Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
22 - 212
لاجرم ایسی مجاریت صدق حقیقی کی نافی نہ ثبوت واقعی کے منافی ____ تو زید کا یہ بیان علی الاعلان منادی کہ عقول عشرہ سے صرف خالقیت ذاتیہ منفی ، ورنہ حقیقتہً وہ خالق عالم ہیں جیسے چاند منیر زمین اگرچہ یہ خالقیت حق جل وعلا سے مستعار ،جس طرح شمس سے قمر کے انوار۔
قرآن و اہل قرآن سے پوچھ دیکھئے کہ یہ عقیدہ ان کے نزدیک کس درجہ بطلان پر ہے۔ حاش ﷲ ! نہ اﷲ کے سوا کوئی خالق بالذات ، نہ ہر گز ہرگز اس نے منصب ایجاد عالم کسی کو عطا فرمایا کہ قدرت (عہ)مستفادہ سے خالیقت کیا کرے۔
سبْحٰنہ وتعالٰی عمّا یشرکون  ۱ ؎
 ( اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے۔ت)
 ( ۱ ؎۔ القرآن الکریم ۱۰/ ۱۸   و  ۱۶/۱   و ۳۰/ ۴۰ )
عہ :   انی اخلق لکم من الطین کہیئۃ الطیر  ۲ ؎ ______ فلا یخفٰی علٰی ذی لُبٍ  انّ فیہ تبدیل الجسم التعلیمی دون ایجاد الطبعی ،  بل ذٰلک ایضاً______ اعنی زوال ابعاد و حدوثَ اُخرٰی______ اِنّما ھو علٰی طریقۃ الحکماء القائلین بالکم المتصل واما المتکلمون فلم یحدث عندھم فی الطین شیئ لم یکن ، ولم یزل عنہ شیئ قد کان ،  وانما انتقلت الجواھر الفردۃ من طولٍ الٰی عرض اوبالعکس مثلاً کما صرّاحوابہ فی الشمعۃ ______ وھذا ھو معنی تصویر الملک المؤکل بالرحم الجنین فیھا ،  فلیس الا ابداءُ ھیأت لاجزاء الجسم  ،  لا ایجاد لحمٍ اوشحم اوعظم واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (قدس سرہ)
بے شک میں تمہارے لیے مٹی سے پرندہ کی سی صورت بناتا ہوں  ، کسی عقلمند پر پوشیدہ نہیں کہ یہ جسم تعلیمی کی تبدیلی ہے نہ کہ جسم طبعی کی ایجاد  ، بلکہ یہ بھی یعنی بعض ابعاد کا زوال اور دوسرے ابعاد کا حدوث بھی ان حکماء کے طریقہ پر ہے۔ جو کم متصل کے قائل ہیں۔ رہے متکلمین تو ان کی نزدیک گارے میں کوئی ایسی شے پیدا نہیں ہوئی جو پہلے نہ تھی اور نہ کوئی شے زائل ہوئی جو پہلے وہاں نہ تھی۔ بلکہ فقط جواہر فردہ کا طول سے عرض یا عرض سے طول کی طرف انتقال ہوا جیسا کہ موم کے باری میں انہوں نے تصریح کی۔ ماں کے پیٹ میں مؤکل فرشتی کے جنین کی صورت بنانے کا بھی یہی معنی ہے۔ یہ تو محص اجزاء جسم کو ایک ہیات دینا ہے نہ کہ گوشت ،  چربی اور ہڈیوں کو موجود کرنا۔ اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہی ۱۲ منہ (قدس سرہ)
( ۲ ؎ ۔ القرآن الکریم ۳ /۴۹ )
بالجملہ باری تبارک و تعالٰی کو کسی شیئ کی تدبیر و تصرف سے بے تعلق  ،  یا اس کے غیر کو خالق جواہر ،  خواہ ایجاد باری تعالٰی کا متمم کہنا قطعاً جزماً کفریاتِ خالصیہ  ______  اور یہ سب مسائل اجلی ضروریات دین سی ہیں ____  بلکہ ان میں بھی ممتاز ______  اور اپنے کمال وضوح میں تجشم ایضاح سے غنی و بے نیاز۔
تنبیہ : ہاں عجیب نہیں کہ زید کو سرگرمی و ساوس ان عذر بارد پر لائے کہ ان میں ان امور کا دل سے معتقد نہیں ،  یہ تو میں نے فلاسفہ کے طور پر لکھ دیا ہے۔
اقول :
 ( میں کہتا ہوں ، ت)
 لاتعدم الخَرقاءُ حیلۃً
( کوئی مکار عورت حیلہ سازی سے خالی نہیں ہوتی ، ت)  ______ بین وواضح کہ یہاں کوئی صورت اِکراہ نہ تھی ،  اور بِلا اکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر ،  اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ،  اور عامہ علما فرماتے ہیں کہ اس سے نہ صرف مخلوق کے آگے بلکہ عند اﷲ بھی کافر ہوجائے گا کہ اس نے دین کو معاذ اﷲ کھیل بنایا اور اس کی عظمت خیال میں نہ لایا۔
امام علامہ فقیہ النفس فخر الدین اوزجندی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ خانیہ میں فرماتے ہیں :
  رجل کفر بلسانہ طائعاو قلبہ علی الایمان یکون کافراً ،  ولا یکون عنداﷲ مؤمنا  ۱ ؎ ۔
جس شخص نے زبان سے بخوشی کلمہ کفر کہا ،  حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہوجائے گا اور وہ اللہ تعالٰی کے نزدیک مومن نہ ہوگا۔(ت)
 ( ۱ ؎۔فتاوٰی قاضیخان کتاب السیر باب مایکون کفرامن المسلم ومالایکون الخ نولکشور لکھنؤ  ۴ /۸۸۱ )
حاوی میں ہے :
من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فہو کافرولیس بمؤمن عند اﷲ ۲ ؎ ۔
جس نے زبان سے کفر بکا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہے اور اﷲ تعالٰی کے نزدیک وہ مومن نہیں ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎ ۔ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبربحوالہ الحاوی مطلب فی ایرادا لالفاظ المکفرۃ مصطفی البابی مصر ص ۱۶۵)
مجمع الانہر وجواہر الاخلاطی میں ہے :
  وھذا الفظ المجمع
( اور یہ لفظ مجمع کے ہیں۔ت) :
من کفر بلسانہ طائعاوقلبہ مطمئن الایمان فھو کافر ولاینفعہ مافی قلبہ ،لانّ الکافر یعرف بما ینطق بہ بالکفر فاذا نطق بالکفر کان کافرا عندنا وعنداﷲ تعالٰی ۱ ؎ ۔
جس نے بخوشی زبان سے کفر بکا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے تو وہ کافر ہے ، اور جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ اس کو نفع نہ دے گا کیونکہ کافر تو منہ سے بولے ہوئے کفر سے پہچانا جاتا ہے جب اس نے زبان سے کفر بول دیا تو وہ ہمارے نزدیک اور اﷲ تعالٰی کے نزدیک کافر ہوگیا۔(ت)
( ۱ ؎ ۔مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر   کتاب السیر    باب المرتد دار احیاء التراث العربی بیروت  ۱ /۶۸۸)
Flag Counter