کابھی بعینہ یہی حال کہ اُن میں ہیولٰی و صورتِ جسمیہ و صورت نوعیہ و عقول عشرہ و بعض نفوس کو قدیم زمانی مانا۔ اور یہ سب کفر ہیں۔
آئمہ دین فرماتے ہیں : جو کسی غیر خدا کو ازلی کہے باجماع مسلمین کافر ہے۔
شفا و نسیم میں فرمایا :
من اعتراف بالٰھیۃ اﷲ تعالٰی ووحدانیتہ لٰکنّہ اعتقدقدیماً غیرہ ، (ای غیر (عہ) ذاتہ وصفاتہ ، اشارۃ الٰی ماذھب الیہ الفلاسفۃ من قدم العالم و العقول) اوصانِعاً للعالَم سواہ (کالفلاسفۃ الذین یقولون انّ الواحد لایصدر عنہ الّا واحد) فذلک کلّہ کفر(ومعتقدہ کافر باجماع المسلمین کالا لٰھین من الفلاسفۃ والطبائعین ۱) اھ ملخصاً ۔
جس نے اللہ تعالٰی کی الوہیت و حدانیت کا اقرار کیا لیکن اﷲ تعالٰی کے غیر کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھا۔( یعنی اﷲ تعالٰی کی ذات و صفات کے علاوہ ، یہ فلاسفہ کے مذہب یعنی عالم وعقول کے قدیم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یا اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو صانع عالم ماننا(جیسے فلاسفہ جو کہ کہتے ہیں واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد) تو یہ سب کفر ہے ( اور اس کے معتقد کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے جیسے فلاسفر کا فرقہ الہٰیہ اور فرقہ طبائعیہ) اھ تلخصیص (ت)
میں کہتاہوں : یہ توجیہ نہیں بلکہ توضیح ہے کیونکہ اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کی صفات ہمارے نزدیک اس کا غیر نہیں ہے جیساکہ اس کا عین بھی نہیں ۱۲منہ۔
( ۱ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ /۲۶۸)
(نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ۴ /۵۰۱)
اور فرمایا :
نقطع بکفرمن قال بقدم العالَم او بقاء اوشک فی ذٰلک علٰی مذھبٍ بعض الفلاسِفۃ (ومنھم من ذھب (عہ) لغیرہ ۔وقدکفّرھم اھل الشرع بھٰذا ،لمافیہ من تکذیب اﷲ ورسلہ وکتبہ) الٰی ان قال فلا شک فی کفر ھٰؤلاِ قطعاً اجماعاً وسَمعاً ۱ ؎ اھ ملتقطاً۔
ہم اس شخص کے کفر کا قطعی حکم لگاتے ہیں جو عالم کے قدیم و باقی ہونےکا قائل ہے یا اسے اس میں شک ہے بعض فلاسفہ کے مذہب پر (اور ان میں سے بعض اس کے غیر کی طرف گئے ہیں ، اہلِ شرع نے اس قول کی وجہ سے ان کی تکفیر کی ہے ،کیونکہ اس سے اﷲ تعالٰی ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کو جھٹلانا لازم آتا ہے۔) یہاں تک کہ فرمایا ان کے کفر میں قطعی ، اجماعی اور سمعی طور پر کوئی شک نہیں اھ التقاط (ت)۔
( ۱ ؎ نسیم الریاض فی شفاء القاضی عیاض فصل فی بیان ما ھومن المقالات کفر مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ۴/۵۰۱۔۵۰۹)
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القاضی عیاض فصل فی بیان ماھومن المقالات کفر المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ ۲ /۲۶۸و۲۷۱)
