Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
201 - 212
بل لو رجعت الٰی نفسک لا لغیت غدک ھذا کمثل امسک وانا اجیرھا باﷲ ان تبہت اوتکابر اوتتعامی عن البدر وھو زاھر سلھا ھل ﷲ سبحنہ وتعالٰی علی العباد مالا یدرک علمہ اول مایدرک الابنص اواجتہاد فان ابت فمنکرا اتت وان سلمت سلمت واسلمت فسلھا اتربن الناس کلھم عالمین بما لہم وعلیہم من امورالدین لا حاطتھم جمیعا بمعا نی النصوص و اقتدارھم طراعلی استنباط المسکوت عن المنصوص فان عممت فقد عمیت وان احجمت فقد ھدیت فسلھا عن الذین لایعلمون و لایبصرون ولا علی الاجتہاد یقتدرون اولٰئک متروکون سدی فان انعمت فقد ضلت الہدی وان ابصرت فانکرت فسلہا مالھم من السبیل الٰی ان یعلموا احکام الجلیل ان یروا بانفسہم وھم لایبصرون ویستنبطوا وھم لایقدرون اویرجعوا الی العلماء المرشدین فیعتمدون علیھم فی امور الدین ویعلموا بقولھم منقادین فان بالا ول اجابت فقد بھتت وخابت
لایکلف اﷲ نفساً الا وسعہا ۔۱ ؎
وان ابت وابت الی الاٰخراصابت و وقد وجدت ضالۃ ضلت ربعہا،
بلکہ آپ اپنی عقل ہی کی طرف رجوع لاتے تو اپنی اس آئندہ(عہ۱) کل کو گزشتہ کل کی طرح پاتے۔اور میں آپ کی عقل کو خدا کی پناہ میں دیتا ہوں اس سے کہ انہوئی جوڑے یا ڈھٹائی کرے یا چمکے چاند ماہِ تمام سے اندھی بنے اپنی عقل ہی سے پوچھیے کیا اللہ تعالٰی کے لیے بندوں پر کچھ ایسے احکام ہیں یا نہیں کہ ابتداءً ان کا علم بغیر تصریح شارع یا اجتہاد مجتہد کے حاصل نہیں ہوتا۔ اگر وہ انکا ر کرے تو واجب الانکار شناعت لائی اور اگر مانے تو سلامت رہی اور طاعت لائی۔اب اس سے پوچھیے کیا تیرے خیال میں تمام آدمی حلال و حرام و جائز واجب دین کے جتنے احکام ان پر ہیں سب کے عالم میں نصوص شریعت کے معانی کا سب کو احاطہ ہے۔ منصوص سے مسکوت کا حکم پیدا کرنے پر سب کو قدرت ہے پس اگر وہ تعمیم کرے تو یقیناً اندھی ہے اور اس سے باز رہے تو ضرور مہتدی ہے۔ اب اس سے ان کا حکم پوچھیے جنہیں نہ علم ہے نہ بصیرت نہ اجتہاد کی قدرت، کیا وہ شتر ( عہ۲) بے مہار بنا کر چھوڑ دیئے گئے ہیں؟ اگر ہاں کہے تو قطعاً گمراہ ہوئے اور اگر آنکھ کھولے اور بے مہاری سے انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے انکار کرے تو اب اس سے پوچھیے کہ ان کے لیے احکامِ الہی جاننے کی کیا سبیل ہے آیا یہ کہ خود دیکھیں حالانکہ وہ نگاہ نہیں رکھتے، اجتہاد کریں حالانکہ قدرت نہیں رکھتے یا یہ کہ ہدایت و ارشاد والے علماء کی طرف رجوع لائیں، امورِ دین میں ان پر اعتماد کریں جو وہ فرمائیں مطیع ہو کر اس پر کاربند رہیں، اگر جواب میں پہلی بات کہی تو یقیناً بہتان اٹھاتی ہے اور نامراد رہی ، اور اگر اس سے انکار کرکے دوسری طرف پلٹی تو راہِ صواب پر آئی اور جس گم شدہ کا مکان نہ جانتی تھی اس کی ملاقات پائی،
