Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
205 - 212
جوکان رکھتا ہو ہم پر اللہ تعالٰی کی خوبی نعمت سنے اسے کی وجہ کریم کے لیے وہ حمد ہے جو ہمیں بس ہو اور باذنِ الہٰی ہمیں ہر مرض سے شفا بخشنے اور باحسان ربانی ہمیں ہر آفت سے بچائے اور بفضلِ خداوندی ہمیں ہدایت ویقین زیادہ فرمائے، اورصلوۃ و سلام ہمارے والی ہمارے مولٰی ہمارے ہادی ہمارے شافع ہمارے شافی پر جو ہم پر ہمارے ماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں تمام جہان میں سب سے بڑے نائب  خدا ہیں ہم پر اور تمام آئندہ مخلوق اور گزشتہ خلقت سب پر والی و حاکم ہیں اور انکے آل و اصحاب پر کہ روشن کامیابی سے کامیاب ہیں اور ان کے اولیاء پر کہ ان کے حکم سے قابو پا کر عالم میں تصرف کرتے ہیں اوران سب کے صدقے میں ان کی برکت سے ہم پر، اور اﷲ کی مہر آمین کہنے پر، بعد حمد و صلوۃ واضح ہو خط آیا اور دلِ دوستاں نے سرورپایا کہ اس سے قبولِ حق صاف پیدا تھا اور ایک اور مسئلے سے پردہ کشائی کی درخواست تھی اور خرد مندوں کا یہی دستور ہے کہ پیاسے ہوں تو دریائے عظیم کے گھاٹ پر آتے ہیں کہ آپ سیراب ہوں اور جسے ہلاک ہوتا دیکھیں اسے سیراب کریں، میں نے چاہا اور خود یہی مجھے سزاوار تھا کہ فوراً جواب دوں اگرچہ تپ کر میرے بدن سے قریب تھا اور کمر میں درد کہ مدتوں رہا اور اچھا ہوا اﷲ چاہے تو گناہوں کا کفارہ تھا اور ابھی اس کا بقیہ جانے کو باقی ہے اتنے میں مجھے خبر ملی کہ آرندہ پلٹ گیا اور غائب ہوا اور مجھے نہ معلوم ہوا کہ وہ کون تھا اور کہاں واپس گیا یہاں تک کہ میرے برادر مونس و سرورِ قلب حکیم مولوی خلیل اﷲ خاں کہ اﷲ تعالی قیامت تک ان کا نگہبان ہو، آئے تو میں نے ان کی معرفت جواب بھیجنا چاہا کہ ایسے خطوط میں مجھے یہی پسند ہے کہ کسی کے ساتھ ہی مرسل ہوں اور ہم معاملے میں اپنے رب کی مدد چاہتے ہیں، ہاں بے شک میں نے کہا اور اب کہتا ہوں کہ میرا وہ کلام جس سے سوال ہوا بے کسی تخصیص کے محض تقلید میں تھا مگر برادرم! کیا کسی مطلق پر حکم ایسی کسی شے سے نفی بتاتا ہے جو اس کے احاطہ میں داخل ہے تو قطع نظر اس سے کہ آپ کے اس سوال تازہ کا شاید کوئی صحیح منشا نظر ہی نہ آئے وہ کلام اگر بالفرض مشعر ہوگا تو خاص سے نفی فرضیت کا، کیسی فرضیت جو یقین کے لیے پسندیدہ ہے تو یہ وجوب کی طرف کود جانا کیسا اور ہاں یہ ہیں آپ سلیم طبیعت والے خود آپ کی خالہ کریمہ کا بھانجا ظاہر چکا کہ واجب وفرض میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ یہ روشن کرچکا کہ فرض دو قسم ہے، علمی و عملی، اور یہاں گفتگو علمی میں ہے، تو اب کیا وجہ ہے کہ میں اسے پاتا ہوں کہ پہچان کر شنا سا ہوتا ہے اور خود خبر دے کر بھولا جاتا ہے اور اگر آپ اسے فرضیتِ قطعیہ سے تاویل کریں تو خاص نوع میں اس کا کوئی قائل نہیں، ہاں جب کہ گزشتہ بحث میں آپ پر حق واضح ہوگیا ہے تو تقلید مطلق کی فرضیت کا اعلان دیجئے کہ آپ جیسے کو حق کا اقرار زیادہ سزاوار ہے پھر اگر آپ چاہیں کہ جہاں آئے وہاں سے حق کے ساتھ پلٹئے تو اولاً ان امور کا جواب دیجئے جو میں نے سوال کیے اور آپ نے جواب نہ دئیے اور آپ کا عمل کیونکر رہا اور آپ اس  میں اپنا مرتبہ وا قتدار کہاں تک جانتے ہیں اور ا سکے سوا اور سوالات جو نامہ اول میں میں نے بہ تفصیل لکھے پھر جب کہ آپ برادرانِ علم سے ہیں اور خود اپنے منہ سے تیس سال سے اس کے خادم رہے ہیں تو یہ تو آپ پر گمان نہ ہوگا کہ آپ عمل ہی نہیں کرتے یا عمل کرتے ہیں تو اس طرح کہ اس کی راہ کے حکم سے غفلت و خواب میں ہیں، اور آپ کو خوب معلوم ہے کہ ابنائے زمان اس مسلک میں ایک حال پر نہیں بلکہ کوئی کفر کہتا ہے کوئی حرام، کوئی جائز ، کوئی واجب، کوئی تخییر کی راہ چلتا ہے کوئی تخیر کی۔ کوئی مطلق کہتا ہے، کوئی چاراکابر میں محصور کرتا ہے، کوئی تلفیق مانتا ہے، کوئی اسے فسق بتانے کی طرف جھکتا ہے، کوئی کہتا ہے مختلف اعمال میں جائز ہے نہ ایک میں، کوئی عمل کے بعد رخصت دیتا کوئی منع کرتا ہے۔ تو یہ متعدد مواضع میں اور لوگوں کے لیے ان سب میں مختلف راہیں مختلف ماخذ ہیں اور جو حق کا طالب اور جدال سے مجتنب ہوتوظاہر ہے کہ ان سب کے ساتھ گفتگو ایک روش پر نہیں تو ثانیا ان تمام مواضع میں اپنا مسلک معین کیجئے کہ آپ سے اسی روش پر کلام ہو۔ اس کے بعد اپنے بھائی کے ِاس طلبِ فائدہ کے لیے آئیے نہ حملہ آور ہٹ دھرم بن کر اور اس کے ہاتھ میں نرم ہوجائیے جو کچھ پوچھئے بتائیے، جہاں لے چلے قصد کیجئے اور قریب ہوجائیے تو قسم ہے کہ وہ اپنے رب کی مدد سے آپ کو سیدھی راہ لے جائے گا اور آپ کو آہستہ آہستہ چلائے گا یہاں تک کہ منزلِ ہدایت پر کھڑا کردے گا اور بے شک بارہا ابتداء میں اس کے بعض مقصد پہچان میں نہ آئیں گے پھر انجام کار اس کی خوبی مورد کی حمد ہوگی تو جو طالبِ حق ہو تو راہ یہ ہے اور اﷲ ہمیں کافی ہے اور اچھا کام بنانے والا ، رہا عالم میں تصرف اولیاء سے آپ کاسوال اور آپ کا اقرار کہ اس کے معانی سے آپ وہی ناخوش سمجھتے ہیں جو آپ کے علم میں ہے اگر سپرد کردینے سے آپ کی وہ مراد ہو جو معاذ اﷲ مالک امر کو معطل کردینے کی موجب ہو جیسے دنیا کا کوئی بادشاہ کسی کام کی باگیں ایک امیر کو سپرد کرے تو اس میں اس امیر کے احکام نافذ رہیں گے اور خاص خاص وقائع میں احکامِ شاہی کے محتاج نہ ہوں گے بلکہ جو واقعہ نیا پیدا ہوا اور جو پیش آیا بادشاہ کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی اور ایسے ہی سپاہی و وزیر سے وہ مراد ہو جو بادشاہ کی اعانت و یاروی کرے اس پر سے بعض بوجھ اور بار اٹھالے بعض کا رد شغل میں جن کی بادشاہ کو فکر تھی اسے مدد دے کر فائدہ پہنچائے تو بے شک ناخوش و قبیح ہے، نہ صرف ناخوش بلکہ سخت ہولناک کفر ہے اور خدا کی پناہ کہ اس کا وہم گزرے مسلمان بلکہ کسی کافر کو بھی جب کہ خدا کو ایک جانتا ہو، اس تقدیر پر آپ کا ناخوش جاننا ایک ایسے معنی باطل کی طرف راجع ہے جسے بے اصل وہم نے گھڑلیا ، مسلمانوں میں نہ اس کا وجود نہ نشان، اور جو مسلمانوں پر بدگمانی کرے وہ جھوٹا اور بدکار ہے اور اگر آپ کی مراد یہ ہو(اور میں آپ کو خدا کی پناہ میں دیتا ہوں کہ یہ آپ کی مراد ہو) کہ ناخوش یہ ہے کہ اﷲ عزوجل اپنے گرامی بندوں سے ایک گروہ کو شرف بخشے انہیں عالم میں تصرف کااذن دے بغیر اس کے کہ اس کے ملک میں بے اس کے چاہے کچھ ہوسکے یا اس کے غیر کے لیے زمین یا آسمان میں کوئی ذرہ بھر ملک ہو یا یہاں کسی قدر معطل ہونے یا بوجھ اٹھانے ، بار بار ہلکا کرنے کا وہم گزرے جیسے اس پاک بے نیاز نے جبریل و میکائیل و عزرائیل وغیرہم مقربانِ بارگاہ عزت علیہم الصلوۃ والتحیۃ کو بوندوں اور بارش اور روئیدگی اور ہواؤں اور لشکروں اور زندگی اور موت کی تدبیر اور ماؤں کے پیٹ میں بچوں کی تصویر اور خلق کے لیے روزی آسان اور