Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
199 - 212
رسالہ

اطائِب الصّیّب علی ارض الطیّب (۱۹ ۱۳ھ)

(طیب (عرب صاحب) کی زمین پر بہت پاکیزہ بارش)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی نصر المقلدین للائمۃ المجتہدین بالاحسان فی الدین علی الطغام الماردین واظہر عجز المفسدین و جہل الابلدین الغیرالفارقین بین الدائن والمدین، والصلوۃ والسلام علٰی سید الانام وسند الکرام والہ العظام وصحبہ الفخام و ائمۃ الاسلام واولیاء الاعلام المتصرفین باذنہ فی الارواح والاجسام وعلینا بھم یا ذاالجلال والاکرام، اٰمین
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے احسان کے ساتھ دین میں اجتہاد فرمانے والے ائمہ کرام کے مقلدوں کی مدد فرمائی ، اور مفسدوں کے عجز اور دائن و مدین کے درمیان فرق نہ کرنے والوں کندذہنوں کے جہل کو ظاہر فرمایا، اور درود و سلام ہو کائنات کے سردار پر جو کہ کریموں کی سندہیں اور ان کے عظیم آل و اصحاب پر، اور ائمہ اسلام اور اولیاء کرام پر جو اس کی اجازت سے ارواح و اجسام میں تصرف کرنے والے ہیں، اور ان کے صدقے میں ہم پر بھی اے جلالت و بزرگی والے آمین (ت)

بعد حمد وصلوۃ
حضرت عظیم البرکۃ، صاحبِ حجت قاہرہ وصولتِ باہرہ وتصانیف زاہرہ مجدّد المأتہ الحاضرہ، تاج الفقہاء ، غیظ السفہاء محمود الکملأ محسوذ الفضلاء ماحی الفتن ، حامی السنن، زین الزمن ، حبرِ شریعت ، بحر طریقت ، ناصر ملت، حضرت عالم اہلسنت دام ظلہ و مدّ فضلہ و کثرت احباء ہ وکسرت اعداہ بالنبی الکریم علیہ وعلٰی آلہ الصلوۃ والتسلیم
نے آخر رسالہ
فیض مقالہ ازالۃ العاربحجرالکرائم عن کلاب النار
میں تمیز سنی وہابی کے لیے چند کلماتِ مجلہ ارشاد فرمائے کہ جوان کو مانے وہابیت سے پاک ہو سنی بن جائے ، 

ازانجملہ فرمایا:

(۴) تقلیدِ ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصف اجتہاد اس سے رُوگردانی گمراہ بددین کا کام ہے غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نا مقلد ی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارک تقلید ہونا اور دوسرے جاہلوں اپنے سے بھی اجہلوں کو ترکِ تقلید کا اغواء کرنا صریح گمراہی و گمراہ گری ہے۔

(۵) مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد و ہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اسی کا پیرورہے کبھی کسی مسئلے میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراطِ مستقیم پر ہے اس پر شرعاً کوئی الزام نہیں، ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کو کافی ہے۔ تقلیدِ شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔

(۶) متعلقاتِ انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والثناء مثل استعانت ونداء و علم و تصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات و احیاء میں نجدی اور دہلوی اور ان کے اذناب نے جو احکامِ شرک گھڑے اور عامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے یہ ان ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انہیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔

ایک بزرگوار تقریباً تیس سال سے خاکی رامپور ہیں۔ زبانِ عوام میں  مولوی طیب عرب کے نام سے مشہور ہیں، یہیں کچھ پڑھا پڑھایا۔ انقلابِ زمانہ نے پرنسپل بنایا، بیس برس ہوئے، ۱۳۰۰ھ سے پہلے حضرت عالم اہلسنت دام ظلہ رامپور تشریف لے جاتے، اس زمانے میں عرب صاحب کچھ ایسی ہی شُد بد جانتے اور کج مج عربی بول لیتے۔ خدمتِ اقدس میں اکثر حاضر آتے ، یہی ہندوستانی انگرکھا وغیرہ پہنے ہوئے ہوتے مگر عرب کہلانے کے باعث حضرتِ والا اعزاز فرماتے، ہاں اس وضع کے سبب قلب میں اندیشہ تھا کہ دیکھئے ہندوستان کا پانی عرب صاحب پر کیا اثر ڈالے۔ ابھی تو افضل البلاد کی وضع بدلی ہے آگے کیا کچھ پر پُرزے نکالے۔ جب ۱۳۰۲ھ میں جناب منشی محمد فضل حسین صاحب مرحوم مغفور نے انتقال فرمایا حضرت کا رامپور تشریف لے جانا نہ ہوا کہ ان سے قرابتِ قریبہ داعی زیارت تھی اور جس بندہ خدا کو فضلِ الہی تمام امصار و اقطارِ ہند کے علاوہ بنگالہ و کشمیر و برہما وغیرہ ملکوں کا مرجع فتوٰی بنائے اسے بے ضرورت سفر کی کب فرصت تھی جب سے عرب صاحب کا کچھ حال نہ ملا مگر ادھر حضرتِ والا کی فراستِ صادقہ کا رنگ کھلا، پرنسپلی نے زور لگایا۔ عرب صاحب کو مجتہد بنایا، وہ رسالہ مبارکہ کہیں ان بزرگوار نے بھی مطالعہ کیا ، تقلید ائمہ کو فرض قطعی دیکھ کر نئی مجتہدی کا ننھا سا کلیجہ دھک سے ہوگیا۔ حضرت والا کی خدمت میں عریضہ لکھا، یہاں سے جواب مع دلائل صواب کا افاضہ اور متجہدی کی قلعی کھولنے کو بعض سوالات کا اضافہ ہوا عرب صاحب نے جواب تو عاجزانہ قبول کیا مگر سوالوں کا جواب اصلاً نہ دیا بلکہ دوسرے مسئلہ  تصرف اولیائے کرام میں سوال کا راستہ لیا۔ ادھر سے اس کے جواب کا بھی افادہ اور دربارہ تقلید سلسلہ سوالات زیادہ ہوا۔ اب عرب صاحب سوگئے۔ ان سوالوں کو پانچ، ان کو تین مہینے ہوگئے۔ آخر ادھر سے تقاضائے جواب ہوا۔ عرب صاحب کو پیچ و تاب ہوا۔ تہذیب کے رنگ بدل گئے، بھرے بیٹھے تھے اُبل گئے۔ کذب وجہل سے کام لیا مگر روزِ موعود گزرا جواب نہ دیا۔ یہاں فضل الہ ہے۔ ایسوں ویسوں کی کیا پروا ہے، اکناف و اقطار سے ہزاروں مفیدانہ پوچھتے، فیض پاتے ہیں، جو معاندانہ الجھیں منہ کی کھاتے ہیں۔ روز افزوں فضلِ باری ہے، یہی کارخانہ جاری ہے، ایسوں کا مخاطبہ کیا شے تھا کہ قابلِ اشاعت سمجھا جاتا۔ خصوصاً وہ خوش فہم جنہیں بدیہیات کا بھی ادراک نہیں، تنبییہ کے بعد بھی احتیاج تامل سے انفکاک نہیں۔ حضرات ناظرین ! ازالۃ العار کی عبارت آپ کے پیش نظر ہے ملاحظہ ہو کہ نمبر(۴) میں مطلق تقلید بے تخصیص وتقیید جلوہ گر ہے، تقلید خاص کے بیان میں مستقل جُداگانہ پانچواں نمبر ہے، یہ مجتہد صاحب ایسے سلیس اردو کلام جدا جدا نمبر تک کے انتظام کو نہ سمجھے اور خطِ اول میں پوچھنے بیٹھےکہ آپ تقلید کی کون سی قسم کو فرض قطعی فرماتے ہیں۔(دیکھو ا س رسالہ کا ص ۷)
آخر حلیمانہ جواب عطا ہو کہ ہم مطلق تقلید کو فرض قطعی بتاتے ہیں ( دیکھو ص ۱۵) اس پر بھی دوسرے خط میں بولے کہ مجھے آپ کے جواب میں غورو تامل کرنے سے یہ کھلا کہ آپ نے وہاں مطلق کا حکم لکھا۔ ( دیکھو ص ۲۳ )
انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون
 (چہ خوش چرانباشد آخر نہ اجتہاد ست)
 ( بہت خوب، کیوں نہ ہو، آخر اجتہاد نہیں ہے۔ت)
مگر معتمدین سے خبر مسموع ہوئی کہ مجتہد صاحب کو خود اپنی تشہیر مطبوع ہوئی، اس بارے میں اور ان کی کوئی تحریر چھپنی شروع ہوئی، وہ دو چار ہی دن جاتے ہیں کہ وہ نامطبوع مطبوع ہوئی اس پر یہاں بھی احباب نے مناسب جانا کہ خطوط بعینہا شائع ہوں کہ ناظرین اصل واقعے پر مطلع ہوں، اگر مجتہد صاحب نے کچھ غیرت اجتہاد سے کام لیا، تحریر میں تمام سوالات سے جواب دیا فبہا، یہ رسالہ بعونہ تعالٰی رسالہ جو اب کا مقدمہ ممہد ہوگا۔ اور اگر جوابوں سے راہ کترائی ، میر بحری بچائی، خارجی باتوں میں اڑان گھائی بتائی تو یہی رسالہ ان کی تحریر کا پیشی رَد ہوگا کہ حضرت پہلے سوالات کا جواب دیجئے اس کے بعد کچھ کہنے کا نام لیجئے۔ لہذا تو کلاً علی اﷲ یہ رسالہ جمع کیا اور عمومِ فائدہ کو خطوط کا سلیس ترجمہ کردیا:
الصلوۃ والسلام علی نبی الہدٰ ی واٰلہ وصحبہ دائماً ابدا
خط اول عرب صاحب بنامِ نامی حضرت عالم اہلسنت مدظلہ السامی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الٰی حضرۃ الفاضل العلامۃ الشیخ احمد رضا مدظلہ العالی ۔

