| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ، وبعد فجاء الکتاب ولم یات الجواب ولست متفرغا للجھل والسباب ووصولہ قبل وجودہ بیومین عجب عجاب وبعد قد بقی علیک من الیوم الٰی الغدالوقت الموعود فان مضی ولم یأت الجواب علم ان بابک مسدود وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علی صاحب المقام المحمود والہ وصحبہ العز السعود والحمد ﷲ الغفور الودود ۔
کتـــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
لتسع خلون من ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
یوم الاربعاءبسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بعد حمد وصلوۃ واضح ہو خط آیا اور جواب نہ آیا اور جہالت کی باتوں اور گالی گلوچ کی مجھے فرصت نہیں اور اس خط کا عالمِ ایجاد میں آنے سے دو دن پہلے یہاں پہنچ جانا سخت تعجب کا اچنبھا ہے اور ہنوز آج سے کل تک آپ کے لیے روز موعود کا وقت باقی ہے اگر وہ گزر گیا اور جواب نہ آیا تو معلوم ہوگا کہ آپ کا دروازہ بند ہے ، اور اللہ تعالٰی کے درود و سلام و برکات صاحب مقام محمود اور ان کے آل و اصحاب نورو سعادت والوں پر اور سب خوبیاں اﷲ کو جو گناہ بخشے اور اپنے بندوں سے محبت فرمائے۔
کتـــــــــــــــــــــــــــــــبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن النبی الامی
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
نہم ذی القعدہ ۱۳۱۹ھ
روز چہار شنبہمترجم : غفرلہ کہتا ہے کہ روزِ موعود گزرا اور جمعہ گزرا اور جواب نہ آیا تو اس صحیفہ پنجم نے امضاپایا۔