تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم ہدایت نہ پاتے اگر اﷲ تعالٰی نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی،تحقیق ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق کے ساتھ آئے،یہ حق ہے اس میں جھوٹ کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی شک کا کوئی احتمال ہے چہ جائیکہ اس میں جھوٹ کی فعلیت ووقوع کا دعوٰی کیا جائے جو کفر خالص ہے (ت)
عہ۱: یعنی رَد کیا گیا کوّے کو اُن کا حلال کہنا ۱۲
(۱ ؎ القرآن الکریم ۷/ ۴۳)
مگر یہ مسئلہ دائرہ محض فرعی فقہی ہے فقہ میں فقیر بھی بحمدہ تعالٰی حنفی ہے اور آپ بھی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں،تو ان مسائل کو اُن جلائل پر قیاس کرکے پہلو تہی کرنےکی حاجت نہیں۔
آپ کا جواب: کہ نہ مسئلہ حلت غراب موجودہ دیار میں مجھے کسی قسم کا شبہ یا خلجان ہے جس کے دفع کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہو،سوئے اتفاق سے سخت بے محل واقع ہوا۔ فقیر نے کب کہا تھا کہ آپ کوّے کے مسئلے میں حالتِ شک میں ہیں بلکہ صاف لفظ تھے کہ بغرض رفع شکوک عوام و وتمیز حلال و حرام خاص آپ سے بعض امور مسئول اور آپ کی نسبت یہ الفاظ تھے،ضرور ہے کہ آپ اس مسئلے کے تمام اطراف جوانب پر نظر ڈال چکے اور جمیع مالہ ماعلیہ پر تال چکے ہوں گے تحقیق تنقیح تطبیق ترجیح سبھی کچھ کرلی ہوگی۔ جن سے صاف روشن تھا کہ آپ کو حلت میں شاک و متردد نہ جانا،نہ آپ کے خلجان کے لیے یہ مراسلہ بھیجا ۔ آپ کو شک نہیں عوام کو تو شکوک ہیں،مسلمانوں میں اختلاف پڑا ہے،آتش خِصام شعلہ زا ہے،ایک طائفہ آپ کا مقلد آپ کے فتوے سے حلت کا معتقد ہے،تو کیا رفع نزاع بین المسلمین سے آپ کو غرض نہیں۔ نگاہِ انصاف صاف ہو تو یہ جواب بے محل ہی نہیں بالکل برعکس آیا،آپ اس مسئلے میں حالتِ شک میں ہوتے تو یہ جواب کچھ قرین قیاس ہوتا کہ میں اس میں کیا کہوں میں تو خود تردد و شک میں پڑا ہوں اور جب کہ آپ کو حکم شرعی تحقیق ہے شبہہ و خلجان اصلاً باقی نہیں تو جو آپ کے خیال میں خلاف حق پر ہیں حلالِ خدا کو حرام جانتے ہیں آپ پر لازم ہے کہ حق ان پر واضح کیجئے نہ کہ بعد سوال بھی جواب نہ دیجئے،دیکھئے تو خود آپ کے معتقدین اُسی مذکور اشتہار پرچہ دوم میں کیا کہتے ہیں: حق میں بطلان کے ملانے کی کوشش جن کی طرف سے ہوئی ان کو جواب دینے اور عین وقت پر دودھ پانی علیحدہ کردینا فرض منصبی۔
آپ اس مراسلہ فقیر کو مسئلہ دائرہ میں سوالِ سائل سمجھے یا مناظرہ مقابل یا لاولا یعنی کچھ نہ کھلا ۔ برتقدیر اول اس جواب کا حسن آپ خود جان سکتے ہیں جسے یہ سمجھے کہ دلیل شرعی سے مسئلہ شرعیہ کی تحقیق پوچھتا ہے اس کا یہ کیا جواب ہوا کہ ہمیں تحقیق ہے۔ جی وہ آپ کی اس تحقیق ہی کو تو پوچھتا ہے کہ کیا ہے ان شبہات کا اس میں کیونکر انتفا ہے نہ یہ کہ آپ کو تحقیق ہے یا نہیں۔ ماوھل کے مقاصد میں فرق نہ کرنا عامی سے بھی بعید ہے نہ کہ مدعیان علم۔ برتقدیر ثالث جو کلام آپ نے نہ سنا نہ سمجھا اس پر جزافاً یہ جواب کیسا بے سنے سمجھے کیونکر معلوم ہو کہ اس نے کیا کہا اور آپ کو جواب میں کیا کہنا چاہیے۔
رہی تقدیر ثانی یعنی گمان مناظرہ اس پر بھی یہ نہایت عجاب،کیا حلتِ غراب موجود پر کوئی نص قطعی آپ کے پاس تھی یا جانے دیجئے خاص اُن کووں کا نام لے کر ائمہ مذہب نے حکمِ حل دیا تھا جس کے سبب آپ کو ایسا تیقن کلی تھا کہ مناظرہ کا کلام بھی سننے کا دماغ نہ ہوا،کبر ے یقینی ہونا درکنار یہاں سرے سے اپنے صغری ہی پر آپ کسی کتاب معتمد کا نص نہیں دکھاسکتے ،مثلاً عقعق کو کتابوں میں اختلافی حلال ضرور لکھا مگر یہ کس کتاب میں ہے کہ کوّے جن میں گفتگو ہے عقعق ہیں،یہ تو آپ یا آپ کے اساتذہ نے اپنی اٹکلوں ہی سے ٹھہرالیا ہوگا،پھر اٹکلوں پر ایسا تیقن کہ مطلق شبہہ نہیں اصلاً خلجان نہیں مزید تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں مناظر کی بات سنیں گے بھی نہیں یعنی چہ ۔کیا