حاجتیں روا کرنے اور ان کے سوا اور حوادثِ کائنات کا اذن دیا ہے اور وہ قطعاً یقیناً اپنے آپس میں مختلف مرتبوں پر ہیں جسے اس کے رب نے جو مرتبہ بخشا ہے بادشاہ ووزیر و سپاہی و امیر، تو یہ بات بے شک مسلمانوں کے کہنے کی ہے اور یہ ہے اللہ کا کلام فیصلہ کرنے والا، ارشاد اور عدالت و الا حاکم فرمارہا ہے، قسم ان کی جو کاموں کی تدبیرکرتے ہیں، اسے ہمارے رسولوں نے وفات دی، تو فرما تمہیں ملک الموت وفات دیتا ہے جو تم پر مقرر فرمایا گیا ہے۔ اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان ، آدمی کے لیے بدلی والے ہیں اس کے آگے اور پیچھے کہ اس کی حفاظت کرتے ہیں خدا کے حکم سے جب وحی بھیجتا ہے تیرا رب فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم ثابت قدمی بخشو ایمان والوں کو۔بے شک وہ ایک عزت والے زبردست رسول کی بات ہے کہ مالکِ عرش کے حضور جس کی عزت ہے وہاں اس کا حکم چلتا ہے امانت والا ہے۔ میں تو یہی تیرے رب کا رسول ہوں اور میں تجھے ستھرا بیٹا عطا کردوں، بے شک میں زمین پر نائب بنانے والاہوں۔اے داؤد! بے شک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا۔ بے شک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو قابو کردیا پاکی بولتے ہیں پچھلے دن اور سورج چمکتے اور پرندوں کو مسخر کردیا گروہ کے گروہ جمع کیے ہوئے، سب اس کی طرف رجوع لاتے ہیں، تو ہم نے سلیمان کے قابو میں ہوا کو کردیا کہ سلیمان کے حکم سے نرم نرم چلتی ہے جہاں وہ چاہے اور دیو مسخر کردیئے، اور ہر راج اور غوطہ خوراور بندھنوں میں جکڑے ہوئے، یہ ہماری دین ہے تو چاہے دے چاہے روک رکھ بیحساب میں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو اچھا کرتا ہوں اور میں مردے جِلادیتا ہوں، خدا کے حکم سے، لیکن اﷲ اپنے رسولوں کو قابو دیتا ہے۔جس پرچاہے۔انہیں غنی کردیا اﷲ اور اﷲ کے رسول نے اپنے فضل سے۔ ہمیں خدا بس ہے اب دیتا ہے ہمیں اﷲ اپنے فضل سے اور اﷲ کا رسول۔ا ے ایمان والو! حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں کاموں کے اختیار والے ہیں۔ا ور اگر اسے لاتے رسول کے حضور اور اپنے ذی اختیاروں کے سامنے تو ضرور اس کی حقیقت جان لیتے وہ جوان میں بات کی تہہ کو پہنچ جانے والے ہیں۔ تو اب علمی راہ سے کہیے اس میں آپ کو کیا برا لگتا ہے، اور میں نے آپ کو جب دیکھا تھا عاقل غیر سفید ہی پایا تھا اوراﷲ ہادی اور نعمتوں کا مالک ہے۔ اور بندہ ضعیف کی اس باب میں ایک کتاب جامع نافع مستطاب ہے کہ ہدایت چاہنے والے کوراہِ حق دکھاتی اور تباہی میں گرنے والے کو ہلاک کرتی ہے، بحکم الہٰی زیر طبع ہے میں نے  الامن والعلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء(۱۳۱۱ھ) اس کا نام اور اکمال الطامہ علٰی شرک سوی بالامور العامہ (۱۳۱۱ھ) لقب رکھا ہے اس میں ساٹھ آیتیں اور تین سو حدیثیں پائیے گا کہ طیب کو خبیث سے جدا کرتی ہیں اور جو آیتیں اس وقت میں تلاوت کیں عاقلوں کو وہی کافی ہیں اور اللہ ہی کی طرف سے ہدایت اور حفظ و نگہبانی ہے۔ اور سب تعریفیں اﷲ کو آغاز و انجام میں۔ اور اﷲ کی درودیں والی اعظم و مولائے اکرم وحاکمِ اقدم اور ان کے آل و اصحاب پیشوایان اُمت اور ان کے اولیاء پر کہ ان کے حکم سے عالم میں تصرف فرماتے ہیں اور ان کے صدقے میں ہم پر اور اﷲ کی برکت اور سلام، ا مین (ت)
( ۱ ؎  القرآن الکریم ۷۹/ ۵ )