عہ : اقول : اوتکون البعضیۃ راجعۃً الی الشک فھی اشارۃ الٰی ماحکی عن جالینوس انہ قال فی مرضہ الذی توفی فیہ لبعض تلامذتہ اکتب عنّی انّی ماعلمتُ ان العالم قدیم اومُحدَث ، وان النفس الناطقۃ ھی المزاج اوغیرہ ____قد طعن فیہ اقرانہ بذلک حین ارادمن سلطان زمانہ تلقیبہ بالفیلسوف ، ذکرہ ، فی شرح المواقف ۲ ؎ ۔ اقول : ان کان الطعن للتردّدا الاخیر ، فہو بذاک حّری وجدید ____ والا فمن العجب ان معتقد القدم یسمٰی فلسفیا ، دون الشاک مع انّ جہل ذٰلک مرکّب وجھل جالینوس بسیط ____ فان کان مثل (عہ) الجھل لاینافی حکمۃ الحکیم فالبسیط اولٰی بہ____ الا ان یقال ان الفسلفی ھو المتناھی فی فی الخباثۃ وذٰلک فی المرکب ۱۲ منہ ۔
میں کہتا ہوں : یا بعضیت شک کی طرف راجع ہوگی ، یہ اشارہ اس حکایت کی طرف ہی جو جالینوس کے بارے میں منقول ہے کہ اس نے اپنے مرض الموت میں اپنے کسی شاگرد کو کہا میری طرف سے یہ لکھ لو کہ میں نہیں جانتا عالم قدیم ہے ، یا حادث اور یہ کہ نفسِ ناطقہ ہی مزاج ہے یا اس کا غیر ____یہی وجہ ہے کہ جب بادشاہِ وقت نے جالینوس کوفیلسوف کا لقب دینےکاارادہ کیا تو اس کے معاصرین نے اس پر طعن کیا۔یہ شرح مواقف میں مذکور ہے۔ میں کہتا ہوں : اگر یہ طعن آخری تردید کی وجہ سے ہے تو وہ اس کے لائق ومناسب ہے۔ ورنہ تعجب خیز بات ہے کہ عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھنے والا تو فلسفی کہلائے اور شک کرنے والا نہ کہلائے باوجود یہ کہ قدم کے معتقد کا جہل مرکب ہے اور جالینوس کا جہل بسیط ہے۔۔ جب جہل مرکب حکیم کی حکمت کے منافی نہیں تو بسیط بدرجہ اولٰی اس کے منافی نہ ہوگا مگر یہ کہ یوں کہا جائے کہ فلسفی وہ ہے جو خباثت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو اور ایسا جہل مرکب ہوتا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
( ۳ ؎ شرح المواقف القسم الخامس المرصد الثانی منشورات الشریف الرضی ۷ /۲۲۲)
(عہ: کذا فی فی المخطوطۃ، ویخاجل صدری ان العبارۃ "مثل ذا الجہل" او "ا مثل الجہل" ویصح "مثل الجہل" ایضاً بجعل اللام للعہدلکن السیاق یستدعی مقابلۃ البسیط ۱۲ محمد احمد المصباحی۔)
عالم یا اس کے بعض اجزاء کے قدیم ہونے کا اعتقاد کفر ہے جیساکہ مشائخ نے اس کی تصریح کی ہے ۔(ت)۔
( ۱ ؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ الفصل الاول مکتبۃ الحقیقۃ دارالشفقۃ استنبول ترکی ص ۳۷۵)
اسی میں ہے :
من المکفرات القول الذی ھو کفر،سواء اصدر عن اعتقاد او عناد او استھزاء فمن ذلک اعتقادِ قدم العالم ۱؎ ۱ھ ملفقاً۔
کلمہ کفر کے ساتھ تکلم کافر بنادینے والی چیزوں میں سے ہے ،چاہے اس کو اعتقاد کے طور پر صادر کرے یا ضدو استہزاء کے طور پر عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد بھی ان ہی میں سے ہے اھ ملفقا (ت)
( ۱ ؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ الفصل الاول مکتبۃ الحقیقۃ دارالشفقۃ استنبول ترکی ص ۳۵۰)
طوالعُ الانوارِ من مّطالعِ الانظار میں ہے :
القول بالذوات القدیمۃ کُفر ۲؎ ۔
ذواتِ قدیمہ کا قائل ہونا کفر ہے۔(ت)
(۲؎طوالع الانوار من مطالع الانظار )
شرح مواقف میں ہے:
اِثبات المتعدّدمن الذوات القدیمۃ ھوالکفراجماعاً ۳ ؎
متعدد ذوات قدیمہ کو ثابت کرنابالاجماع کفر ہے۔(ت)
( ۳ ؎ شرح المواقف المرصد الثالث فی الوجوب الخ المقصد الخامس منشورات الشریف الرضی ۳ /۱۹۸)