عہ۱: آئندہ کل کا حال مخفی ہے اور گزشتہ کا ظاہر یعنی دل ہی میں سوچتے تو تقلید کی فرضیت کہ آپ پر مخفی ہے ظاہر ہوجاتی ۱۲مترجم     عہ۲: یعنی ان پرشریعت کے کچھ احکام نہیں ۱۲ مترجم
 (۱؂ القرآن الکریم  ۲/ ۲۸۶)
ثم من العجب سؤلک عمایسآل عنہ مثلک ، ان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أ باجتہاد اوبتقلید فلقد قصرت ولا قصر وزعمت الحصرحیث لا حصر اماعلمت ان الضروری فی علمہ عنھما جمیعا لغنی الیس ان کل مسلم یعلم ضرورۃ من الدین علما لا یخالطہ ظن و لاتخمین ان ﷲ علیہ فرائض وحرمات وحدود اوتکلیفات ویعلم منہم من لایعلم علما وجدانیا ان لایعلم وانہ لایقدر ان یعلم الا ان یعلم ویعلم ان لا براء ۃ ذمۃ الا بالعمل ولاعمل الا بالعلم ولا علم الا لمن تعلم فینقدح فی ذہنہ بداھۃ ان علیہ سؤال من اذا سئل ھدی وعلم ھذا سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قائلا وقولہ اصدق مقال الاسالوااذ لم یعلموا فانما شفاء العی السوال ۔ ۱ ؎
پھر عجب بات ہے آپ کا ایسے امر سے سوال جسے آپ جیسا دریافت نہ کرتا کہ مکلف کو تقلید فرض ہونے کا علم اجتہاد سے ہے یا تقلید سے، آپ نے قصر کیا اور قصر نہ تھا اور حصر سمجھے جہاں حصر نہ تھا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ بدیہی بات اپنے جاننے میں ان دونوں سے یکسر بے نیاز ہے۔ کیا ہر مسلمان بالبداہت ایسے یقین سے جس میں کسی گمان و تخمین کی آمیزش نہیں اپنے دین کا یہ حکم نہیں جانتا کہ اللہ عزوجل کے لیے اس پر کچھ فرض ہیں کچھ حرام کچھ حدیں ہیں کچھ احکام اور ان میں جو جاہل ہے وہ اپنے وجدان سے جانتا ہے کہ جاہل ہے اور یہ کہ جب تک اسے بتایا نہ جائے خود جان لینے سے عاجز ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ بے عمل کیے چھٹکارا نہیں اور بے علم عمل کا یارانہیں اور بے سیکھے علم نہ آئے گا تو بداہۃً اس کے ذہن میں خود آجائے گا کہ اس پر ایسے سے پوچھنا لازم ہے جو مسئلہ بتا کر ہدایت فرمائے اور یہ ہیں ہمارے مولا رسول اللہ صلی اللہ تعا لٰی علیہ وسلم فرماتے ہوئے اور ان کا ارشاد ہر قول سے زیادہ سچ ہے الا سالواالحدیث یعنی کیوں نہ پوچھا جب خود نہ جانتے تھے کہ عجز کا علاج تو سوال ہی ہے
 (۱؂ سنن ابی داود  کتاب الطہارۃ  باب المجدور یتیمم  آفتاب عالم پریس لاہور  ۱/ ۴۹)

(سنن دار قطنی  کتاب الطہارۃ   باب جواز التیمم  لصاحب الجراح  حدیث  ۷۱۸  دارالمعرفۃ  بیروت  ۱/ ۴۳۵ )

(مشکوۃ المصابیح  باب التیمم  الفصل الثانی  قدیمی کتب خانہ کراچی  ص ۵۵)
Flag Counter