Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
207 - 212
خط سوم عرب صاحب بہ تبدیل رنگ واظہار خشم بے درنگ
وصلتی خطک المورخ(عہ۱) ۵ذوالقعدۃ ۱۱ (عہ۲) ۱۱ ذوالقعدۃ فکیف اجیبک یوم التاسع ولکن امتثالا لا مرک سیأتیک الجواب الذی تعلم بہ اننی ماسکت عن الجواب الاصیانۃ لاغلاطک ان تظھر ولجہلک ان یشہر ستعلم لیلٰی ای دین تداینت وای غریم فی التقاضی غریمہا۔

محمد طیب11
مجھے تمہارا خط پانچویں ذوالقعدہ کا لکھا گیارہویں ذوالقعدہ کو پہنچا تو میں نویں تاریخ کو کیسے تمہیں جواب دوں، مگر آپ کا حکم ماننے کو عنقریب آپ کے پاس وہ جواب آتا ہے جس سے تمہیں معلوم ہوگا کہ میں جواب سے صرف اس لیے خاموش رہا تھا کہ تمہاری غلطیوں کو ظاہر ہونے اور تمہاری جہالت کو تشہیر سے بچاؤں اب جانا چاہتی ہے لیلٰی کہ کیسے قرض کا اس نے لین دین کیا اور اس کا قرض خواہ تقاضا کرنے میں کیسا قرض خواہ ہے۔
عہ۱: ھکذا بخطہ دام فی خبطہ ۱۲   

  عہ۲: ھکذا بخطہ لازال فی خبطہ ۱۲
مترجم : غفرلہ کہتا ہے کہ تقاضائے جواب پر عجز کی جھنجھلاہٹ نے عرب صاحب کو ایسے غیظ میں ڈالا کہ ذرا سے کارڈ میں بدحواسیاں صادر ہوگئیں، مثلاً پہلی بدحواسی کہ ابتداء میں القاب و آداب درکنار اﷲ عزوجل کا نام بھی چھوٹا، پہلے دونوں خط مسلمانی طریقے پر بسم اﷲ شریف یا حمد و صلوۃ سے آغاز تھے اس کی ابتداء یہیں ہے کہ وصلنی خطک ( تمہارا خط پہنچا) دوسری بدحواسی براہِ طنزوسخریہ ایک پرانا شعر(عہ) لکھ دینے کا شوق چرایا تو ایسے بہکے کہ اپنے ہی کو لیلٰی بنایا۔ حق برزبان جاری شود، یہ نہ دیکھا کہ کون مدیون ہے کون قرضدار ہے سوالات کا قرضہ کس پر سوار ہے۔کس سے تقاضا ہے کس پر چڑھائی ہے غریم نے کس کی جان پر بنائی ہے۔

چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر

خیر، ع

مہر باں آپ کی خفت مرے سر آنکھوں پر
عہ:  یہ شعر ایک عجیب قصیدے کا ہے جس کی تفصیل مضامین جناب مولوی عبدالحق صاحب خیر آبادی بیان کرتے تھے اگرچہ قصیدہ یہاں سے متعلق نہیں مگر الشیئ بالشیئ یذکر الخ پر بات یاد آجاتی ہے۔

دوستان علم و ادب کے لیے اسی کے بعض اشعار کہ اس وقت یاد آئے تحریر ہوتے ہیں، زبان عرب کا مستندشاعر اپنی ایک کنیز کی شان میں کہتا ہے۔
عجبت للیلٰی زنجباراشتریھا	

 وکاتبتہا کیما یتم نعیمہا

فما صنعت الا الا باق مدینۃ

 	وما ابقیت الاودینی ندیمہا

ستعلم لیلٰی ای دین تداینت	

 وای غریم فی التقاضی غریمہا

تمکت بحکم الرق ثم تھتّدت 	

اباقا وسیما الزنج فی القلب سیمہا

تودّا ولودرس الخیانۃ لیتنا

	 مدرِّسۃ للغدرفیما نقیمہا

ترفضت الخنّاء ثم تنشّرت 	

تعدَّی الدواء الداء عی حکمیہا

فلیلٰی وان کان اسمہا طیبا غدت

	 خبیثۃ نفیس یرتضیہا لئیمہا

ورُبّ مسمّی کاذب یعبق ا سمہ

	 برائحۃ مافی المسمّی نسیمھا

کمہلکۃٍ تدعی بعکس مفازۃً	 

        وکافورۃ زنجیۃ بان شیمہا

الیلی الیلٰی ای دفارِ ھجوتِ من	  

     اتتہ المعالی صفوھا وصمیمھا

دعی عنک تہجاء الرجال واقبلی   

        لکِ الحظ لاللاخیَلیّۃ
مجھے زنجبار کی لیلٰی سے تعجب آتا ہے میں نے اسے خریدا اور مکاتب کیا تھا کہ اس کی آسائش پوری ہو( یعنی اتنا مال اپنے کسب سے کمائے تو تو آزاد ہے) 

