Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
200 - 212
مفاوضہ اوّ ل از حضرت عالمِ اہلسنت مدظلہ الاکمل بجواب خطِ اول
بسم اﷲ الرحمن الرحیم، 

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ،

 الی الفاضل الکامل الشیخ محمد طیب المکی سددہ اﷲ بقلب ملکی، اما بعد فانی احمد اﷲ الیک، سلام علیک، وصل الکتاب وحصل الخطاب، غب ماطال امد وزال ابد، و ظن الوداد ان قد نفد اوکان قد و ممایسر ان التخاطب فی امردینی والسوال عن فرض یقینی واحببت الجواب رجاء للثواب واظہاراللصواب، وقضاء لحق اخوۃ الاحباب،
بنام فاضل کامل شیخ محمد طیب مکی سددہ اﷲ بقلب ملکی۔ بعد حمد وصلوۃ میں آپ (عہ۱ ) سے حمدِ الہٰی بیان کرتا ہوں، سلام علیک۔ خط آیا، مخاطبہ لایا، بعد اس کے کہ ایک زمانہ گزرا اور مدتِ دراز نے انقضاپایا اور دوستی نے گمان کرلیا تھا کہ جاچکی یا اب گئی، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ گفتگو ایک امر دینی میں ہے اور سوال ایک فرض یقینی سے، تو میں نے جواب دینا چاہا بامیدِ ثواب واظہارِ صواب و ادائے حق محبت احباب،
عہ۱ : یہ مزاج پرسی کے جواب میں شکرِ الہٰی کا اظہار ہے ۱۲ مترجم۔
ولو انک یا اخی رجعت فی ھذا الی الکلام المبین لاغناک عن مراجعۃ مثلی من المقلدین کما بہ تغنیت فیما تمنیت عن الائمۃ المجتہدین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین الم ترالٰی ربّک کیف یقول وقولہ الحق وما کان المؤمنون لینفرواکافۃ فلولا نفرمن کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقّہوا فی الدین ولینذرواقومھم اذا رجعواالیہم لعلہم یحذرون ، فقد فرض التفقہ فی الدین واعفی عنہ عامۃ المومنین و لم یترک احدا منھم سدی فانما  ارشد للتقلید من اھتدی الم تعلم ان اﷲ علی خلقہ فرائض لا تترک ومحارم لا تنتھب وحدودا من تعداھا فقد ظلم وھلک ولکلہا او جلہا شرائط وتفاصیل لایہتدی الیہا الا قلیل،
وما یعقلہا الا العالمون ،  ۲ ؎  فاسئلوا ااھل الذکران کنتم لاتعلمون  ۔ ۳ ؎
برادرم، اگر آپ اس معاملے میں قرآن عظیم کی طرف رجوع کرتے تو مجھ جیسے مقلد مقلد کی جانب رجوع کی حاجت نہ ہوتی جیسا کہ آ پ اپنے خیال میں قرآن فہمی کے باعث حضرات ائمہ مجتہدین رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین، سے بے نیاز ہوگئے ہیں، آپ نے دیکھا کہ آپ کا رب کیا فرمارہا ہے۔اور اس کا قول سچا ہے وماکان المؤمنون لینفرواکافۃ الآیۃ یعنی مسلمان سب کے سب تو باہر جانے سے رہے تو کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ سے ایک ٹکڑا نکلتا کہ دین میں فقہ سیکھے اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائے اس امید پر کہ وہ خلافِ حکم کرنے سے بچیں، تو اللہ تعالٰی نے فقہ سیکھنا فرض فرمایا اور عام مومنین کو اس سے معاف فرمایا اور مہمل اور آزاد کسی کو نہیں رکھا ہے تو ضرور اہلِ ہدایت کو تقلید ہی کا ارشاد ہوا۔ (عہ۱ ) کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عزوجل کے لیے اپنی مخلوق پر کچھ فرض ہیں کہ چھوڑنے کے نہیں کچھ حرام ہیں کہ حرمت توڑنے کے نہیں، کچھ حدیں ہیں کہ جوان سے آگے بڑھے ظالم ہو اور ہلاکت میں پڑے، اور ان سب یا اکثر کے لیے شرطیں اور تفصیلیں ہیں جنہیں گنتی ہی کے لوگ جانتے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں مگر عالموں کو، تو اہلِ ذکر سے مسئلہ پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔
عہ۱:  یعنی جب احکامِ الہٰیہ ہر عام و عامی پر ہیں آزاد کوئی نہ چھوڑ ا گیا اور فقہ سیکھنے کو صاف فرمادیا کہ سب سے نہیں ہوسکتا، ہر گروہ سے بعض اشخاص سیکھیں اور اپنی قوم کو احکام بتائیں کہ وہ مخالفتِ حکم سے بچیں تو صاف صاف عام لوگوں کو ان فقیہوں کی بات پر چلنے کا حکم ہوا اور اسی کا نام تقلید ہے جس کی فرضیت قرآن عظیم کی نص قطعی سے ثابت ہوئی ۱۲ مترجم۔
 ( ۱ ؎  القران الکریم ۹/ ۱۲۲)

( ۲ ؎القرآن الکریم ۲۹/ ۴۳)

( ۳ ؎ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۳)
Flag Counter