Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
23 - 212
بحرالرائق میں ہے :
  والحاصل انّ من تکلمّ بکلمۃ الکفر ھازلاً  او لاعباً کفر عندالکل، ولا اعتبار باعتقادہ ، ومن تکلمہ بہا خطأ اومکرھاً  لایکفر عند الکل ومن تکلم بہا عالماً عامدا کفرعند الکل  ۲ ؎ ۔
خلاصہ یہ کہ جس شخص نے بطور ہزل اور بطور کھیل کلمہ کفر بکا وہ سب کے نزدیک کافر ہوگیا اس کے اعتقاد کا کوئی اعتبار نہیں۔جس نے خطاءً یا مجبوراً کلمہ کفر کہا وہ سب کے نزدیک کافر نہ ہوگا۔ اور جس نے جان بوجھ کر قصداً کلمہ کفر کہا وہ سب کے نزدیک کافر ہوگیا۔(ت)
( ۲ ؎ ۔البحرالرائق    کتاب السیر    باب احکام المرتدین    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۵)
طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے :
التکلم بما یوجبہ (ای الکفر) طائعاً من غیر سبق اللسان عالماً بانّہ کفر (کفر) بالاتفاق  ، وکذاالفعل ولوھزلاً ومزاحاً بلا اعتقاد مدلولہ ، بل مع اعتقاد خلافہ (بقلبہ) فانہ یکفر عنداﷲ تعالٰی ایضاً فلا یفیدہ (فی عدم الکفر) اعتقاد الحق (بقلبہ ) لانّ ذٰلک جعِلَ کفراً فی الشرع  ،  فلا تعمل النیّۃ فی تغییرہ۳ ؎ 

