Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
206 - 212
مفاوضہ سوم از حضرت عالم اہلسنت مدظلہ بتقاضائے جواب سوالات دو۲ مفاوضہ سابقہ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم،

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،

وبعد فھٰذا رابع شھرمذارسلت الکتاب ولم تحرالجواب وقدکان کصاحب السابق الماضی علیہ خمسۃ شھور مشتملا علٰی اسئلۃ دینیۃ لامعۃ النور فلم تجب عن ھذا ولا عن ذاک مع مع انک انت البادی فیما ھناک وانا امھلک عدۃ ایام اُخر لتجیب مفصلا عن کل مستطر فان مضی یوم الخمیس تاسع ھذاالشھر النفیس ولم یأت منک الجواب تبین انک غلقت الباب و طویت الصحف وجف القلم بما سیجف وﷲ الحمد فی الاولٰی والاخرۃ والصلوات الزاھرۃ والتحیات الفاخرۃ علٰی سیدنا وصحبہ و عترتہ الطاھرۃ امین ۔
    کتبہ 

 عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی

عفی عنہ بمحمدن النبی الامی 

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم                        

لخمس خلون من ذی القعدۃ    یوم السبت ۱۳۱۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ،

 نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، 

بعد حمد وصلوۃ یہ چوتھا مہینہ ہے کہ میں نے خط بھیجا اور آپ نے جواب نہ دیا اور یہ خط بھی پہلے کی طرح جسے پانچ مہینے گزرے ہیں روشن و تاباں سوالاتِ دینیہ پر مشتمل تھا آپ نے نہ اس کا جواب دیا نہ اس کا، حالانکہ یہ سلسلہ خود آپ ہی نے شروع کیا تھا۔ میں آپ کو چند دن کی اور مہلت دیتا ہوں کہ جتنے سوالات لکھے ہیں سب کا مفصل جواب دیجئے، اگر روز پنچشنبہ کہ اس نفیس مہینے کی (دسویں(عہ)) ہوگی گزر گیا اور آپ کی طرف سے سوالات کا جواب نہ آیا تو ظاہر ہوگا کہ آپ نے دروازہ بند کرلیا اور دفترلپیٹ دیئے اور قلم خشک ہوجائے گا جس بات پر عنقریب خشک ہونے والا ہے اور اﷲ ہی کے لیے اوّل وآخر میں حمد ہے اور چمکتی درودیں ا ور گرامی تحیتیں ہمارے مولٰی اور انکے اصحاب و آلِ طاہرین پر، آمین !(ت)
    کتبہ 

 عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی

عفی عنہ بمحمدن النبی الامی 

صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم                        

 پنجم ذی العقدہ بروز شنبہ ۱۳۱۹ھ)
عہ:  پنجشنبہ کی دسویں خود اسی صحیفہ شریفہ کی تاریخ سے ظاہر تھی کہ پنجم روز شنبہ ارشاد فرمائی ، لفظ تاسع سبق قلم تھا اور خود پنجشنبہ صراحۃً مذکور ہونا رفع التباس کو بس تھا۔ مہلت پنجشنبہ تک عطا ہوئی وہ تاسع ہو یا عاشر ۱۲ مترجم۔
مترجم غفرلہ کہتا ہے مسلمان ملاحظہ فرمائیں کہ اس صحیفہ منیفہ میں سواتقاضائے جواب کے کیا تھا، عرب صاحب کی نسبت کون سا سخت کلمہ تھا مگر ہوا یہ کہ عرب صاحب جوابوں کے عجز سے بھرے بیٹھے تھے وہ سوال ان پر پہاڑ سے زیادہ گراں تھے ڈر تھا کہ مبادا جواب طلب ہوا تو کیا کہوں گا  جب پہلے کو پانچ اور دوسرے کو تین مہینے گزر گئے دل میں کچھ مطمئن ہوئے ہوں گے کہ شاید قسمت کا لکھا ٹل گیا مگر افسوس کہ ناگاہ ادھر سے تقاضوں کا پہاڑ ٹوٹ ہی پڑا۔ اب رنگ بدل گیا اور وہ عجز جس سے بھرے بیٹھے تھے جہل بن کر اُبل گیا۔ اس صحیفہ شریفہ کا پہنچنا اور طیب صاحب کا نام کی طیب وپاکیزگی سے اپنی ذاتی اصالت کی طرف پلٹ جانا، اگلے مراسلات میں طرفین کے محاورات دیکھئے اور اب اس تحریر ثالث کو ملاحظہ کیجئے۔
Flag Counter