Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
197 - 212
خیر یہ باتیں تو وہ جانتے ہیں جنہیں حق سبحٰنہ و تعالٰی نے اپنے محبوبانِ کرام علیہم الصلوۃ والسلام حسنِ ادب بخشا ہے،کلام اس میں ہے کہ انبیاء تک کا آپ کی خاطر یوں ذکر لایا جائے تو سخت عجب ہے کہ آپ کا خیال اس سے بڑھ کر اپنے آپ یا اپنے اساتذہ کو بالکل بشریت سے خالی بتائے،میرے پاس آپ کی مہری تحریر ہے جس میں آپ نے بزعم خود یہ مان کر کہ کتبِ فقہ میں اُلّو کو حلال لکھا ہے پھر ان کے حکم کو محض غلط کہا اور فقہاء کو بے تحقیق کیے حکمِ شرعی لکھ دینے کی طرف نسبت کردیا،اسی کو یاد کرکے آپ نے مناظرہ کا کلام بگوشِ ہوش سنا ہوتا کہ جیسے اگلے فقہائے کرام نے آپ کے زعم میں اُلو کی حلت بے تحقیق لکھ دی،شاید یوں ہی کوّے کے باب میں آپ کو اور آپ کے اساتذہ کو دھوکا لگا اور بے تحقیق حرام کو حلال سمجھ لیا ہو،یا آپ اور آپ کے اساتذہ بشریت سے بالکل خالی سہی یہ خطا بھی فقہاء ہی کے ماتھے جائے شاید انہیں نے اُلّو کی طرح کوے کو بھی حلال لکھ دیا ہو۔ مناظرہ کے کلام سے کشفِ خطا ہو،اس کی بدولت حق کی معرفت عطا ہو۔ غرض اصلاً نہ سننا اور یہ جواب دے دینا کہ ہمیں تحقیق ہے کسی وجہ پر کوئی معنی نہیں رکھتا،مجھے معلوم نہیں کہ یہ
لاتسمعو ا لھٰذا
( اس کو نہ سُنو ت)
کا صیغہ آپ کی طبیعت کا تقاضا یا معتقدین کا مشورہ تھا،آپ نے سُنا ہو جب ہر قل کے پاس فرمانِ اقدس پہنچا اور اس نے پڑھنا چاہا اور اس کا بھائی یا بھتیجا مانع آیا تو اس نے کیا جواب دیا ہے،یہ کہا
انک لضعیف الرأی اترید ان ارمی الکتاب قبل ان اعلم مافیہ
تو ضرور ناقص العقل ہے کیا تو یہ چاہتا ہے کہ میں بے مضمون معلوم کیے خط ڈال دوں ۔ ۱ ؎  ،ہر قل اگرچہ نبوت اقدس سے آگاہ تھا مگر اسے اظہار نہ کرتا تھا ایک عام تہذیب کی بات بتا کر اس احمق کا رَد کیا مدعی تہذیب و عقل اسلامی کو ایک نصرانی کی فہم و انسانیت سے کم نہ رہنا چاہیے ہاں ینّاقِ ازرق احمر احمق کی رائے پسند ہو تو جدا بات ہے،
( ۱ ؎  شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ    المقصدالثانی الفصل السادس   دارالمعرفۃ بیروت  ۳/ ۳۳۹)
رہا آپ کا فرمانا کہ بحث مباحثہ مناظرہ مجادلہ کا نہ مجھے شوق ہوا نہ اس قدر فرصت ملی،اور اسی بنا پر یہ جبروتی حکم کہ میں نے آپ کا مسئلہ بھی نہ سنا ہے اور نہ سننے کا قصد ہے،براہین قاطعہ تو خاص ردو مجادلہ کا رسالہ ہے اس کی تقریظ میں آپ لکھتے ہیں،احقر الناس رشید احمد گنگوہی نے اس کتاب کو اول سے آخر تک بغور دیکھا ۔ ۲ ؎ مناظرہ ومباحثہ کا شوق نہ ہونا اگر تحریرات مناظرہ نہ دیکھنے کو مستلزم تو اتنے حجم کا طومار حرف بحرف بغور آپ نے کیونکر دیکھا اور مستلزم نہیں تو فقیر کا ایک ورق کا رسالہ سننے سے کیوں اجتناب ہوا۔ اگر کہیے کہ وہ رسالہ پسند تھا یہ ناپسند لہذا اسے بغو ردیکھا اسے بیغوری سے بھی نہ سُنا تو صراحۃً واژگونہ ہے پسند و ناپسند دیکھنے سننے پر متفرع ہے بے دیکھے سنے رجماً بالغیب استحسان واستہجان کس خواب کی تعبیر سمجھا جائے ۔ علاوہ بریں مناظرہ میں خود آپ کے چند اوراقی رسائل مثل رَدّ الطغیان ورسالہ تراویح وہدایۃ الشیعہ چھپے ہیں مگر یہ کہیے کہ بحمداﷲ تعالٰی فرق بین ہے ،جس پر یہ شوق و بے شوقی مبتنی ہے یعنی نہ ہر جائے مرکب الٰی آخرہ۔
