ثمّ اقول : ( پھر میں کہتا ہوں ۔ت) اِستقصاء کیجئے تو ہنوز تعّدد خالق کے لوائح ، کلامِ زید سے عَلانیہ لائح ____ قول وسیط کی تقریر____ اس میں چاند سورج کی تنظیر ____ قید "بالذات" کی بار بار تکریر صاف صاف بتارہی ہے کہ عقول سے صرف خالقیت ذاتیہ منتفی مانتا ہے____ نہ خالقیت مستفادہ ____ اور اس قدر واقع و نفس الامر میں صدقِ خالق کا منافی نہیں____ یوں تو علم وسمع وبصر وحیات بلکہ نفس وجود تمام عالم سے منفی اور حضرت حق جل و علاء سے خاص____ پھر بایں ہمہ
اِنّہ لذوعلم ۱
( بے شک وہ صاحب علم ہے۔ت)
فجعلنٰہ سمیعاً بصیرا ۲
(ہم نے اسے سنتا دیکھتا کردیا۔ ت) و
بل احیاءعند ربھم ۳
( بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ ت) و
فانّما یقول لہ کن فیکون ۴
( تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ فوراً ہوجاتی ہے ت) قضایائے حقہ صادقہ ہیں۔ اور
حقائق الاشیاءِ ثابتۃ ۱ ؎
(اشیاء کی حقیقتیں ثابت ہیں۔ت)
(۱؎القرآن الکریم ۱۲ /۶۸) (۲؎القرآن الکریم ۷۶ /۲)
(۳؎القرآن الکریم ۳ /۱۶۹) (۴؎القرآن الکریم ۲ /۱۱۷)
( ۱ ؎۔ شرح العقائد النسفیہ ، دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار پاکستان۔ ص ۸ )
پہلا عقیدہ خود اپنی ہی نظیر میں دیکھے کہ نور قمر تاب آفتاب سے مستفاد ہونا
جعل الشمس ضیاءً والقمر(عہ) نوراً ۲ ؎
( اس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا۔ ت) کے مخالف نہ ٹھہرا۔
(۲؎القرآن الکریم ۱۰ /۵)
عہ : آیہ کریمہ نص واضح ہےکہ قمر مستنیر ہو کر اِنارہ عالم کرتا ہے۔
ھوالراجع من جھۃ العقل ایضا والیہ جنح المحققون منھم الامام الرازی ۔ عقل کے اعتبار سے بھی وہی راجح ہے اور محققین کا میلان بھی اسی کی طرف ہے جن میں امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ بھی شامل ہیں۔(ت)
نہ یہ کہ استنارہ صرف ضوء شمس کا تادیہ کرے کما ظنہ ، بعض الفلاسفۃ (جیسا کہ بعض فلاسفہ نے اس کا گمان کیا ہے۔ت)
رہا یہ کہ وہ خود نورانی نہیں بلکہ پر تو مہر سے روشن ہوتا ہے۔اقول: اس کی نہ ہم نفی کریں لعدم ورود السمع بتکذیبہ (اس کی تکذیب پر دلیل نقلی وارد نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت) نہ اُس پر جزم ضرور ہے
لعدم قیام البرھان علٰی تصویبہ
اس کی درستگی پر برہان قائم نہ ہونے کی وجہ سے۔ت)
والدوران لیس فی شیئ من البرھان وان زعمواانہ بدیہی ثابت بالحدس ، کیف ولا قاطع بابطال قول ابن الھیثم فی الاھلّۃ ،وما ذکروہ من حدیث الخسوف فیجوز ان یکون ذٰلک لان القادر تعالٰی ینزع منہ النور متی شاء من دون ان تکون
الحیلولۃ ھی الموجبۃ لہ ____ والمعیۃ لاتفید العلیۃ ____ بل ھٰذا الذی ذکرنا ھوالمستفاد من ظواھر الاحادیث
____ وقدرأینا کذبھم فی کسوفٍ وقع علٰی عہد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعشرٍ خلونَ من شوال ____ مع ان قاعدتھم تقضی بان لایقع الاآخر الشہر ، اذ المقارنۃ لاتکون الا اذ ذاک ۔ فلما ظھرلنا انتقاض الدوران فی الکسوف عسی ان یظھر ایضاً فی الخسوف ____ علٰی ان فی الباب احتمالات اُخر لایتکا فیہا الدلیل ____ وبالجملۃ مالہ یخبر عنہ نراہ مضطر با ھٰکذاالٰی یوم القیمۃ فاستفدہ فانہ مھم____ نعم افاد الامام عبدالوہاب الشعرانی فی میزان الشریعۃ الکبرٰی اجماع اھل الکشف علٰی ان انور القمر مستفاد من انور الشمس۱ ؎ فمن ھذا الوجہ نحن نقول بہ واﷲ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ ( ای من المصنف قدس سرہ)
اور دوران برہان میں سے کچھ نہیں ، اگرچہ ان کا گمان یہ ہے کہ یہ بدیہی ہے حدس سے ثابت ہے ، یہ کیسے ہوگا ، حالانکہ چاندوں کے بارے میں ابن ہثیم کے قول کے ابطال کا کوئی قاطع نہیں ہے۔ اور چاند گرہن کے بارے میں جو حدیث انہوں نے ذکر کی تو ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالی اس پر قادر ہے کہ جب چاہے چاند کا نور سلب فرمادے بغیر اس کے کہ سورج اور چاند کے درمیان زمین حائل ہو جو کہ چاند گرہن کا موجب ہے اور معیت مفید علیت نہیں ، بلکہ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہی ظاہر حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اور بے شک فلاسفہ کا جھوٹ ہم نے دیکھ لیا اس سورج گرہن میں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دس شوال کو واقع ہوا، باوجود یہ کہ ان کے قاعدہ کا تقاضا یہ ہےکہ سورج گرہن صرف مہینہ کے آخر میں واقع ہوسکتا ہےکیونکہ مقارنت اسی وقت ہوتی ہے جب ہمارےلیے سورج گرہن میں دوران کا ٹوٹ جانا ظاہر ہوگیا ہے تو چاند گرہن میں بھی ظاہر ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں اس باب میں اوربھی کئی احتمال ہیں جن میں کوئی قابل اعتماد دلیل نہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جس کے بارے میں خبرنہیں دی گئی ہم اسے قیامت تک یوں ہی مضطرب دیکھیں گے۔ اس سے فائدہ حاصل کر کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔ ہاں۔ امام عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمۃ نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں افادہ فرمایا کہ نور قمر کے نور شمس سے مستفاد ہونے پر اہل کشف کا اجماع ہے۔ اسی وجہ سے ہم اس کے قائل ہیں۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ (یعنی مصنف علیہ الرحمہ کی طرف سے)(ت)
( ۱ ؎۔ میزان الشریعۃ الکبرٰی )
اور لفظ "مجازی" جس طرح "حقیقت " کے مقابل بولتے ہیں ، یونہی بہ مقابلہ ذاتی اطلاق ، اور ذاتی کو بہ لفظ حقیقت خاص کرتے ہیں____ ہماری مِلک مِلکِ مجازی ہے ، یعنی بہ عطائے الہٰی ، نہ اپنی ذات سے ____نہ یہ کہ حقیقت ونفس الامر میں باطل ہے۔
قال تعا لٰی :
فھم لہا مالکون ۱ ؎
( تو یہ اُن کے مالک ہیں ، ت)
( ۱ ؎القرآن الکریم ۳۶/ ۷۱)
قال تعا لٰی :
ما ملکت ایمانھم ۲
(وہ جس کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ ،ت)
( ۲ ؎القرآن الکریم ۱۶/ ۷۱)
ولہذا
واسئل القریۃ ۳ ؎
( اور اس بستی سے پوچھ۔ ت)
( ۳ ؎القرآن الکریم ۱۲ /۸۲ )
مجاز ہوا کہ علم و سماع و قدرت علی الجواب جو مُصحح استفسار حقیقی ہیں وہاں مسلوب ومعدوم _____اور
سَلھُم ایھم بذلک زعیم ۴ ؎
(تم اُن سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے ۔ت) قطعاً حقیقت کہ ثبوت یقینی____ اگرچہ عطائی ہے ۔
( ۴؎القرآن الکریم ۶۸/۴۰)
ہر عاقل جانتا ہے کہ مدارِ حقیقت ثبوت فی الواقع پر ہے____اور وہ ذاتی و مستفاد دونوں سے عام ______ع
ھٰذاا الذی تعرف البطحاء واطأتہ
(یہ وہی ہے جس کے روندنے کو وادی بطجاپہچانتی ہے۔ ت)
اور_____ع
العرب تعرف من انکرت والعجم ،
( جس کا تو نے انکار کیا اس کو عرب و عجم پہچانتے ہیں۔ ت)
میں جو فرقِ استعمال ہے عاقل پر مستور نہیں____ ہیہات ! اگر حقیقت منُوط بہ ذاتیت ، ہو تو لازم آئے معاذ اﷲ خلقِ اشیاء حقیقۃً جناب باری سے مسلوب بلکہ محال ہو ،اور ان کا اثبات فقط مجازی خیال ____ کہ جب حقیقتہٍ اِفاضئہ وجود نہ ہوا تو واقع میں کچھ نہ بنا____
اعطٰی کُلَّ شیئ خلقہ ، ۵ ؎
(اس نے ہرچیز کو اس کے لائق صورت دی۔ ت) کیونکر صادق آئے