Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
212 - 212
عرب صاحب کی عربی دانی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ  ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔
عرب صاحب کی تحریراتِ ثلاثہ کا مجموعہ صرف انتیس سطریں ہیں انہیں میں ملاحظہ ہو کہ عربیت وفصاحت کی کیا بہتی نہریں ہیں۔ مثلاً بطور نمونہ معروض:

(۱) ان (ص۵) ای قسم من اقسام التقلید فرضاً قطعیا۔ ان کی خبر منصوب

(۲) جمادی (ص۵) الثانی مونث کی صفت مذکر۔

(۳) حضرت نے جمادے کا کوئی تیسرا بھی دیکھا ہوگا کہ عرب ثانی بے ثالث نہیں بولتے۔

(۴) مہینے کا علم جمادے الاخرہ ہے اعلام میں تصرف کیسا !( اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو۔فافہم)

(۵) بخدمت (ص۱۷) حضرۃ العالم بہ تائے کشیدہ یہ متعلق املا ہے۔ خط کی خطاء ہے، بحث فصاحت سے جدا ہے مگر علم کا پتا ہے۔

(۶) جناب ص ۱۷ مولوی الف ہضم ہوا تو ہوا لام تو ٹیڑھی کھیر تھا۔

(۷) قادری ص۱۷ موصوف معرفہ صفت نکرہ ۔

(۸) القول (ص۱۷) بان لاولیاء اﷲ رضی اللہ تعالٰی عنہم تصرف ان کا اسم مرفوع، مگر ہاں ادعائے محدّثی ہے۔

(۹) ۵ ذوالقعدۃ (ص۳۲)

(۱۰) ۱۱ ذوالقعدۃ مضاف الیہ مرفوع مگر یہ کہیے کہ قلم ہی مرفوع۔

ان کے سوا اور بھی بعض مواقع محل کلام، اور خود عشرۃ کاملۃ ہی کیا کم ہیں ، جو آدمی ۲۹ سطریں لکھے اور ۱۰ غلطیاں کرے وہ ضرور فصیح ادیب ہوا، خصوصاً جہاں عربی الاصل ہونے کا ادعاء ۔

بات یہ ہے کہ عرب صاحب کو عرب شریف میں رہنے کا اتفاق بہت کم ہوا ، عمر کا زیادہ حصہ ہندوستان میں گزرا بہتر ہو کہ آئندہ عربی کو کم تکلیف دیں، اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو ہی خرچ کریں، تاویلات کا دروازہ کشادہ ہے۔
لاتعدم خرقاء حیلۃ
( چتر کے لیے حیلوں کی کمی نہیں۔ت) مگر سعتِ کلام میں مجروح و مطروح و شاذ ناممدوح کا دامن پکڑنا تسلیم اعتراض ہے گو پردے کے اندر۔
لطیفہ

عرب صاحب کا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء
آپ نے اپنی ادب دانی کھولنے کو چند اوراق کی اہاجی لکھی ہے جس میں اطفال مکتب سے کچھ لے دے کر، کچھ ادھر ادھر سے سیکھ سکھا کر دادِ ادب دی ہے اس میں انّ مکسورہ سے شاذ نادر نصب خبر میں حدیث :
ان قعر جہنم سبعین خریفا ۔ ۲ ؎
 ( جہنم کی گہرائی ستر خریف ہے۔ت) تحریر کی اور بے دھڑک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کردی کہ قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیراان قعرجہنم سبعین خریفا، مجتہد صاحب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر یہ کھلا افتراء متداول کتاب تک رسائی محال اور اجتہاد کا ادعاء جنابِ من یہ قول ابوہریرہ فارسی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہ اور اس کی نسبت باقی کلام کی ان سطور میں وسعت نہیں۔ آپ کو ہوس ہوئی تو پھر معروض ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی وباﷲ التوفیق۔
عہ: بالہاء لابالحاء ۱۲
 ( ۲ ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ، قدیمی کتاب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۲)
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ
یہ مجتہدصاحب تو نیچری کانفرس کے رکن رکین نکلے
جب سے پہلے خط کا جواب گیارامپور سے عرب صاحب کی بدمذہبی کی نسبت متعدد خبریں آیا کیں جن کے سبب اگر حکم بالجزم میں احتیاط رہی مگر  کیف وقد قبل  طرز کتابت میں تبدیل ہوئی نامہ دوم سے القاب وسلام تحریر نہ فرمائے گئے کہ مبتدع کو سلام اور اس کا اعزاز و اعظام شرعاً حرام، فقیر کا یہ رسالہ ۱۵ ذوالحجہ کو تمام و کمال چھپ چکا کہ خبر وثوق نام کے ساتھ آئی کہ عرب صاحب نے نیچریوں کی ممبری پائی، اب ان کی رُوداد تلاش کی گئی، یہاں نہ ملی، نیچریوں سے ویلومنگائی انہوں نے نہ دی بمشکل بعض صاحبوں کے یہاں سے ضمیمہ کانفرنس رامپور ۱۹۰۰ء ملا، دیکھا تو صفحہ ۲۷ پر ط کی ردیف میں سب سے اونچے جلوہ گر ہیں۔ حرص کے نمبر ۲۹۸ دے کر لکھا ہے مولوی محمد طیب صاحب عرف ( عہ۱) مدرس اعلٰی مدرسہ عالیہ رامپور پانچ روپے ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! اب غیر مقلدی کی شکایت کیا ہے وہاں چوکھا رنگ نیچریت کا چڑھا ہے۔ افسوس عرب کا نام بدنام کیا۔، ممبری کی اُنچ اُنچی تھی تو اسلامی نام کے بہت جلسے تھی مگر یہ فخر کہاں سے کہ جہاں مولوی طیب صاحب پانچ روپے پر ہیں وہیں طابق النعل بالنعل لالہ بھگوتی پرشاد (۱۲۹) بابوپربھودیال (۱۳۴) لالہ بنارسی داس (۱۲۴) بھی برابر وہمسر ہیں بلکہ لالہ برج کشور (۲۴) منشی بلا قید اس (۲۷) منشی پیارے لال (نمبر۲۸) وغیرہ وغیرہ آپ سے کمتر ہیں کہ عرب صاحب پانچ روپے کے ممبر، وہ دو دو روپے کے وزیٹر ہیں اگرچہ بابو برہما نند (۱۳۰) بابوبھولانا ناتھ (۱۲۶) لالہ برج بھوکن سرنداس (۱۲۸) طیب صاحب کے اوپر ہیں کہ یہ پانچ ہی کے ہو ئے وہ دس دس اور پچیس پچیس کے اعلی ممبر ہیں طیب صاحب معاف فرمائیں انہیں ختمِ سال تک مہلت تھی کہ تلاش روئیداد ہی میں ختم ہوئی۔ ۱۵ محرم ۱۳۲۰ھ تک مہلت سہی اگرچہ جب نیچریت ٹھہری تو اس بحث کی کیا حاجت رہی۔
حسبنا اﷲ ونعم الوکیل وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا محمد والہ واصحابہ اجمعین ، آمین ۔
عہ۱:  مطبع مفید عام میں تصحیح کا بھی اہتمام ہے، یہ لفظ یونہی (عرف) چھپا ہے شاید (عرب )، صاحب برج ستارہ ممبری کی ( ب) کثرتِ استعمال سے (ف) ہوگئی۱۲)
نوٹ :   جلد ۲۷ کتاب الشتی کے حصہ دوم ، مناظرہ و رَدِّ بدمذہبان کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی، جلد ۲۸ کتاب الشتی کے حصہ سوم سے شروع ہوگی ان شاء اللہ۔
Flag Counter