Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
20 - 212
فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں یہ دو حرف مختصر بقد رضرورت ذکر کیے ، ورنہ روزاوّل سے اب تک جو کچھ ہوا  ، اور آج سے قیامت ،  اور قیامت سے اَبدُالاباد تک جو کچھ ہوگا وہ سب کا سب اِن دو لفظوں کی شرح ہے کہ :
   یُدَبِّرُ الامر  ۱ ؎
 ( اور تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے۔ت)
(۱؂ القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)
سُبْحَانَہ مَااعظم شانہ
( وہ پاک ہے اور کتنی عظیم اس کی شان ہے۔(ت)
مسلمان غور کرے کہ یہ عظیم حکیم کام جن کے بحر سے ایک قطرے  ،  اور صحرا سے ایک ذرے کی طرف ہم نے اجمالی اشارہ کیا ،  شبانہ روز انسان کے بدن میں ہواکرتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں نفوس ناطقہ کی زمین کو اُن کی خبر نہیں ہوتی—— ہزاروں میں دو ایک  ،  سالہا سال کے ریاض و تعلیم میں ،  اُن میں سے اقل قلیل پر بقدرِ قدرت اطلاع پاتے ہیں۔ اِس پر جو کل بگڑی بنائے نہیں بنتی۔جو ڈور الجھے سلجھائے نہیں سلجھے ، پھرکیسا سخت جاہل (عہ) ہے جو تدبیر اَبدان ،  نفس کے سر دھرے—— اچھا  مُدَبِّر اور اچھے مُعْتَقِدْ !!
ضعف الطالب والمطلوب ۲ ؎
۔(کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا ۔ت)
(۲؂ القرآن الکریم ۲۲/ ۷۳)
عہ :  مگر سُفہائے فلسفہ  ،  نظر ائے ہبنقہ سے کیا جائے شکایت کہ وہ افعال متقنہ تصویر جنین کو نفس حیوانی بلکہ قوت غیر شاعرہ کی طرف مستند کرنے میں بھی باک نہیں رکھتے۔ع
ماعلٰی مِثلھم یُعَدُّ الْخَطاء
 (ان جیسوں پر خطاء شمار نہیں کی جاتی۔ ت)

سبحان اﷲ ! خالقِ مختار جَلَّت قُدرَتُہ کی طرف بلاواسطہ تمام کائنات کے استنادمیں ان کے لیے وہ زہر گھلا ہے کہ یہ حق ناصع کسی طرح قبول نہیں  ،  اور ایسی بدیہی خرافتیں منظور و مقبول ،
   وَمن لم یجعل اﷲ لہ نوراً فمالہ من نور ۳ ؎۔
 (اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔ ت ) ۱۲ منہ ( من المصنف قدس سرہ)
(۳؂ القرآن الکریم ۲۴ /۴۰)
سبحن اﷲ اگر یہی بات واقعی ہے  ، اور ہمارے رب تعالٰی کو ان امور سے اصلاً علاقہ نہیں،جیسا کہ اس متفلسف نے ادعا کیا تو وائے جہالت ! نفس ہی کو نہ پُوجے ! جو ایسی قاہر قدرت رکھتا ،اور بہ طورِ خود اپنے بدن کی یہ جلیل تدبیر کیا کرتا ہے——
وربُّنا الرحمٰن المستعان علٰی ماتصفون  ،  ۱ ؎
 (اور ہمارے رب رحمن ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو ۔ ت)
 (۱؂ القرآن الکریم    ۲۱/ ۱۱۲)
زیدکے اس قول میں ایک کفر جلی تو یہ ہے ——
ثُمَّ اَقُوْلُ
 ( میں پھر کہتا ہوں۔ت) ناظر عارف ،  مناظر منصف آگاہ و واقف کو سوق عبارت سے خالقیتِ عقول متبادر(عہ۱) و منکشف——اور قائلانِ عقول کا یہ مسلک ہونا اس کا اقوٰی مشید و مرصف ——   اگرچہ پائے مکابرلنگ ،  نہ مجال مناقشہ تنگ —— اور اگر نہ سہی  ،  تاہم(عہ۲) تعادل کفتین میں اشتباہ نہیں——  اور نہ بھی مانو تو ایہام شدید سے بچنے کی راہ نہیں——  اور ایسی جگہ مجرد ایہام بحکم شرع ممنوع و حرام ہے۔ کما سیاتی۔
عہ ۱:  اقول فقیر ایک مثالِ واضح ذکر کرتا ہے کہ منصف کو کافی ہو اور مُتعسف کو دفتر بس نہیں——  مثلاً اگر کہا جائے کہ قرآن مجید سے علاقہ رکھنے میں لوگ مختلف رنگ پر ہیں——  کوئی بہ قوت اجتہاد اس سے استنباط احکام کرتا ہے ، کوئی بہ حزم و احتیاط اس کی تفسیر لکھتا ہے  ،  کوئی حافظ ہے کوئی قاری ،  کوئی سامع کوئی تالی ،  ایک معلم دوسرا متعلم —— یہ سب لوگ اس سے سچا علاقہ رکھتے ہیں——  اور بعض وہ جن کے لیے ان علاقوں میں سے کچھ نہیں ،  اور انہیں قرآن کریم سے تعلق نہیں مگر مثلاً علاقہ عداوت ،تکذیب جیسے مصنف منطق الجدید ومجوس و ہنود و نصارٰی و یہود۔

