Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
202 - 212
وقد تو اترذلک من لدن الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنھم وھلم جرا تواتر کتا بۃ الصلوۃ وسائرالمکتوبات علانیۃ وجہرا بل ھوامر مجبول علیہ اجبال البشر من اٰمن منھم ومن کفرفتری عوام کل فرقۃ تاتی علماء ھاوالبّاء ھا وتسال دواء داجہلہا من تحسبہم اطباء ھا علما من لدیھم بانہ القاضی ما علیہم فاسألھم ابتقلیدکان ام باجتہاد فسیأتیک بالاخبار من لم تزودہ بالازواد اوانت بنفسک انبئنی عن قولک لی ارغب الیک ان تعلمنی وانا عائذ باﷲ ان یکون سؤلک سؤل متعنت عنید بل سؤل طالب للحق مستفید فباجتہاد اتیتنی ام بتقلیدفان الا مر دین والعبث فیہ من صنیع المفسدین فلیس عن اعتقاد حکم محیدولا اعتقاد الا عن منشأ سدید وقد انحصرفی الاجتہاد و التقلید ثم اذلم تہتد وانت تخدم الطلبۃ مذثلثین عاما لدلیل یدلک علٰی استحباب التقلید فضلاً عن وجوبہ فضلا عن افتراضہ قطعاً وابراما فسواء علیک ان یکون عندک حکم فی القضیۃ من تحریم اوکراھۃ اواباحۃ شرعیۃ اوانت شاک فیما ھناک اوشاک و شاک فی انّک شاک ایًّا ماکان فلا محیدلک من تجویزجواز ترک التقلید وتلقی الاحکام من الکتاب المجید لکل عامی جھول بلید لایعرف الغث من السمین ولا الشمال من الیمین ولا الظلمات ولا النورولا الظل و لا الحرور اذلولاہ لما اعتراک شک شائک فی وجوب التقلید علٰی اولٰئک فضلا عن الاستحباب فضلا عن الزام الاجتناب فضلا عن التیقن الکذاب بخصوص نوع من اضداد الایجاب ولا وربک لن یستقیم لک ذٰلک الا باحد مسلکین من اشنع المسالک موقعین السالک فی اسؤ المہالک زعم ان الناس عن اٰخرھم من اھل الاجتہاد فی جل مایحتاجون الیہ فلہم یدان باستنباط الا حکام وابتداع سبیل اخر الی تعرفہا غیر التقلید والاجتہاد فیعلمون من دون علم ولا استعلام وانا اعیذک برب المشرقین ان تقول بشیئ من ھذین الشططین وان وجدت احدا من رعاع الجاھلین یتفوہ بمثل الباطل المبین فاﷲ اﷲ خذبیدہ والی اسبتعلاج الدماغ ارشدہ واھدہ فقدا خذہ جنون والجنون فنون و الدین نصح والنصح یثیب والطیب اللبیب الحاذق الاریب الاجمل منک قریب دع عنک العوام نبئنی عن نفسک فی تلک الاعوام کیف عبدت اﷲ وعاملتا لعبید اباجتہادام بتقلید وعلٰی کل فالا نسان علٰی نفسہ بصیرۃ ولوالقی معاذیرہ ھل انت من شروط الاجتہاد ملی قادر علیہ ام عاجز خلی، علی الاخرما انت اویش انت حتی لایجب علیک التقلیدایسوغ الاجتہاد لعاربلید عائر بائر ذی عی شدید ھل ھوالاعی بعید ام لتعرف الاحکام سبیل جدید وھاانت حاصرہ فی اجتہاد و تقلید، وعلی الاول ھل یسوغ لک الاجتہاد فی جمیع غصون الشرع ام فی بعص دون بعض من فنون الاصل والفرع، علی الاخیر ما انت فیہ مجتہدفعین وما لا فسبیلک فیہ فبین، وعلی الاول بل ھوالمتعین وعلیہ المعول اذلولم یحل لک الاجتہاد فی جمیع المواد لوجب التقلید فی بعض الفنون وبالخلومن اھتدائہ لم تخل سنون، فیا قریب مالک ورقیب ابن ادریس ھات ھنیہاتک وافتح الکیس فات بعشرصور مفتریت من مسائل فقہ اجتہادیات تکون انت اباعذرھا لاتستند باحد فی بناء جدرھا لا فی بطن ولا فی ظھرلا فی وردو لا فی صدرو لا فی جرح ولا تعدیل ولا تفریع ولا تاصیل فیظھر الحق ویزول الغرور ولایغرنک باﷲ تعالٰی الغروروکانی بک مسترشد مما وعیت ان القیت السمع وانت شہید ان کلامی کان فی نفس التقلید من حیث ھؤلا اثر فیہ للتقید فلا معنی للسوال عن خصوص نوع وتعیینہ و مابان محملا وماکان مجملاً فما الا قتراح لتبیینہ اما ان المکلف ھل یتخیرام یخیر فبحث اخر والکلام فیہ فاش مشتہر ولہما ثالث فی الالتزام والکل خارج عن ھذا المرام فایاک ثم ایاک ان تخلط الکلام وتخرج المقال عن