Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
211 - 212
خاتمہ
وہ سوالات کہ عرب صاحب سے کیے گئے اور انہوں نے جواب نہ دیئے اور انہیں بار بار مطلع کردیا ہے کہ بے ان کے جواب کے آپ کی خارجی باتیں مسموع نہ ہوں گی۔

س ۱: کچھ احکامِ شرع ایسے ہیں یا نہیں کہ ابتداءً ان کا علم بے نص صریح یا اجتہاد مجتہد کے نہ ملے گاٰ۔

س ۲ : کیا تمام آدمی جمیع احکام کے عالم، معانی نصوص کو محیط، اجتہاد پر قادر ہیں؟

س ۳: کیا جاہلان عاری شترانِ بیمہار ہیں ان پر شریعت کے احکام نہیں؟

س ۴: ان کے لیے احکامِ الہی جاننے کی کیا سبیل ہے اس سبیل کا اختیار ان پر فرض ، واجب ، جائز کیسا ہے؟

س ۵: آپ نے اپنی عمر تک اللہ تعالٰی کو کیونکر پوجا اور بندوں سے کس طرح معاملہ کیا، اجتہاد سے یا تقلید سے، آپ شروط  اجتہاد سے پُر ہیں یا خالی ؟

س ۶: آپ کو علوم شرعیہ کے تمام اصول و فروع میں اجتہاد پہنچتا ہے یا بعض میں ؟ برتقدیر اخیر جس میں آپ مجتہد ہیں، اس کی تعیین کیجئے اور جس میں نہیں اس میں اپنی راہ بتائیے، برتقدیر اول فقہی مسائل اجتہادی کی دس گھڑی ہوئی صورتیں لائیے جن کا حکم خاص آپ نے استنباط کیا ہو جس کی بنا کے ظاہر و باطن و جرح و تعدیل و تفریع وتاصیل میں آپ دوسر ے کی سند نہ پکڑیں۔

س ۷: تقلید شخصی آپ کے نزدیک کفر ہے یا حرام یا مباح یا واجب؟

س ۸: ائمہ و اقوال میں ہر مکلف نامجتہد کو تخییر ہے یا حکم تخیر اور اس کی کیا سبیل ؟

س ۹: یہ تخییر یا تخیُّر مطلق ہے یا چار اکابر میں محصور ؟

س ۱۰: تلفیق فسق ہے یا جائز؟

س ۱۱: مختلف اعمال میں یا ایک میں بھی ؟

س ۱۲: قبل عمل یا بعد میں ؟

عرب صاحب کو اب ہم مطالبان حق اپنی طرف سے ازسر نو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ختم سال تک ان مسائل کا مفصل جواب دے دیں جس بات میں اجمال رہے گا یا آپ کے بیان پر ایضاحِ حق کے لیے اور سوال پیدا ہوگا پھر عرض کرکے صاف کرلیا جائے گا یہاں تک کہ بعونہ تعالٰی حق و اضح ہو واخر دعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین وصلی اللہ تعالٰی علی سیدنا محمدوالہ وصحبہ امین۔
سید عبدالکریم قادری غفرلہ ۱۲ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ
تنبیہ : جواب مفصل ہوں مواقع ضرورت و عدمِ ضرورت وغیرہا قیود و تخصیصات جو مکنون خاطر ہوں مصرح ہوں ورنہ مطلق اطلاق پر محمول رہے گا اور بعد وردو اعتراض ادعائے تخصیص وتقیید وتاویل مسموع نہ ہوگا۔

تنبیہ : ہر سوال کا جواب مدلل ہو اور اپنے لیے جو منصب قرار دیجئے دلائل اس منصب کے نصاب پر مکمل ورنہ بے محل سرود مطبوع نہ ہوگا،
والحمدﷲ اولا واخرا والصلوۃ علی رسولہ والہ باطناً وظاھراً امین۔
عرب صاحب کی تہذیب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم 

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،
اس کے بعض نمونے تو عرب صاحب کے خط سوم میں جو آپ کو اسی رسالہ کے صفحہ ۳۲۴ پر ملے گا، ملاحظہ ہوں مگر عرب صاحب کی جو رودادِ تہذیب و انسانیت اب رامپور میں چھپ رہی ہے اس کی نسبت بعض علمائے کرام ساکنانِ رامپور کی مرسلہ تحریر نے عجب خبریں دی ہیں ذرا استماع فرمائیے۔