ایمان سے کہنا اس کلام سے صاف صاف یہی سمجھا جائے گا یا نہیں کہ قائل نے مصنف منطق الجدید کو بھی دشمن و مکذب قرآن بتایا——  اگر چہ لفظ "مثلاً " میں اتنی گنجائش ہے کہ یہ علاقہ مذکورین مابعد کے لیے سمجھیں اور منصنف مسطور کے لیے اور کچھ تصور کرلیں۔مثلاً فال کھولنا یا تجارت کرنا—— تقصیر معاف ! اس نہج خاص پر وضع مثال اظہارِ حق کے لیے ہے کہ آدمی اپنے مقابلہ میں خواہی نہ خواہی ظاہر متبادر پر جاتا ہے ، اور وہاں دوسرے کی طرف سے ابدائے عذر کو احتمالاتِ  بعید تلاش نہیں کرتا——  اب اس مثال کو اپنی عبارت سے ملا کر دیکھ لیجئے کہ بعینہ اُسی رنگ کی ہے یا نہیں؟——  پھر جب یہاں یہ متبادر تو وہاں سے ادعائے خالقیت عقول کیونکر ظاہر نہ ہوگا؟ واﷲ تعالٰی الھادی ۱۲ عبدہ سلطان احمد خان غفرلہ ۔