النظام وعلیک بالانصاف خیر الاوصاف ، فان رایت ماالتمستہ انت ولم یاتک بدءً انہ ھو الطریق القویم فذاک المامول من طبعک السلیم وودک القدیم ولا فانی اعوذ بربی وربک ان تکابر تحقیقا اوتدابر صدیقا وان ابیت فما ان بٰات ما اتیت ولعلک تجدمن یجازی بمثل ولا یمل مکابرۃ ولا یخشی مدابرۃ واﷲ الہادی ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولانا الامان الامین فاتح الخلق وخاتم النبیین محمد شارع الاجتہاد للماھرین وامر التقلید للقاصرین وعلی اٰلہ الطاھرین وصحبہ الظاھرین و مجتہدی ملتہ والمقلدین لھم باحسان الٰی یوم الدین وبارک وسلم ابدالاٰبدین اٰمین اٰمین والحمدﷲ رب العلمین۔
اور بے شک وہ زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے آج تک برابر فرضیت نماز و دیگر فرائض کی طرح علانیہ و ظاہر متواتر ہے بلکہ وہ ہر انسان کی جبلی بات ہے خواہ وہ مومن ہے خواہ کافر ہے لہذا ہر گروہ کے عوام کو دیکھو گے کہ اپنے یہاں کے اہل علم و دانش کے پاس آتے اور جنہیں اپنا طبیب سمجھتے ان سے مرض جہل کی دوا پوچھتے ہیں اس لیے کہ وہ یقیناً اپنے دل سے جان رہے ہیں کہ ہم اسی طور پر اپنے فرض سے ادا ہوں گے اب ان سے پوچھیے یہ تقلید سے تھایا اجتہاد سے ، عنقریب تمہیں وہ خبریں لا کر دے گا جسے تم نے توشہ نہ بندھوادیا تھا یا آپ خود ہی اپنے اس حال بولیے جو آپ نے مجھے لکھا کہ میں آپ کی طرف آرزو لاتا ہوں کہ مجھے تعلیم فرمائیے اور میں اﷲ عزوجل کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ آپ کا سوال کسی باطل کوش سرکش کا سوال ہو بلکہ حق طلب فائدہ خواہ کا سوال ہے تو اب آپ میرے پاس اجتہاد سے آئے یا تقلید سے کہ یہ معاملہ دین کا ہے اور دین میں لہو مفسدوں کا کام ہے تو کسی نہ کسی حکم کے اعتقاد سے چارہ نہیں اور اعتقاد حاصل نہ ہوگا مگر منشاء درست سے اور اجتہاد و تقلید میں منحصر ہوچکا پھر جب کہ آپ نے اس تیس برس کی خدمت طلبہ میں دلیل استحباب تقلید کی طرف ہدایت نہ پائی چہ جائے فرضیت قطعیہ یقینیہ ، تو اب آپ پر یکساں ہے خواہ آپ کو تقلید کا کوئی حکم معلوم ہو کہ وہ شرعاً حرام یا مکروہ یا مباح ہے یا آپ کو شک ہو یا حکم میں شک ہو اوراس میں بھی شک ہو کہ آپ کو شک ہے بہرحال اس سے مفر نہیں کہ آپ تقلید چھوڑنا اور قرآن مجید سے احکام نکالنا ہر ایسے عامی جاہل احمق کے لیے جائز جانیں جسے نہ لاغرو فربہ میں تمیز ہو، نہ دہنے بائیں میں، نہ اندھیری پہچانے نہ روشنی نہ سایہ نہ دھوپ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان لوگوں پر تقلید خود واجب ہونے میں کوئی خلش ڈالتا ہوا شک آپ کو پیش آتا نہ کہ استحباب نہ کہ تقلید سے بچنے کا ایجاب نہ کہ وجوب تقلید کی کسی خاص ضد پر جھوٹا یقین اور تمہارے رب کی قسم یہ تمہیں راست نہ آئے گا مگر دوراہوں میں ایک سے جو سخت بری راہوں سے ہیں اور اپنے چلنے والے کو نہایت بدمہلکے میں ڈالنے والی ہیں یا تو گمان اس کا کہ تمام لوگ ہر مسئلے میں جس کی انہیں حاجت ہو اہل اجتہاد سے ہیں انہیں احکام نکالنے پر دسترس ہے یا یہ کہ تقلید و اجتہاد کے سوا ان تمام احکام پہچاننے کا اور کوئی طریقہ گھڑئیے کہ یہ جہال بے علم بے سیکھے احکام جان لیں اور میں آ پ کو پروردگار مشرقین کی پناہ میں دیتا ہوں کہ آپ ان دونوں ظالموں میں سے کسی کے قائل ہوں اور اگر کسی کمینے جاہل کو پائیں کہ ایسا صریح باطل بکتا ہے تو للہ خدا کو مان کر اس کا ہاتھ پکڑیئے اور علاج دماغ کی طرف اسے ہدایت کیجئے کہ اسے جنون نے آلیا اور جنون طرح طرح کا ہوتا ہے اور دین خیر خواہی ہے اور خیر خواہی پر ثواب ملتاہے اور طبیب حاذق عاقل زیرک  اجمل اکمل آپ کے پاس موجود ہیں عوامی سے