Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
195 - 212
تنبیہ :
بہت سوالوں میں کئی کئی سوال، بہت میں متعدد شقوق ہیں نمبر وار، ہر سوال کی پوری باتوں کا جواب درکار۔
واٰخردعوٰنا اَنِ الحمد ﷲ رب العٰلمین وصلی اﷲ علٰی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ اجمعین
اور ہماری دعا کا اختتام اس پر ہے کہ تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے، اور اﷲ تعالٰی درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفیٰ پر اور آپ کی تمام آل پر (ت)

فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ   ۷ شعبان معظم ۱۳۲۰ ہجریہ علٰی صاحبہاافضل الصلوۃ والتحیۃ۔
نقل کارڈ مولوی گنگوہی صاحب بجواب مفاوضہ عالیہ

از بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
بعد سلام مسنون آنکہ آپ کی تحریرطویل دربارہ مسئلہ زاغ بندہ کے پاس پہنچی بندہ نے اس وقت تک کوئی  (عہ۱)  اس مسئلہ میں نہ کوئی موافق تحریر سنی ہے نہ مخالف ۔اور نہ آئندہ ارادہ سننے کا ہے اور نہ مسئلہ حلۃ غراب موجودہ دیار(عہ۱) میں مجھے کسی قسم کا شبہ یا خلجان ہے جس کے رفع کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہو ایامِ طلب علمی سے یہ مسئلہ بندہ کو معلوم ہے اسی وقت بغرضِ اطمینان اپنے اساتذہ کرام سے بھی پوچھ لیا تھا ورنہ کتبِ متداولہ درسیہ سے اس کی حلت خود ظاہر ہے اور متدبر کو ذرا غور سے واضح ہوجاتا ہے۔ بحث مباحثہ مناظر ہ مجادلہ کا نہ مجھے شوق ہوا نہ اس قدر فرصت ملی البتہ نفس مسئلہ حلت وحرمت مجھ سے بارہا سینکڑوں ہزاروں مرتبہ مجھسے ( عہ۲ ) کسی نے پوچھا اور میں نے بتلادیا اب نہ معلوم پچاس ۵۰ سال کے بعد یہ غل شور کیوں ہوا میں نے آپ کا مسئلہ بھی نہ سنا ہے اور نہ سننے کا قصد ہے مگر چونکہ آپ (عہ۳) نے ٹکٹ نہیں بھیجا اس لیے اسکو واپس نہیں کیا صرف یہ کارڈ آپ کے رفعِ انتظار کے لیے بھیجا ہے ورنہ اس کی بھی حاجۃ نہ تھی مجھے (عہ۴ ) اس وقت سے پہلے یہ بھی خبر نہ ہوئی تھی کہ اس مسئلہ میں کوی تحریر کسی طرف سے چھپی ہے البتہ مجھے سینکڑوں آدمیوں نے پوچھا ہے میں نے اسی قدر جس قدر ہدایہ ( عہ۵ ) وغیرہ میں درج ہے لکھ دیا ہے۔ والسلام۔
عہ۱: املائے  شریف میں کوی کا لفظ یونہی مکرر ہے اور ہونا ہی چاہیے تھا کہ محبوب تازہ یعنی کوے کے ہمشکل ہے اس کی لذت نے اسے قند کردیا ۔ حبک الشیئ یعمی ویصم ۔ ۱ ؎  کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہے۔۱۲
 ( ۱ ؎ سنن ابی داؤد    کتاب الادب         باب فی الہوٰی          آفتاب عالم پریس لاہور         ۲/ ۳۴۳)

(مسند احمد ابن حنبل      بقیہ حدیث ابی الدرداء    المکتب الاسلامی بیروت                ۵/ ۱۹۴)

( مسند احمد ابن حنبل      بقیہ حدیث ابی الدرداء    المکتب الاسلامی بیروت                ۶/ ۴۵۰)
عہ۱:  غراب کی تانیث عجب محاورہ ہے شاید یہی خیال باعثِ الفت ہوا ہو کالا سر تو کبھی دیکھا ہی تھا اگرچہ ؎

ترا برف بارید برپرزاغ 		نشاید چوبلبل تماشائے باغ

(کوّے کے پروں پر اگر برف برس جائے تب بھی وہ بلبل کی طرح تماشائے باغ کے لائق نہیں ہوتا)

عہ۲:  یہ مجھسے مکررہے ( کوے مجھ سے کوی مجھ سے) دوبارہ فرمایا ہے گویا وہ کمال محبت میں عرب کا محاورہ ادا کرکے ارشاد ہوا ہے کہ۔

الغراب منّی وانا من الغراب ۱۲ 

کوّا مجھ سے اور میں کوّے سے ہوں۔(ت) 

عہ۳:  سوالات جواب آنے کو بھیجے تھے نہ کہ واپس دینے کو،اگر فقط ٹکٹ کی ناچاری جواب دینے کی سدِّ راہ ہے تو آپ جواب بیرنگ دیں بلکہ رجسٹری کراکر جودوانی اُٹھے اتنے کا ویلو بھیجیں دو آنے وہ اور تین اور نذرانے کے مَیں حاضر کروں۔۱۲

عہ۴: وہ دیکھئے جھلک دے گئی۔اس وقت سے پہلے کا لفظ صاف بتارہا ہے کہ اب مفاوضہ عالیہ سننے سے خبر ہوئی حالانکہ آپ فرماتے ہیں میں نے سُنا ہی نہیں ۱۲۔

عہ۵:  ہدایہ میں صریح روشن بیان واضح تبیان سے آپ کا رد لکھا ہے مگر زیغ زاغ میں ہدایہ سو جھے بھی ۱۲۔
Flag Counter