عہ ۲:  یہ سب تنزُّلات بہ لحاظِ مجادلین ہیں ورنہ اصل کا رَد ہی تبادرِ خالقیت ہے کما بینا ۱۲ س عفی عنہ ۔
بہرحال اگر یہی مقصود(عہ۱) تو اس کا کفرِ بواح ہونا خود ایسا بین کہ محتاج بیان نہیں——
عہ ۱ : کماھو الظاھر المتبادرواِن انکر المکابر ۱۲ س عفی عنہ۔
رب تبارک و تعالٰی فرماتا ہے :
  ھل من خالق غیر اﷲ ۱ ؎
کیا کوئی اور بھی خالق ہے خدا کے سوا۔
( ۱ ؎۔ القرآن الکریم  ۳۵/۳)
اور ارشاد فرماتا ہے عزوجل :
یٰایھا الناس ضرب مثل فاستمعو الہ انّ الذین تدعون من دون اﷲ لن یخلقوا ذُباباً ولوا جتمعوالہ ۲ ؎ ۔
اے لوگو! ایک کہاوت بیان کی گئی اسے کان لگا کر سنو ،  بے شک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا معبود ٹھہراتے ہو ہر گز ایک مکھی نہ بنائیں اگرچہ اس پر ایکا کرلیں۔
( ۲ ؎۔ القرآن الکریم ۲۲ /۷۳)
اور فرماتا ہے
جَلَّت عظمتہُ
الا لہ الخلق والامرتبرٰک اﷲ ربُّ العٰلمین۳ ؎ ۔
سن لو ! خاص اُسی کے کام ہیں خلق (عہ۲) وتکوین ،  برکت والا ہے اللہ مالک سارے جہان کا۔
( ۳ ؎۔ القرآن الکریم  ۷ /۵۴ )
عہ ۲ :  یہاں خلق سے مراد مادہ سے بنانا جیسے آدمی نطفہ سے ،  اور تکوین سے مراد امر کن سے موجود فرمادینا جیسے ارواح کی پیدائش ۱۲ سلطان احمد خاں بریلوی عفا عنہ المولی القوی۔
اور فرماتا ہے
تعالٰی شانُہ  :
  اﷲ الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شیئ سبحٰنہ وتعالٰی عمّا یشرکون۴ ؎۔
اﷲ وہ ہے جس نے تمہیں بنایا ،  پھر روزی دی ،  پھر مارے گا پھر جِلائے گا۔ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے ؟ پاکی اور برتری ہے اُسے ان کے شریک سے۔
(۴؎القرآن الکریم        ۳۰ /۴۰)
اور سُورہ لقمان میں افلاک و عناصر و جمادات و حیوانات و آثارِ علویہ و نباتات سب کی طرف اِجمالی ارشارہ کرکے ارشاد فرماتا ہے
تقدس اسمہ  :
  ھذا خلق اﷲ فارونی ماذاخلق الذین من دونہ بل الظّٰلمون فی ضلٰلٍ مبین  ۱ ؎ ۔
یہ سب تو خدا کا بنایا ہوا ہے وہ مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا اوروں نے کیا بنایا ،  بلکہ ناانصاف لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
صدق اﷲ سبحٰنہ_______
 (۱؎القرآن الکریم      ۳۱ /۱۱)
  یہاں تک کہ اس امر کا باری عزاسمہ سے خاص ہونا مدارک مشرکین عرب میں بھی مرتسم تھا۔
قال جل ذکرہ  :
   ولئن سالتھم من خلق السموات والارض لیقولن اﷲ ۲ ؎۔
اور بے شک اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمان و زمین کس نے بنائے  ،  ضرور کہیں گے اللہ نے۔
 (۲؎القرآن الکریم     ۳۱ /۲۵  و   ۳۹/ ۳۸)
یہ سخافتِ جلیہ وخرافت علیہ جس نے انہیں امیر الحیر بنایا عُقلائے فلسفہ کا حصہ تھی۔
قاتلھم اﷲ اَنّٰی یؤفکون ۳ ؎
( اللہ تعالٰی انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)
(۳؎القرآن الکریم   ۹ /۳۰ و ۶۳/ ۴)
سلَّمنا کہ زید کا یہ مطلب نہیں ،  نہ وہ عقول عشرہ کو خالق بالذات و موجد مسقتل مانے بلکہ انہیں صرف شرط و واسطہ جانتا ،  اور باری تعالٰی کی تاثیر و فاعلیت کا متمم مانتا ہے تو گویا "مثلاً  "اسی تنویع کی طرف مشیر ،کہ علاقہ خلی ہو یا وساطت فی الخلق ،  اور اس قدر سے اسے انکار کی گنجائش نہیں ،کہ دوسرے رسالہ میں خود اس کا اقرار کیا اور اسے مذہب محقق و مشرب حق قرار دیا____  تو یہ خود کفر و واضح وارتداد فاضح ہونے میں کیا کم ہے۔ کہ اس میں صراحۃً اس قادر ذوالجلال  ، غنی متعال تبارک و تعالٰی کو خلق و ایجاد میں غیر کافی ،اور دوسری چیز کے توسط وآلیت کا محتاج اور صاف صاف اس قدیر مجید عزوجل کو فاعلیت میں ناقص  ،  اور عقول عشرہ کو اس کا کامل و تام کرنے والا مانا ____
وَاَیِّ کُفْرٍاَ فحَشُ مِنْ ھٰذا؟
 ( اور کون سا کفر اس سے بدتر ہے؟ (ت) ____  یہ ایک کفر نہیں بلکہ معدنِ کفر ہے۔ باری کا عجز ایک کفر ____   دوسرےکی طرف نیاز دو کفر ____  آپ ناقص ہونا تین کفر ____   غیر سے تکمیل پانا چار کفر____  خالق مستقل نہ ہونا پانچ کفر۔؂
فکفرفوق کفرٍ فوق کفر 	             کان الکفر  (عہ۱) من کثرو وفر

کماءٍ اٰسن (عہ۲) فی نتن دفر   	            تتابع قطرہ من ثقب کفر(عہ۳)
 (وہ ایک کفر ہے اوپر کفر کے اوپر کفر کے۔ گویا کہ کفر اس کی کثرت و بہتات سے ہے۔جیسے گندہ بدبودار متعفن پانی، جس کے قطرے بڑے بڑے پہاڑ کے سوراخ سے پے درپے نکل رہے ہیں۔ت)
ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم
عہ ۱ :  فیہ تو جیہان : الاول اَنّ من بما بعدہ متعلق بالشطرالاتی  ،  وخبر کان قولہ ءٍ الخ فمن علٰی ھذا للتعلیل  ،  والثانی انہا ھی الخبر بعد تعلقہا بما خوذ اونحوہ ،  واللام فی الکفر للعہد  ،  ای کان کفرہ ھذا ماخوذمن الکُثروالوفر باسقاط بعض الحروف منہا ۱۲ س۔

عہ ۲ :  ماء اٰسن متغیر الطعم والرائحۃ  ،  نتن گندہ شندن وگندگی۔ دَفر بدال مہملہ مفتوحہ بوئے بغل ۱۲ س ۔

عہ ۳ :  کفر بالفتح کوہِ بزرگ ۔ تَتَابَعَ پے درپے آمدن ۱۲ س۔
Flag Counter