اھ ملخصا
موجب کفر کے ساتھ تکلم جب کہ بخوشی بغیر سبقت لسانی کے ہوا اور متکلم جانتا ہو کہ یہ کلمہ کفر ہے بالاتفاق کفر ہے یہی حکم فعل کفر کا ہے اگرچہ ہزل ومزاح کے طور پر ہو اور اس کے مدلول کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالٰی کے نزدیک بھی کافر ہوگا اور دلی طور پر حق کا معتقد ہونا اس عدم کفر میں مفید نہ ہوگا۔ کیونکہ اس کو شرع میں کفر قرار دیا گیا ہے لہذا نیت اس کی تبدیلی میں عمل نہیں کرسکتی اھ تلخیص (ت)
( ۳ ؎ ۔الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ    الخلق الخامس  ،  مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد  ۱ /۴۵۰)
رہا یہ کہ فلاسفہ کے طور پر کہا ، اقول : سچ ہے ،  ہم کب کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے طور پر کہا  ،  آخر جو کلمہ کفر کہا جائے گا والعیاذ باﷲ تعالٰی( اﷲ تعالٰی کی پناہ ت) وہ غالباً کسی نہ کسی فرقہ کافرہ کے طور پر ہوگا۔ پھر کیا اس قدر اس حکم سے نجات دے سکتا ہے؟ _____حاشا و کلّا ( ہر گز ہر گز نہیں۔ت)
زید متفلسِف سے استفسار کیجئے ،  بھلا اُسے کفر تو جانتا تھا کہیں اس عبارت میں اس کے رَدّیا اُس سے تَبرّی کی طرف بھی اشارہ کیا؟_____کسی کلمہ، کسی حرف سے کراہت وناپسندی کی بُو بھی آتی ہے؟ ہیہات ہیہات !! نہ ہرگز ہرگز کوئی لفظ ایسا لکھا جس سے معلوم ہوتا کہ دوسرے کا قول نقل و حکایت کرتا ہے ،  بلکہ اس سب کے برعکس اسے لفظ التحقیق کے نیچے داخل کیا۔ اور "قولِ وسیط" میں ھٰذا التحقیق کہا جس نے رہا سہا بھرم کھول دیا
فانَّا ﷲ  وانّا الیہ راجعون
(بے شک ہم اﷲ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت)
آئمہ دین ، یہاں تک کہ خود مُنَقّحِ مذہب حضرت امام ربانی ابوعبداللہ محمد بن حسن شیبانی اللہ تعالٰی عنہ تصریح فرماتے ہیں کہ :"جو شخص اپنی زبان سے المسیح ابن اﷲ (مسیح اﷲ تعالٰی کا بیٹا ہے۔ ت) کہے اور کوئی لفظ ایسا کہ حکایت قول نصارٰی پر دلیل ہو ،  ذکر نہ کرے  ، اگرچہ قصدِ حکایت کا دعوٰی کرتا رہے ،  ہر گز سچا نہ ٹھہرائیں گے اور عورت نکاح سے نکل جانے کا حکم دیں گے"۔
علامہ بدر الدین رشید حنفی رسالہ الفاظِ مُکْفِرہ میں فتاوٰی صغرٰی وغیرہا سے ناقل!
وقالت للقاضی سمعت زوجی یقول المسیحُ ابنُ اﷲ فقال انما قلت حکایۃ عمّن یقولہ ، فانّہ اقرّ انّہ لم یتکلم الا بھٰذہ الکلمۃ بانتِ امرأتہ  ۱ ؎ ۔
اگر کسی عورت نے قاضی کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ  مسیح اﷲ کا بیٹا ہے اس پر شور نے کہا کہ میں نے یہ کلمات اس شخص کی طرف سے نقل کرتے ہوئے کہے جو اس کا قائل ہے اور شوہر نے اقرار کیا۔کہ اس نے یہی کلمات کہے ہیں تو اس کی عورت بائنہ ہوجائے گی۔(ت)
 ( ۱ ؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃ مصطفیٰ البابی مصر ،  ص ۱۹۴ )
اُسی میں ہے :
قال محمد ان شہدالشہود انّھم سمعوہ یقول المسیح ابن اﷲ،  ولم یقل غیر ذٰلک ، یفّرق القاضی بینھما ولا یصدّقہ  ۱ ؎ ۔
امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگر گواہ گواہی دیں کہ انہوں نے شوہر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسیح اﷲ تعالٰی کا بیٹا ہے ، اور اس کے علاوہ کوئی کلمہ اس نے نہیں کہا تو قاضی اس شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کردے گا اور شوہر کی تصدیق نہیں کرے گا۔(ت)
 ( ۱ ؎۔ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحاً وکنایۃً  ،  مصطفٰی البابی مصر ص ۱۹۴ )
سبحان اﷲ ! جب اس مسئلہ میں _____جہاں قرین قیا س کہ اس نے لفظِ حکایت کہا ہو اور زن وشہود نے نہ سنا ،  حکم بینونت دیتے ہیں تو آدمی کفرِ صریح سے کتاب کو گندہ کرکے اور اسے وھذا التحقیق کے زیور پہنا کے کیونکر سبیلِ نجات پاسکتا ہے۔
ونسألُ اﷲ الْعَافِیّۃ
(ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت مانگتے ہیں۔ت)
سیدنا امام اجل ، عالم المدینہ مالک بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک شخص کی نسبت سوال ہوا کہ اس نے قرآن کریم کو مخلوق کہا۔فرمایا کافر ہے ،  قتل کردو ،  اس نے عرض کی : میں نے تو اوروں کا قول ذکر کیا ہے۔ فرمایا  ہم نے تو تجھ سے سُنا ہے۔

اِعلام بِقواطع الاسلام میں ہے :
سأل رجل مالکاعمن یقول القرٰان مخلوق ،  فقال مالک  : کافر ،  اقتلوہ ،  فقال : انمّا حکیتہ ، عن غیری ، فقال مالک  :  انما سمعناہ منک  ۲ ؎
ایک شخص نے امام مالک سے اُس شخص کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔ آپ نے فرمایا : وہ کافر ہے اس کو قتل کردو۔ اس شخص نے کہا : میں نے تو دوسروں کی بات نقل کی ہے ،  تو آپ نے فرمایا : ہم نے تو تجھ ہی سے یہ سُنا ہے۔(ت)
( ۲ ؎ ۔اعلام بقواطع الاسلام      الفصل الثالث       مکتبۃ الحقیقۃ استنبول ترکی     ص ۳۸۵)
بلکہ علمائے دین تصریح فرماتے ہیں کہ ایسی باتیں بہ تصریح حکایت بیان کرنا بھی حرام و ناروا ،  اور حکایت کنندہ مستحق سزا ، جب تک غرض محمود و مہم عندالشرع ۔ مثلِ تحذیر خلق و اظہارِ حق وابطال باطل _____یا دارالحکم میں دعوٰی و شہادت بہ غرضِ قتل و عقوبت قائل وغیرہا ضرورات د ینیہ پر مبنی و مشتمل ،  اور علانیہ اظہارِ بیزاری و کراہت و تبری سے مقرون و متّصِل نہ ہو۔