ببارگاہِ فاضل علامہ حضرت احمد رضا مدظلہ العالی۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ، بعد السؤال عن عزیز خاطر کم نعرفکم باناقداطلعنافی بعض تصانیفک انک تقول ان التقلید فرض قطعی فتعجبت وحق لی ان اتعجب لانی قد قضیت نحوا من ثٰلثین سنۃ فی خدمۃ طلبۃ العلم فلم اھتد الی استحباب التقلید فضلا عن وجوبہ فکیف بفرضیتہ لا مطلقابل فرضیتہ قطعیۃ فلہٰذا ارغب الیک ان تعلمنی ادلۃ ذلک وعین لی ان ای قسم من اقسام التقلید فرضا قطعیا ثم اخبرنی ان علم المکلف بفرضیۃ التقلید کیف یحصل لہ أبتقلیداو باجتہاد ثم اخبر نی کیف یختارالمجتہدین أبتقلید ام باجتہاد ھذا، واﷲ یہدینا  وایاکم الٰی سبیل الرشاد ۔
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، پرسش مزاجِ گرامی کے بعد ہم جناب کو معرفت کراتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بعض تصنیفوں میں آپ کا یہ قول دیکھا کہ تقلید فرض قطعی ہے اس سے مجھے تعجب ہوا اور مجھے سزاوار تھا کہ تعجب کروں اس لیے کہ میں نے تیس برس کے قریب طالب علموں کی خدمت میں گزاری، مجھے تقلید کو مستحب جاننے کی ہدایت نہ ہوئی چہ جائے وجوب، پھر کہاں فرضیت ، وہ بھی مطلق نہیں بلکہ فرضیت قطعیہ ، اس وجہ سے میں آپ کی طرف آرزو لاتا ہوں کہ مجھے اس کے دلائل تعلیم فرمائیے اور معین کیجئے کہ تقلید کی کون سی قسم فرض قطعی ہے پھر مجھے بتائیے کہ مجتہدوں میں سے کسی کو کیونکر اختیار کرے ؟ آیا تقلید سے یا اجتہاد سے؟ بات یہ ہے اور اللہ ہمیں اور آپ کو راہِ ہدایت دکھائے۔
 محمد طیب                    		

 ۱۴ جمادی الثانی ۱۳۱۹ ازرامپور         



محمد طیب

   ۱۴ جمادی الثانی ۱۳۱۹ھ ازرامپور۔
Flag Counter