پر عمل چاہا مگر اثر تادیب و کمال تہذیب کہ عرب صاحب کو معذور ہی رکھا اور ان کی نسبت کلام خوبی و اکرام ہی لکھا سارا قصور نفس امارہ پر طویلے کی بلا بندر کے سر ۔
(۱ القرآن الکریم ۷/ ۱۹۹ )
(۲ القرآن الکریم ۹ /۷۳)
نامی نامہ مولانا واعظ الدین صاحب بجواب ہماں خط سوم عرب صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ،
الی جناب الفاصل الوسیع المناقب السنیع المناصب المولوی طیبّ صاحب دامت عنایتھم
امّا بعد فاتت الیوم کریمتکم المسطورۃ ونمیقتکم الغیر المسطورۃ ضحی تاسع ذی القعدۃ یوم الاربعاء فوجدنا ھا علٰی خلاف ماھو الما مول من العلماء وایضاً علٰی خلاف ما عہد منکم فی اختیہا السالفتین فعلمنا انہا لیست من قبل قلبکم بل رشحۃ من النفس الامارۃ بالشین اذلیس فیہا جواب سوال الاکذب وفحش وجہل بضلال فسیدنا العلامۃ عالم اھل السنۃ مدظلہ ودام فضلہ لما کشف عن خدرھا ووقف علٰی ھذرھا وھجرھا لم یجد علیکم لاجلہا بل تبسم ضا حکا من قولہا
وقال رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صلحا ترضٰہ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصّٰلحین o
علما منہ بان لا معصوم الا من عصم اﷲ فکیف یؤخذ بجہل النفس صدیق قدیم ماکان یرضاہ ولکنا نحن خدام العتبۃ العلیۃ فی عجب عاجب من ھذہ القضیۃ کتاب یکتب ۱۱ ذی القعدۃ الحرام ویصل لحضرۃ المکتوب الیہ تاسع الشہر من ذلک العام وانا لموقنون انکم من مثل ھذاالکذب الجلی معزولون وانما ھو من تعاجیب نفس امارۃ ولم تدرالسفیھۃ ان منھا علی کذبہا لدلیل وامارۃ فان تاریخ ارسال القرطاس فی طابع بوسطہ رامفور ۱۸ فروری یوم الثلثاء و تاریخ وصولہ فی طابع بوسطۃ بریلی ۱۹ فروری یوم الاربعاء وھی تزعم انہا کتبت ۲۱ فروری یوم الجمعۃ الغراء فیالہا من ولادۃ قبل الحمل مالہا نظیر فی خارج ولا عقل، و لایخفی علی جنابکم الرفیع ان مثل ھذاالاحتیال الشنیع لا تقضی الابوقاحۃ المحتالۃ ولا تفضی الا الی فضیحۃ الفعالۃ وما ھی الا النفس الامارۃ اماقلبکم فلم یرض عارہ ولا عوراہ فتبین انہا لوارسلت الجواب لجاء قبل یوم الخمیس کہذاالکتاب ولٰکنہا عجزت فمکرت وکذبت وھجرت وزعمت انما بھذا سترت فواحش جہلہا ولا واﷲ ظہرت فیا مولانا الفاضل الکامل ان اسألک بما رزقت من العلم والفضائل ان تکبح عنا نہا عن الجھل والفحش والرذائل وقل لھا یا ھذہ تمضی الشہور وتنقضی الدھور و لاتردین الجواب ولوان السؤال کان طلاقاً علیکِ لخرجت من العدۃ وحللت للخُطّاب ثم اذاطولبت فحشتِ وھذرت و خدعتِ ومکرتِ والی الاٰن علیک باقیۃ من الزمان الی انقصاء الخمیس الموعود فان مضٰی ولم یصل جوابک ففحشک وجہلک علیک مردود ولا واﷲ یا امارۃ جہلت علی عالم واحتملت اثما احتملت لن یقبل منک الاالجواب عن کل ماسئلت و لا تظنی ان یلتفت العلماء الفحول الی ماتشحنین بہ جرابکِ من الجہل والفضول نعم ان طعنیت وبغیتِ والجہل بغیتِ فلعلک تجدین من یجہل علیک فوق ماتجھلین فتعضّی علٰی یدیک
وسیعلم الذین ظلمواای منقلب ینقلبون۱۔
ع
دعی عنک تھجاء الرجال واقبلی الخ
والسلام علٰی من اتبع الہدی وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علی المولی المصطفٰی والہ وصحبہ دائماً ابدا۔
کتبہ الفقیر
واعظ الدین القادری الاسلام آبادی
غفرلہ المولی الہادی
لتسع خلون من ذی القعدۃ ۱۳۱۹ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بجناب فاضلِ فراخ مناقب نیکی مناصب مولوی طیب صاحب دام عنایتہم۔