امام علامہ قاضی عیاض مالکی قدِسَ سّرُہ ،  شفا شریف اور علامہ شہاب الدین احمد خفا جی حنفی ، رحمۃ اﷲ تعالٰی اس کی شرح نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
امّا ذکر ھا علٰی غیر ھذا (الوجہ من الرّدّ والابطال و نحوہ مما مرّ) علٰی وجہ الحکایات والخوض فی قیل وقال وما لایعنی فکل ھذا (المحکی) ممنوع ( غیر جائز شرعاً) وبعضہ اشدّ فی المنع والعُقُوبۃ من بعض ،  فما کان من قائلہ الحاکی لہ ،  (عن غیرہ) علی غیر قصدٍ ومعرفۃ بمقدارماحکاہ  ،  ولم یکن الکلام (الذی حکاہ) من البشاعۃ حیث ھو ولم یظھر علٰی حاکیہ استحسانہ واستصوابہ زُجرَ (وَوُبِّخَ) ونھی عن العود الیہ وان قوم ببعض الادب فہو مستوجب لہ ،  وان کان لفظہ من البشاعۃ حیث ھو ، کان الادب اشدّ  اھ ملخصاً ۱ ؎ ۔
ان کلمات کفریہ کو رد و ابطال وغیرہ وجوہ مذکورہ کے علاوہ بطور حکایات نقل کرنا یا لایعنی قیل و قال کے طور پر ذکر کرنا سب ممنوع اور شرعاً ناجائز  ہے ، اور ممانعت و عقوبت میں بعض کلمات بعض سے شدید تر ہیں۔ چنانچہ جو کچھ ناقل نے لاقصد تحقیر حکایت کیا جب کہ وہ اس کی شناعت کی حد سے بے خبر ہے اور وہ ایسا کلام نقل کرنے کا عادی بھی نہیں بلکہ محض نادراً اس سے ایسے کلام کا صدور ہوا ،  اور وہ کلام بھی حد درجے کا قابل اعتراض نہیں اور یہ بھی ظاہر نہیں ہوا کہ ناقل نے اس کلام کو مستحسن و پسندیدہ سمجھا ہے تو اس کو زجرو توبیخ کی جائے گی اور ایسے کلام کے اعادہ سے منع کیا جائے گا اگر اس کو کچھ سزا دی جائے تو وہ اس کا مستحق ہے۔ اور اگر ا س کے الفاظ زیادہ قابلِ اعتراض ہیں تو ناقل کو سزا بھی زیادہ سخت دی جائے۔ اھ ملخصاً (ت)
 ( ۱ ؎ ۔ الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ فصل الوجہ السادس المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ   ۲ /۳۶۔ ۲۳۵)

( نسیم الریاض فی شرح شفا القاضی عیاض   فصل الوجہ السادس   مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند   ۴ /۴۲۲ تا ۳۲۴)
اقول : اور کیونکر حرام نہ کہیں گے حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ حدیث موضوع کی روایت بے ذکر رد و انکار ناجائز ہے۔
وھذا ما اُخِذبہ علی الحافظین المعاصرین ابی نعیم وابن مندۃ
( اور اسی وجہ سے دو ہمعصر حافظوں ابونعیم اور ابن مندہ کا مواخذہ کیا گیا ۔ت) اور یہاں مجردبیانِ سند سے براء ت عہد نہیں۔
 صَرَّح بہ الشمس الذھبی وغیرہ من آئمۃ الشان
(امام شمس الذہبی اور دیگر عظیم الشان آئمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ت) تو جب وہاں یہ حکم ہے باآں کہ صدہا احادیثِ موضوعہ کے مضمون حق و نافع ہوتے ہیں ،  تو اُن اختلافاتِ ملعونہ کی مجردد حکایت کیونکر حلال ہوگی جو صریح مخالفِ اسلام و مہلک ہائل و مضر عظیم و سم قاتل ہیں۔
 نساَلُ اﷲ العافیۃ
  ( ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)