در گزر یے خود اپنے حال سے خبر دیجئے آپ نے ان برسوں میں اﷲ کو کیونکر پوجا اور بندوں سے کس طرح معاملہ کیا آیا اجتہاد سے یا تقلید سے ، اور بہر تقدیر آدمی کو اپنے حال پر خوب نگاہ ہے اگرچہ حلیے کتنے ہی بنائے ، آپ شروطِ اجتہاد سے پُر ہیں، اجتہاد پر قادر ہیں یا عاجز و خالی ہیں، برتقدیر اخیر آپ کیا اور آپ کی حقیقت کتنی کہ آپ پر تقلید واجب نہ ہو کیا ایسے کے لیے اجتہاد جائز ہوگا جو عاری بے عقل متزلزل ہالک سخت عاجز ہو تو یہ دور کی گمراہی ہے یا احکام پہچاننے کے لیے کوئی نئی راہ اور ہے اور یہ ہیں آپ کہ خود اجتہاد و تقلید میں اس کا حصر کرچکے ہیں۔ برتقدیر اول کیا آپ کو علومِ شرعیہ کے تمام اصول و فروع کی شاخوں میں اجتہاد  پہنچتا ہے۔ یا کسی میں پہنچتا ہے کسی میں نہیں۔ برتقدیر اخیر جس میں آپ مجتہد ہیں، اس کی تعیین کیجئے اور جس میں مجتہد نہیں اس میں اپنی راہ بتائے۔ اور برتقدیر اول بلکہ وہی خوامخواہ ماننی ہے اس لیے کہ اگر تمام مواد میں آپ کے لیے اجتہاد حلال نہ ہوتا تو بعض فنون میں ضرور تقلید واجب ہوتی اور یہ برس کے برس اس کی طرف ہدایت پانے سے خالی نہ جاتے تو اب امام مالک کے قریب امام شافعی کے رقیب اپنی پونجیاں دکھائیے اور تھیلی کھولئے فقہی مسائل اجتہادی کی دس گھڑی ہوئی صورتیں لائیے جن کا حکم خاص آپ نے استنباط کیا ہو جس کی بنا کے ظاہر و باطن و اول و آخر وجرح و تعدیل و تفریع و تاصیل کسی بات میں آپ دوسرےکی سند نہ پکڑیں ابھی ابھی حق ظاہر ہوا جاتا اور دھوکا زوال پاتا ہے اور دیکھو تمہیں اللہ کے معاملے میں فریب نہ دے وہ فریبی، اور مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ میرا بیان آپ نے حضور  قلب سے کان لگا کر سنا تو راہ پالیے ہوں گے میرا کلام نفس تقلید کی محض ذات میں تھا اس میں کوئی اثر کسی قید کا نہ تھا تو خاص کسی نوع کی تعیین سے سوال کےکوئی معنی نہیں اور جس کلام کا مطلب صاف تھا کوئی اجمال نہ تھا اس کی شرح چاہنا کیا۔ رہا یہ کہ مکلف بہتر کو چھانٹے یا مختار ہے، یہ دوسری بحث ہے اور اس میں کلام مشہور و معروف ہے اور ان دو کے لیے مسئلہ التزام میں تیسرا اور ہے اور سب اس مطلب سے باہر ہیں تو دیکھو خبردار کلام کو خلط نہ کرنا اور بات کو اس کے سلسلے سے باہر نہ لے جانا اور آپ پر انصاف لازم ہے کہ وہ بہترین اوصاف ہے۔ پس اگر آپ دیکھیں کہ یہ جواب جو آپ کی خواہش پر آیا اور اس نے خود پہل نہ کی یہی سیدھا راستہ ہے جب تو آپ کی طبع سلیم و دوستی قدیم سے اس کی امید ہے ورنہ میں اپنے اور آپ کے رب کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ تحقیق کے ساتھ مکابرہ کریں یا دوست سے قطع دوستی، اور اگر نہ مانتے تو میں ایسا نہ کروں گا اور کیا عجب کہ آپ کو کوئی ایسا مل جائے جو آپ ہی جیسا برتاؤ کرے، نہ مکابرے سے تھکے نہ قطعِ محبت سے ڈرے، اور اللہ ہادی ہے اور دونوں جہان میں اسی کے لیے حمد ہے، اور اللہ کی درودیں ہمارے سردار و مولٰی و پناہ و امین، آغازِ خلقت و انجامِ رسالت محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جنہوں نے ماہروں کے واسطے اجتہاد مشروع کیا اور کوتاہ دستوں کو ان کی تقلید کا حکم دیا، اور ان کی پاکیزہ آل اور غلبہ والے اصحاب اور مجتہدین ملت اور خوبی کے ساتھ قیامت تک ان کے مقلدین پر اور اللہ کی برکتیں اور ا س کا سلام ہمیشگی والوں کی ہمیشگی تک آمین آمین ! اور ساری خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان کا مالک ہے۔ت)
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ

 بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم 

لعشربقین من جمادی الاخرۃ  ۱۳۱۹ھ
Flag Counter