بعد حمد و صلوۃ واضح ہو آج نہم ذی القعدہ روز چار شنبہ وقت چاشت آپ کی گرامی کتابت اور بے پردہ (عہ) تحریر آئی ہم نے اس رنگ کے خلاف پائی جس کی علماء سے توقع تھی نیز اس طرز کے مخالف آئی جو اس کی دو اگلی بہنوں میں آپ کی طرف سے معرو ف رہے تو ہم نے جانا کہ وہ آپ کے قلب کی طرف سے نہیں بلکہ نفس امارہ کے چھینٹوں سے جو بکثرت عیب کی طرف داعی ہے اس لیے کہ اس تحریرمیں جھوٹ اور زبان درازی اور بہکی ہوئی جہالت کے سوا کسی سوال کا جواب نہ تھا تو ہمارے سردار علامہ عالمِ اہلسنت مدظلہ و دام فضلہ نے جب کہ اس کا پردہ کھولا اور اس کی بے ہودہ سرائی و پریشان گوئی پر وقوف پایا اس کے سبب آپ پر کچھ غضب نہ فرمایا بلکہ اس کی بات سے ہنستے ہوئے مسکرائے اور دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری ان نعمتوں کاشکر ادا کروں جو کہ تو نے مجھ پر اور میرے باپ دادا پر فرمائیں اور میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرمالے۔ وجہ یہ کہ حضرتِ والا کو معلوم ہے کہ معصوم تو وہی ہے جسے اللہ عزوجل نے عصمت عطا فرمائی تو نفسِ امارہ کی جہالت کے باعث ایک پرانے دوست پر جو ایسی باتوں کو ناپسند رکھتا تھا کیا مواخذہ ہو مگر خادمانِ آستانہ والا اس معاملے میں سخت عجب میں ہیں خط لکھا جائے تو جائے ذی القعدۃ الحرام کی گیارہویں کو اور حضرت مکتوب الیہ کے پاس پہنچے اسی سال اسی ذی القعدہ کی نویں کو، ہم کو یقین ہے کہ آپ ایسے سفید جھوٹ سے برکنار ہیں یہ تو اسی نفس امارہ کی انوکھیاں ہیں اور وہ احمق یعنی نفس امارہ (عہ)کی شرارت یہ نہ سمجھی کہ ا سکے جھوٹ پر خود اس کی طرف سے دلیل و علامت موجود ہے کہ مہر ڈاک خانہ رامپور میں روانگی کارڈ کی تاریخ ۱۸ فروری سہ شنبہ ہے اور مہر ڈاکخانہ بریلی میں پہنچنے کی تاریخ ۱۹ فروری روز چار شنبہ اور وہ شریرہ یہ بکتی ہے کہ اس نے یہ کارڈ ۲۱ فروری روز روشن جمعہ کو لکھا تو یہ پیش از حمل ولادت تو نہایت ہی عجیب ہے جس کی نظیر نہ خارج میں ہے نہ ذہن میں ، اور آپ کی جناب میں پوشیدہ نہیں کہ ایسے برے حیلے کا حکم نہیں ہوتا مگر اس سخت بدافعال کی رسوائی اور وہ حیلہ گربدکار کون ہے یہی نفسِ امارہ کی شرارت آپ کا قلب تو اس کذب و مکر کے عار و عیب پر راضی نہیں تو ظاہر ہوا کہ وہ شریرہ اگر جواب بھیجتی تواس کارڈ کی طرف جمعرات سے پہے آجاتا مگر وہ تو عاجز آئی لہذا فریب کیا اور جھوٹ بولی اور بے ہودہ بکا اور سمجھی کہ اس تدبیر سے اس کے جہل کی بے حیائیاں چھپ گئیں حالانکہ خدا کی قسم ظاہر ہوگئیں، تو اے مولانا فاضل کامل ! آپ کو جو علم و فضائل ملے انہیں ذریعہ بنا کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جہل اور فحش اور کمینہ باتوں سے اس شریرہ کی باگ روکیے اور فرمایئے کہ اے فلانی ! مہینے گزریں، زمانے پلٹیں اور تو جواب نہ دے اگر بالفرض وہ سوال تجھ پر طلاق بھی ہو تو تو ضرور اتنی مدت میں عدت سے نکل کر پیام دینے والے کے لیے حلال ہوگئی ہوتی پھر جب تجھ سے جوابوں کا مطالبہ ہو تو تُو فحش و بے ہودہ بکے اور مکرو فریب کرے اور ابھی روز موعود پنجشنبہ گزرنے تک تجھ پر کچھ زمانہ باقی ہے پس اگر وہ گزر گیا اور تیرا جواب نہ پہنچا تو تیرا فحش و جہل تیرے ہی منہ پر مارا جائے گا اور قسم بخدا اے وہ امارہ جو ایک عالم سے جہل کے ساتھ پیش آئی اور حاملہ ہوئی جس گناہ کی حاملہ ہوئی زنہار تجھ سے پذیرانہ ہوگا مگر ان تمام سوالات کا جواب دینا جو تجھ سے کیے گئے ہیں اور یہ گمان نہ کرنا کہ علماء فحول اس جہل و فضول کی طرف التفات کریں جس سے تو اپنی بوری بھررہی ہے ہاں اگر تو سرکشی اور زیادتی کرے اور جہل ہی چاہے تو کیا عجب کہ تجھے کوئی ایسا مل جائے جو تیرے جہل سے بڑھ کر تجھ سے جہل کرے پھر تو اپنے ہاتھ چباتی رہ جائے اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس پلٹے پر پلٹا کھاتے ہیں۔ مردوں کی ہجوگوئی سے درگزر اور الخ اور سلام ان پر جو ہدایت کے پیرو ہوئے اور اﷲ تعالٰی کے درود و سلام و برکات مولٰی مصطفی اور ان کے آل و اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ۔
عہ: بے پردہ دووجہ سے ، ایک تو کارڈ پرتھی دوسرے برہنہ گوئی ۱۲مترجم
عہ: نفس زبان عربی میں مونث ہے یہاں مطابقت ترجمہ کے لیے شرارت نفس یا شریرہ مکتوب ہوئی ۔۱۲ مترجم
(۱ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
راقم
واعظ الدین قادری اسلام آبادی
غفرلہ المولی الہادی
نہم ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