اس نے کچھ نہ کیا سوا اس کے کہ میرا دین لے کر بھاگ گئی اور وہ نہ بھاگی مگر اس حال پر کہ میرا دین اس کے ساتھ ہے

 اب جانا چاہتی ہے لیلٰی کہ کیسے قرض کا اس نے لین دین کیا اور اس کا قرض خواہ تقاضا کرنے میں کیسا قرضخواہ ہے۔

 کنیزی کے باعث مکیہ بنی پھر بھاگ کر ہندیہ ہوگئی اور زندگی صور ت کی علامتیں دل میں موجود ہیں 

خیانت کے درس والے تمنا کرتے ہیں کاش ہم اسے اپنے یہاں بے وفائی کی تعلیم دینے پر مدرس مقرر کریں

 وہ سڑا ہندی پہلے تو رافضن بنی پھر نیچریہ ہوگئی، دوا کی حد سے مرض بڑھ گیا۔ اس کا حکیم اس کے علاج سے عاجز آیا 

تو لیلٰی اگرچہ نام کی پاکیزہ ہے نفس کی خبیثہ ہے کہ اسے نفس کا کمینہ پسند کرے گا

 اور بہت جھوٹے نام کے مسمے ہوتے ہیں کہ نام ایسی خوشبو سے مہکتا ہے کہ مسمے میں جس کی ہوا بھی نہیں 

جیسے جائے ہلاک کو برعکس مفازہ یعنی جائے نجات کہتے ہیں اور زن زنگیہ کو جس کی سیاہیاں ظاہر ہیں۔کافورہ نام رکھتے ہیں 

اے لیلٰی اے لیلٰی اری گندی تو نے اس کی ہجو کہی جسے صاف و خاص بلندیاں حاصل ہوئیں، 

مردوں کی بدگوئی سے درگزر اور آکہ میں لیلےٰ اخیلیّہ کا نہیں تیرا حصہ ہے ۱۲ مترجم
تیسری بدحواسی اسی خط تقاضا پہنچتے ہی یاران سرپل میں کچریاں پکیں وہابیت کی فوج مقہوریت موج (جو حضرت نواب خلد آشیاں مرحوم مغفور کے عہد سنیّت مہد میں کرے جوتے کے نیچے دبی تھی سر اٹھانے بلکہ مذہب بتانے کی جان نہ تھی اب کچھ کچھ کھل کھیلی اور گریز کرکے پر پرزے نکال چلی ہے) ہل چلی مچی پرانے پرانوں کا سہارا لگانے سنت کے خلاف پرندوہ منانے سے کمیٹی میں یہ رائے پاس ہوئی کہ عرب صاحب نے بہت مدتوں سے دشمنی تقلید میں سر کھپایا ، برسوں دودچراغ کھایا، کچھ خرافات مزخرفات کا ملغوبا جمع کر پایا ہے۔ سوالات کے جواب کو تو اڑان گھائی بتائیے اور وہ پچھلی محنتوں کا سارا نتیجہ بنام جواب آگے لائیے۔ جب بعون اﷲ تعالٰی دندان شکن رد ہوگا۔ اس وقت تو وہ عوام کے آگے ناک رہ جائے گی کہ دیکھو۔

ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں

خط تقاضا چھٹی ذی القعدہ روز ایک شنبہ کوپہنچا تھا، آٹھویں تک کمیٹی میں یہ رائے جم پائی اور وہ جواب بہ صد پیچ و تاب تحریر ہوا کہ جواب پیچھے سے دیں گے، صحفیہ تقاضا میں پنجشنبہ تک کی مہلت مقرر فرمادی تھی، اس کا یہ جواب سوچا کہ خط ہمیں ۱۱ ذی القعدہ روز جمعہ کو پہنچا ہم پنجشنبہ تک جواب کیونکر دیتے یہاں تک تو عیاری و چالاکی سے کام لیا گیا۔ اب عجز کی بدحواسی اپنی جھلک دکھاتی ہے کمیٹی وہابیت نے ایسے کذب صریح کی رائے دی تھی تو لفافے میں بھیجنا تھا کہ کذب پر لفافہ رہتا عام شخصوں پر ثبوت نہ ہوسکتا مگر بدقسمتی سے کارڈ میں لکھا جس پر روانگی ووصول کی مہر ہائے ڈاک نے واضح کردیا کہ بعنایت الہی حضرت کا یہ فریب نامہ سہ شنبہ ۸ ذی القعدہ کو ڈاک خانہ رامپور سے روانہ ہو کر چہار شنبہ نویں ذی القعدہ کو خدمت اقدس بندگان حضرت مکتوب الیہ میں باریاب ہولیا یعنی لکھے جانے سے دو چار دن پہلے ہی پہنچ گیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔ عرب صاحب کی ان خوبیوں پر بھی حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی نے اسی علم سے کام لیا جوار بابِ علم کو اہل جہل کے ساتھ شایان ہے بغور ملاحظہ  فریب نامہ مذکور ہ ڈاکخانہ سے رسید لے کر یہ صحیفہ چہارم امضاء ہوا۔
Flag Counter