 ( ۱ ؎  البراہین القاطعۃ تقریظ مولوی رشید احمد ،مطبع لے بلا سا ڈھور،ص ۲۷۰)
آپ کا فرمانا کہ میں نے آپ کا مسئلہ نہ سنا۔

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

مگرکارڈ دیکھنے والے اس پر چرچتے اور کہتے ہیں،یہ فرمانا کہ بندہ نے اس وقت تک کوئی اس مسئلہ میں نہ کوئی موافق تحریر سنی ہے نہ خلاف نہ آئندہ ارادہ سننے کا ہے مجھے اس وقت سے پہلے یہ بھی خبر نہ ہوئی تھی کہ اس مسئلہ میں کوئی تحریر کس طرف سے چھپی ہے،اُسی امر کی پیشبندی ہے جو مراسلہ کے سوال اول میں معروض ہوا تھا کہ دونوں پرچہ مذکورہ آپ کی رائے سے ہیں یا بالائی لوگوں نے بطور خود شائع کیے ۔ علی الثانی اُن کے سب مضامین آپ کو قبول ہیں یا کل مردود یا بعض بحال سکوت وہ پرچے آپ ہی کے قرار پائیں گے۔ ظاہر یہی ہے کہ آپ نے ضرور یہ شقوق سنیں اور ان سے مفر اصلاً نظر نہ آئی سو اس صورت کے کہ سرے سے کانوں پر ہاتھ دھر لیے کہ میرے کان تک ان کی خبر بھی نہ پہنچی،مضمون سننا تو بڑی بات ہے میں کیسے کہہ دوں کہ مقبول ہیں یا مردود،اور واقعی قبول کرنے میں سارا بار اپنے سر آتا تھا اورنہ قبول کرنے میں معتقدین کا دل دکھتا بلکہ غالباً اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوتا تھا ناچار سوا اس انکار کے علاج کیا تھا ورنہ کیونکر قرین قیاس ہو کہ آپ کا مسئلہ آپ کا معاملہ آپ کا فرقہ آپ کا سلسلہ شہروں شہروں وہ شور و غلغلہ اور آپ کانوں کان خبر نہیں،طرفہ یہ کہ آپ خود اسی کارڈ میں فرمارہے ہیں ،نفس مسئلہ مجھ سے ہزاروں مرتبہ مجھ سے کسی نے پوچھا اور میں نے بتلادیا اب نا معلوم پچاس ۵۰ سال کے بعد یہ غل شور کیوں ہوا۔ غل شور کی خبر ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ وہ غل کیا اور کس پیرایہ میں ہے۔ لطف یہ کہ معتقدین معرض بیان میں سکوت سے عرفاً اقرار دے چکے کہ ان کے مضامین آپ ہی کی تعلیم ہیں ضمیمہ شحنہ ہند کے اس بیان پر کہ یہ لچر اعتراضات مجوزین اکل زاغ ہذا کے ہیں جو غالباً ان کے کسی تعلیم دہندہ نے ہدایت فرمائی ہے جن کے ارشاد کے موافق بحکم۔ع
بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید،۱؂
 (شراب کے ساتھ مصلّٰی رنگین کرلے اگر پیر مغاں کہے ت)
( ۱ ؎ دیوان حافظ ،سب رنگ کتاب گھر دہلی ص ۲۹)
اس موذی خبیث زاغ کا کھانا اس فریق نے اختیار کیا ہے آپ کو معلوم ہو کہ یہ پیر مغاں باتفاق فریقین آپ ہیں خود آپ کے معقتدین پرچہ اولٰی میں فرماتے ہیں: شک نہیں کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں لیکن یہ کون سعادت مندی ہے کہ بلاسوچے سمجھے ایسے پیر مغاں فقیہ مسلم پر اعتراض کر بیٹھے ،واہ رے زمانہ غافل و مدہوش مغبچوں میں یہ شور و خروش اور پیر مغان در خوابِ خرگوش،خیر یہ تو آپ جانیں یا آپ کے مرید،کلام اس میں ہے کہ ضمیمہ شحنہ کا یہ کلام تردید والوں نے دیکھا اور آپ کا تبریہ نہ کیا اب ظاہر تو یہ ہے کہ جو ظاہر تھا وہ ظاہر ہولیا۔ع
نہاں کے ماند آں رازے الخ
 ( وہ راز پوشیدہ کیسے رہ سکتا ہے۔ت)
Flag Counter