواقف وغیرہ میں صراحت کردی گئی ہے ۔حاصل اس کا یہ ہے کہ "تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے"۱۲ منہ (ت)
عہ ۱ : اقول : یعنی الفاعل المختار ، اذلافاعل موجباً____عند نا___  وھذا ھو الذی قالوا : انہ اجمع علیہ المتکلمون ______  اما ان القدیم لا یکن اسنادہ الی الفاعل مطلقا حتی الموجب لوکان  ،  فمسلک ، خاص للامام الزرازی لم  یوافقہ علیہ کثیرون ____  حتی قالوا : ان القول بقدم العالم انما ساغ للفلا سفۃ لقولھم بالفاعل الموجب ولو لا ذلٰک وامنوابالفاعل المختار ____  لَاَذعنوا بحدوث العالم عن اخرہ  ______  و کذا ایجاب المسلمین حدوث کل مخلوق لقولھم بالفاعل المختار _____ولو لا ذٰلک لقالوا بالقدم قلت المقصود نفی الا جماع علی التعمیم ____ھو حاصل___ وان کان فی الکلام کلام ۔ واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم ۱۲ منہ ۔
اقول : فاعل سے مراد فاعل مختار ہے کیونکہ فاعل موجب یعنی غیر مختار نہیں ہوتا۔ اسی موقف کے بارے میں مشائخ نے کہا ہے کہ اس پر متکلمین کا اجماع ہے۔ رہی یہ بات کہ قدیم کی نسبت مطلقاً فاعل کی طرف نہیں ہوسکتی چاہے فاعل موجب ہو۔ اگر وہ موجود ہو تو یہ خاص امام رازی کا مسلک ہے اس میں اکثریت نے ان کی موافقت نہیں کی ، یہاں تک کہ مشائخ نے کہا فلاسفہ کا قدم عالم کا قول اسی صورت میں بزعم خویش درست ہوسکتا ہےکہ وہ فاعل موجب کے قائل ہیں ، اگر وہ فاعل مختار کا یقین کرلیں تو تمام عالم کے حدوث کا یقین کرلیں اور اسی طرح مسلمانوں کا ہر مخلوق کو حادث قرار د ینا اس لیے ہے کہ وہ فاعل مختار کے قائل ہیں۔ اگر وہ اس کے قائل نہ ہوں تو قدم عالم کا قول کرلیں۔ قلت : مقصد تو تعمیم  پر اجماع کی نفی ہے___ اور وہ حاصل ہے___ اگرچہ کلام میں کلام ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ (ت)
بلکہ حددثِ تمام اجسام و صفاتِ اجسام پر تمام اہل ملل کا اتفاق ہے۔ یہود و نصارٰی تک اس میں خلاف نہیں رکھتے۔
فی شرح المواقف :  الاجسام محدثۃبذو اتہاالجوھریۃ ،  و صفاتھا العرضیۃ وھوالحق  ،  وبہ قال الملیون کلھم من المسلمین والیہود والنصارٰی والمجوس ۱ ؎ ۔
اجسام اپنی ذواتِ جوہریہ اور صفات عرضیہ کے ساتھ حادث ہیں ، اور یہی حق ہے۔ اور یہی کہا تمام ملتوں نے مسلمانوں ،  یہودیوں نصارٰی اور مجوسیوں میں سے۔(ت)
 ( ۱ ؎ ۔ شرح المواقف    المرصدالثانی فی عوارض الاجسام    منشورات الشریف الرضی قم ایران  ۷ /۲۲۰)
اور بیشک زہد کا ان مضامین کفریہ کو مقام رَدّوِ استدلال میں لانا ،  اور اُن پر اختیار مذاہب و تحقیق مشارب کی بنا رکھنا ، صراحۃً اُن کی رضا و قبول پر دال۔ اور بالفرض نہ ہو تو بلا اکراہ ایراد میں کیا مقال !
وتذکرّ کلّ ماقدّمنا من الکلام علی القول الاوّل  ،  تجدھُنالک مافیہ الغِناءُ وعلیہ المعوّل ۔
قولِ اوّل پر جو گفتگو ہم نے مقدم کی اس کو یاد کرلے ،  اس میں تو غناء پائے گا اور اُسی پر بھروسہ ہے۔(ت)
Flag Counter