Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
198 - 212
کتبِ متداولہ درسیہ سے کّوا حلال ہونے کا اِدعا اُسی وقت تک سز اہے کہ جواب سوالات سے دامن کھینچا ہے ،نمبر وار ہر سوال کا صاف صاف جواب بے پیچ و تاب دیتے ہی تو بعونہ تعالٰی کھلا جاتا ہے کہ
یا غراب البین یا لیت بینی و بینک بعد المشرقین
 ( اے فراق کے کوے کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق مغرب جتنا فاصلہ ہوتا۔ت)
آپ فرماتے ہیں: صرف یہ کارڈ آپ کے رفع انتظار کے لیے بھیجا ہے ورنہ اس کی بھی حاجت نہ تھی۔ میں کہتا ہوں حاجت تو کوّا کھانے کی بھی نہ تھی اب کہ واقع ہولیا مسائل شرعیہ کا جواب دینے کی ضرورت ہے تقریر بالا یاد کیجئے خیر یہ تو آپ کے عذر کا ضروری جواب تھا جس سے مقصود مسئلہ شرعیہ میں وضوحِ حق کا فتحباب تھا اگرچہ آپ بنظرِ مخالفت اسے اپنے کارڈ کا رد سمجھیں بلکہ گلوے کارڈ پر کا ردجانیں،مجھے اس سے بحث نہیں مجھے اپنی نیت معلوم ہے میں آپ سے پھر گزارش کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں فتنہ پھیلانے سے رفعِ اختلاف بھلا ہے آپ کا معتقد گروہ دوسرا قرآن سے کہے تو نہیں سنتا،آپ کی بے دلیل کی سنتا ہے اور وہ خود بھی اشارے اشارے میں کہہ چکا کہ ہمارے مولوی سے طے ہوجانا اولی ہے،اور اب تو آپ کو پچاس برس سے یہ مسئلہ چھان رکھنے کا ادعا ہے،اپنے اساتذہ سے بھی تحقیق کرلینا لکھا ہے،دوسرے آپ سے صرف وضوحِ حق کے لیے سوالات شرعیہ کررہا ہے،اور حق سبحنہ وتعالٰی نے قرآن عظیم میں حق صاف بیان فرمانے کا عہد لیا ہے۔
قال تعالٰی:
واذاخذ اﷲ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس  ۱ ؎ ۔
اور یاد کرو جب اﷲ تعالٰی نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا۔(ت)
( ۱ ؎  القرآن ا لکریم   ۳/ ۱۸۷)
پھر سوالات نہ سُننے اور جوابات نہ دینے کی وجہ کیا ہے آپ مناظرہ کا خوف نہ کیجئے میں اطمینان دلاتا ہوں کہ یہ سوالات مخاصمانہ نہیں ضرف ظہورِ حق کے لیے ہیں،آپ کا کارڈ پانچویں دن بعد ظہر آیا آج رجسٹری کا وقت نہیں یہ خط ان شاء اﷲ کل رجسٹری شدہ حاضر ہوگا سہ شنبہ ۱۶ شعبان تک جواب جملہ سوالات تین روز آئندہ میں آنے کا مژدہ یا تعیین مدت کا وعدہ ملے ورنہ فقیر اتمامِ حجت کرچکا ہے۔ سوالاتِ شرعیہ کا جواب نہ دینے اور مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر الگ ہو بیٹھنے کا مطالبہ حشر میں ہوا تو جب ہوگا یہاں بھی عقلاً اس پہلو تہی کو جواب سے عجز پر محمول کریں گے آئندہ اختیار بدست مختار،جواب میں جملہ شرائط مراسلہ سابقہ ملحوظ رہیں اور سوال اول کا جواب دینے کو وہ دونوں پرچے اور جو تحریرات چھپی ہوں امرِ دین ورفع نزاعِ مسلمین کے لیے ایک گھڑی بھر کی کلفت اٹھا کر براہین قاطعہ کی طرح اول سے آخر تک بغور سن لیجئے اور جلد جواب دیجئے۔
واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل
وصلی اللہ تعالٰی علی السید الجلیل والہ وصحبہ اولی التبجیل امین والحمدﷲ رب العلمین ۔
اور اللہ تعالٰی حق ارشاد فرماتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالٰی کافی ہے اور وہ کیا اچھا کار ساز ہے،اﷲ تعالٰی درود نازل فرمائے بزرگی والے سردار پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر جولائقِ تعظیم ہیں۔ اے اﷲ ۔ ہماری دعا قبول فرما اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے جو کل جہانوں کا پرورگارہے۔(ت)
فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ

یاز دہم شعبان معظم ۱۳۲۰ھ
Flag Counter