Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
203 - 212
خط دوم عرب صاحب بقبول ہدایت اُولٰی و استفادہ مسئلہ اُخرٰی

بخدمۃ (عہ۱)حضرۃ العالم الفاضل جناب مولوی (عہ۲) احمد رضا خاں صاحب قادری (عہ۳) سلمہ
عہ۱: ھکذا بخطہ ۱۲۔

 عہ ۲ ھکذا بخطہ ۱۲ 

عہ۳: ھکذا بخطہ ۱۲
اما بعد حمد اﷲ العظیم والصلوۃ والسلام علٰی نبیہ الکریم فاقول بعد السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ان کتابک المنبی عماعندک فی التقلید وفرضیتہ القطعیۃ قدوصل وبہ السرور قد حصل لازلت موفقا ومھدیا و لٰکن قد بقیت مسئلۃ اخرٰی ھی قرینۃ لمسئلۃ التقلیدوھی مسئلۃ القول بان لاولیاء اﷲ رضی اللہ عنہم تصرف(عہ) فی العالم بمعنی ان الکاملین من البشرقد فوض الیھم انتظام جزء من العالم ومنھم من فوض الیہ العالم کلہ فمنھم من ھو مثل الوزیر ومنھم من ھو مثل العمال ومنھم من ہو مثل الاعوان ولا اقول ان التصرف لیس لہ الاھٰذااالمعنٰی بل انا لا استبشع الا ھذاالمعنی فان کان علی التصرف بھذا المعنی دلیل من الشرع فافدنی بہ وان کان للتصرف معنی غیر بشع فعلمنیہ ۔ والسلام محمد طیب۔
اﷲ کی حمد اور اس کے نبی کریم پر درود و سلام کے بعد میں السلام علیک ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کے بعد کہتا ہوں کہ آپ کا نامہ تقلید اور اس کی فرضیتِ قطعیہ میں آپ کے اعتقاد سے خبر دینے والا آیا اور خاص اسی کے سبب بے شک سرور حاصل ہوا آپ ہمیشہ توفیق پائیں اور ہدایت کے ساتھ رہیں، لیکن ایک مسئلہ اور باقی رہ گیا ہے وہ اسی مسئلہ تقلید کے متصل مذکور ہے اور وہ مسئلہ اس کہنے کا ہے کہ اولیاء اﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے لیے عالم میں تصرف حاصل ہے اس معنی پر کہ کامل آدمیوں کو ایک حصہ عالم کا انتظام سپرد ہوا ہے اور بعض کو تمام جہان سپرد ہے تو ان میں کوئی وزیر کی مانند ہے اور ان میں کوئی کارکنوں کی طرح اور  ان میں کوئی سپاہی کی مثل ہے اور میں نہیں کہتا کہ تصرف کے لیے بس یہی معنی ہیں بلکہ میں ناخوش نہیں سمجھتا مگر اسی معنی تصرف پر شرع سے کوئی دلیل ہو تو مجھے افادہ فرمایئے اور اگر تصرف کے کوئی اور معنی ہوں کہ ناخوش نہ ہوں تو مجھے تعلیم کیجئے۔ والسلام محمد طیب۔
عہ۱: ھکذا بخطہ ۱۲۔
ویاسیدی انّی لما تأملت جوابک عن مسئلۃ وجوب التقلید وجدتک تقول ان کلامک فی التقلید المطلق لا فی المقید افترید ان التقلید الخاص لشخص معین غیر واجب فان کان ھذامراد ک فعرفنا بہ والافبین لنا مطلبک ولیس مراد نا من مخاطبتک الالاطلاع علٰی ما عندک ونسئلک المساحۃ فی التکلیف۔
اور اے میرے آقا! جب میں نے مسئلہ وجوبِ تقلید میں آپ کے جواب کو غور کیا تو آپ کا یہ بیان پایا کہ آپ کا کلام مطلق تقلید میں ہے نہ مقید میں، تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص معین کی خاص تقلید واجب نہیں۔ پس اگر آپ کی یہ مراد ہے تو ہمیں اس کی معرفت دیجئے ورنہ ہم سے اپنا مطلب بیان کیجئے اور آپ کے مخاطبے سے ہماری اسی قدر مراد ہے کہ جو کچھ آپ کے نزدیک حکم ہے وہ ہمیں معلوم ہوجائے اور ہم اس تکلیف دہی میں آپ سے معافی مانگتے ہیں فقط۔
مترجم غفراﷲ لہ گزارش کرتا ہے کہ عرب صاحب کا یہ دوسرا خط ایک مدت کے بعد ماہِ رجب میں آیا، حضرت عالم اہلسنت دام ظلہم اندر تشریف فرماتھے۔ دروازے پر ایک سید صاحب تشریف رکھتے تھے، عرب صاحب کافر ستادہ کوئی لڑکا انہیں خط دے کر روانہ ہوا۔ جب خط ملاحظہ عالیہ حضرت مکتوب الیہ میں حاضر ہوا اگرچہ مدت سے دورہ درد کمر شروع ہوگیا اور بخار بھی تھا مگر فوراً جواب دینا چاہا، خط لانے والے کے لیے ارشاد ہوا ذرا ٹھہریں۔ معلوم ہوا کہ وہ تو اسی وقت چلتا ہوا اور وہ سید صاحب اسے پہچانتے بھی نہیں کہ کون تھا کہاں گیا۔ حکیم مولوی خلیل اﷲ خاں صاحب بریلوی رامپور سے وطن واپس تشریف لانے والے تھے ان کا انتظار کرکے دوسرے مفاوضہ عالیہ ان کے ہاتھ مرسل ہوا۔
Flag Counter