بملاحظہ مخدومی مکرمی جناب مولوی سید عبدالکریم صاحب زید مجدہم، تسلیم ، مولوی طیب صاحب عرب ایک رسالہ بنام  ملاطفۃ الاحباب چھپوا رہے ہیں، اس کے بیانات کی بے حد غلطیاں تو اہل علم جانیں گے مگر طرزِ کلام میں نہایت تہذیب وانسانیت کو کام فرمایا ہے میں نے حضرت عالم اہلسنت کے خطوط انہیں کے رسالے میں دیکھے جس میں صرف عالمانہ کلام ہے مگر ان صاحب کی غصہ ناک تحریر نے کوئی دقیقہ بد زبانی کا اٹھا نہ رکھا، اس کے بعض اوراق چھپ گئے ہیں انہی سے کچھ انتخاب ملاحظہ ہو۔

ص ۴: یہ شخص خود اپنا کہا نہیں سمجھتا۔

ص ۶: یہ شخص مسلمانوں کا بھی مخالف ہے اور عاقلوں کے بھی خلاف۔

ص۲ ۱: یہ شخص ان لوگوں میں ہے جو اپنا گھر اپنے ہاتھوں بھی خراب کرتے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی یہ یہودی کا بیان ہے۔

ص ۴ ۱: بیڑیاں پاؤں میں ہیں اور مکرکرتا ہے۔

ص ۳۰: ناصرِ بدعت دشمنِ موحدین مکفّرِ محدثین ۔

ص ۳۰: علمی مذاکرے کے لائق نہیں۔

ص۳۲: آپ کاٹے اور چِلائے ۔

ص ۳۳: مردہ بے حیات یہاں تک کہ ص ۱۵ سطر ۱۱ میں صریح فحش تک تجاوز کیا ہے۔

ایسی ناپاک تحریر کا اگر آپ یااور کوئی صاحب رد لکھیں تو بہتر یہ ہے کہ حلم سے کام لیں جو شانِ علم ہے۔ 

والسلام ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ انتہٰی۔
ہمیں اپنے معزز دوست کی یہ رائے بجان و دل منظور ہے، تحریر دیکھی جائے گی، اگر سوا ایسی ہی خرافات کے کچھ نہ ہوا تو اہلِ علم بلکہ ہر عاقل کے نزدیک وہ آپ ہی اپنا جواب ہے ورنہ اس کی زبان درازیوں سے اعراض ہوگا اور اس کی جہالتوں پر بعون اﷲ تعالٰی اعتراض عرب صاحب اپنی تہذیبوں کا جواب اگر عرب کی مثل سے چاہیں تو اول العی الاحتلاط یعنی جو عاجز آتا ہے غصے میں بھرجاتا ہے۔
ومن اطاع غضبہ اضاع ادبہ :
جو غصے پر چلے گا ادب ہاتھ سے کھوئے گا۔
البغل التغل وھولذلک اھل یعنی لؤم اصلہ فخبث فعلہ :
اگر اشعار سے چاہیں تو کثیر عزہ کے یہ دو شعر بس ہیں۔
یکلفہا الخنزیر شتمی وما بہا	

ھوانی ولکن للملیک استذلت

ھنیئاً مریئاً غیرداء مخاصر 	

لغرۃ من اعراضنا ما استحلت:
یعنی ؎

بدم گفتی وخرسند عفاک اﷲ نکوگفتی !	

جواب تلخ می زیبدلب لعل شکر خارا
 (تو نے برا کہا اور میں خوش ہوں اللہ تعالٰی تجھے معاف فرمائے تو نے خوب کہا۔ کڑوا جواب شیریں سخن سرخ ہونٹوں سے اچھا محسوس ہوتا ہے۔(ت)
یہ تو عرب صاحب کی طرز پر امثال و اشعار سے جواب تھے اور ہمارا تیسرا پورا سچا جواب یہ ہے جو ہمارے رب عزوجل نے ہمیں تعلیم فرمایا کہ۔
سلٰم علیکم لانبتغی الجٰہلین ۲؂۔
پس تم پر سلام ہم جاہلوں کے غرضی نہیں(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲۸/ ۵۵)
واذاخاطبھم الجٰھلون قالوا سلٰماً ۱  ؎
اور جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام۔
 ( ۱ ؎القرآن الکریم ۲۵/ ۶۳)
واذا مرّواباللغو مرّواکراما ۲ ؎
  اور جب وہ بے ہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۷۲)
Flag Counter