بلکہ بہت آئمہ ناصحین رحمۃُ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین تو بروجہِ رد و ابطال بھی ،  ایسی بلکہ ان سے بدرجہا کم خرافات کی اشاعت پسند نہیں کرتے۔ اور ایک یہ وجہ بھی ہے جس کے سبب کلامِ متاخرین پر ہزاروں ہزار طعن و انکار فرماتے ہیں،
فَصَّل بعضہ الفاضل علیُّ القاری فی شرح الفقہ الاکبر
 ( جیسا کہ اس میں سے بعض کی تفصیل امام فاضل ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں کی ہے۔ت)

حتّی کہ سیدنا امام ہمام عماد السنہ احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدنا عارف باﷲ امام الصوفیہ حارث محُاسبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس وجہ پر ملاقات ترک کردی اور فرمایا۔
ویحک الستَ تحکی بدعتھم اوّلاً ثمّ تَرُدُّ علیھم  ،  الستَ تحمل الناس بتصنفک علٰی مطالعۃ البدعۃ  ، والتفکر فی الشبہۃ  ،  فید عوھم ذٰلک الی الرَّأیِ والبحثِ والفتنۃ  ۱ ؎
تجھ پر افسوس  ، کیا تُو پہلے اُن کی بدعات کو نقل نہیں کرتا پھر اُن کا رَد کرتا ہے کیا تو اپنی تصنیف کے ذریعے لوگوں کو بدعت کے مطالعہ اور شبہات میں غور کرنے پر برانگیختہ نہیں کرتا ہے؟ چنانچہ یہ بات ان کو رائے  ،  بحث اور فتنہ کی طرف دعوت دیتی ہے۔(ت)

اگرچہ ہے یوں کہ رد اہل بدعت ،  وقت حاجت اہم فرائض سے ہے۔ اور خود امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رَدِّ جہمیہ میں کتاب تصنیف فرمائی۔
وفی حدیثٍ عندالخطیب وغیرہ انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال :  اذا ظھرت (عہ)  الفتن اوقال البدع وسُبَّ اصحابی فلیظھر العالم علمہ ، فمن لم یفعل ذٰلک فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین ، لایقبل اﷲ منہ صرفاً ولا عدلاً  ۱ ؎
خطیب وغیرہ کے نزدیک ایک حدیث میں رسول اللہ نے فر مایا : جب فتنے ظاہر ہوں یا فرمایا جب بدعتیں ظاہر ہو اور میرے اصحاب کو سبب وشتم کیا جائے تو اہلِ علم کو اپنا علم ظاہر کرنا چاہیے ،  جس نے ایسا نہ کیا اس پر اﷲ تعالٰی  ،  تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ، اﷲ تعالی اس کے فرض و نفل کو قبول نہیں کرے گا۔(ت)
  عہ : اقول  فانظر الٰی قولہ" ظَھَرت"  یظھرلک الماخذان  ،  واﷲ تعالٰی اعلم ، ۱۲ منہ (قدس سرہ ، )
میں کہتا ہوں یہ تقوجیہ نہیں بلکہ تو ضیح ہے کیونکہ اللہ سبحٰنہ وتعالٰی کی صفات ہمارے نزدیک اس کا غیر نہیں ہے جیساکہ اس کا عین بھی نہیں ۱۲ منہ(ت)
 ( ۱ ؎ ۔الفردوس بمأثور الخطاب     حدیث ۱۲۷۱     دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۱ /۳۲۱)

(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر   حدیث ۹۰۳      ۱ /۱۷۸   و   حدیث ۲۹۱۴۰      ۱ /۲۱۶)

(رسالہ در رد روافض امام ربانی ،  نولکشور لکھنؤ ص ۱  )
بالجملہ اس میں شک نہیں کہ زید کی دونوں عبارتیں صریح کلمہ کفر ____ اور انہیں یوں داخل کتب کرنے میں کوئی عذر قابل قبول نہیں ، واللہ  المستعان (اور اللہ تعالٰی ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ت)۔
Flag Counter