( ۲ ؎ القرآن الکریم ۳۲/ ۱۱)

( ۳ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۶۱)

( ۴ ؎ القرآن لکریم ۱۳/ ۱۱)



( ۵ ؎ القرآن الکریم ۸/ ۱۲)

 ( ۱ ؎ القران الکریم     ۸۱/ ۱۹،۲۰،۲۱)

(۲ ؎ القران الکریم     ۱۹/۱۹)

(۳ ؎ القران الکریم     ۲/ ۳۰)

( ۴ ؎ القران الکریم     ۳۸/ ۲۶)

( ۵ ؎ القران الکریم     ۳۸/ ۱۸۔۱۹)

( ۶ ؎ القران الکریم     ۳۸/ ۳۶)

( ۷؎ القران الکریم     ۳۸/ ۳۷)

( ۸؎ القران الکریم     ۳۸/ ۳۸)

( ۹؎ القران الکریم     ۳۸/ ۳۹)

( ۱۰ ؎ القران الکریم     ۳/ ۴۹)

( ۱۱ ؎ القران الکریم     ۵۹/ ۶)

( ۱ ؎ القران الکریم     ۹/۷۴)

(۲ ؎ القران الکریم     ۹/۵۹)

(۳ ؎ القران الکریم     ۴/ ۵۹)

( ۴ ؎ القران الکریم     ۴/ ۸۳)
 کتبہ          	   		

   عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی    

  عفی عنہ بمحمدن النبی الامی

  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

      دوم شعبان ۱۳۱۹ھ
مترجم کہتا ہے غفرلہ اس صحیفہ شریفہ کے بعد تین مہینے کامل انتظار ہوا، عرب صاحب کی طرف سے جواب نہ آیا، آخر تین مہینے تین دن کے بعد عالیجناب نواب مولوی محمد سلطان احمد صاحب قادری دام مجدہم کے ہاتھ کہ پنجم ذی القعدہ کو رامپور تشریف لیے جاتے تھے تیسرا صحیفہ شریفہ بہ تقاضائے جواب سوالات مرسل ہوا۔
Flag Counter