کلمۃ الحق ضالۃ المؤمن ۱ ؎۔
(حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ت) نہیں،
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳)
(سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب الحکمۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۱۷)
کیا آپ یا آپ کے اساتذہ کی اٹکل میں غلطی ممکن نہیں،آپ کے معتقدین تو اسی اشتہار غراب پرچہ اولٰی میں آپ کی خطائیں نگاہِ عوام میں ہلکی ٹھہرانے کے لیے حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والثنا تک بڑھ گئے کہ حضرت مولانا گنگوہی بشر ہیں اور بشریت سے اولیاء کیا معنی انبیاء علیہم السلام بھی خالی نہیں حالانکہ ایسی جگہ اکابر کو ضرب المثل بنانا سوئے ادب ہے اور قائل مستحق تعزیز شدید،
شفا شریف میں ہے:
الوجہ الخامس ان لا یقصد نقصا ولایذکر عیبا ولا سبالکن ینزع بذکر بعض اوصافہ علیہ الصلوۃ والسلام اویستشہد ببعض احوالہ علیہ الصلوۃ والسلام الجائزۃ علیہ فی الدنیا علٰی طریق ضرب المثل والحجۃ لنفسہ اولغیرہ اوعلٰی التشبہ بہ او عند ھضمیۃ نالتہ اوغضاضۃ لحقتہ کقول القائل ان قیل فی السوء فقد قیل فی النبی او کُذِّبْتُ فقد کُذِّبَ الانبیاء ،اوانا اسلم من السنۃ الناس ولم تسلم منہم انبیاء اﷲ،وانما کثرنا بشاھدھا مع استثقا لنا حکایتہا لتساھل کثیر من الناس فی ولوج ھذا الباب الضنک وقلۃ علمھم بعظیم مافیہ من الوزریحسبونہ ھینا وھو عند اللہ عظیم ، فان ھذہ کلھا وان لم تتضمن سبا ولااضافت الی الملئکۃ والانبیاء نقصا ولا قصد قائلھا غضا فما وقر النبوۃ ولا عظم الرسالۃ حتی شبہ من شبہ فی کرامۃ نالھا او معرۃ قصدا لانتفاء منھا او ضرب مثلا بمن عظم اللہ خطرہ فحق ھذا ان درئ عنہ القتل الادب والسجن وقوۃ تعزیرہ بحسب شنعہ مقالہ ۱ اھ مختصرا ۔
بے ادبی کی پانچویں صورت یہ ہے کہ قائل نہ تو توہین کا ارادہ کرے نہ ہی کوئی برائی یا دشنام زبان پر لائے مگر ذکر بعض اوصاف نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف جھکے یا بعض احوال کو کہ حضور پر دنیا میں روا تھے دستاویز بنائے ضرب المثل کے طور پر یا اپنے یا دوسرے کے لیے حجت لانے یا حضور سے تشبیہ دینے کو یا اپنے یا دوسرے پر سے کسی نقص یا قصور کا الزام اٹھاتے وقت جیسے قائل کا کہنا کہ مجھے برا کہا گیا تو نبی کو بھی تو لوگ برا کہتے تھے یا مجھے جھٹلایا تو لوگوں نے انبیاء کی بھی تو تکذیب کی ہے یا میں لوگوں کی زبان سے کیا بچوں کہ انبیاء تک ان سے سلامت نہ رہے۔(امام فرماتے ہیں ہم نے یہ الفاظ باآنکہ ان کی نقل ہم پر گراں تھی اس لیے بکثرت ذکر کیے کہ بہت لوگ اس تنگ دروازے میں گھس پڑنے کو سہل سمجھے ہوئے ہیں اور اس میں جو سخت وبال ہے اس سے کم واقف ہیں اسے آسان جانتے ہیں اور وہ اللہ کے نزدیک سخت بات ہے)تو یہ اقوال اگرچہ دشنام پر مشتمل ہیں نہ ان میں انبیاء و ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف کسی نقص کی نسبت ہے نہ قائل نے تنقیص شان کا ارادہ کیا پھر بھی اس نے نہ نبوت کا ادب کیا نہ رسالت کی تعظیم کہ جن کے شرف کو اللہ تعالٰی نے عظمت دی ان کے ساتھ ایں وآں کو تشبیہ دی کسی فضیلت میں کہ اسے ملی یا کسی نقص کا الزام اٹھانے کو یا ان کے ذکر پاک کو ضرب المثل بنایا تو ایسے سے اگر قتل دفع بھی کریں تو وہ تعزیر و قید اور اپنے قول کی برائی کے لائق سخت سزا کا مستحق ہے۔(ت۱۲)
( ۱ ؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی القسم الرابع الباب الاول فصل الوجہ الخامس الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۲۲۸ تا ۲۳۰)