سوال پانزدہم : قولِ صحابہ اصولِ حنفی میں حجتِ شرعی ہے یا نہیں، خصوصاً جب کہ اس کا خلاف دیگر صحابہ سے مسموع نہ ہو رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔
سوال شانزدہم : آپ حمار یعنی خرکو حلال جانتے ہیں یا حرام، اگر حرام ہے تو علت حرمت کیا ہے، حالانکہ وہ صرف دانہ گھاس وغیرہ پاک ہی چیزیں کھاتا ہے یا لااقل خلط تو کرتاہے۔
سوال ہفدہم : کیا جلالہ کہ کثرتِ اکل نجاسات سے بُولے آئی ہو حرام و ممنوع ہے یا نہیں جب کہ کبھی گھاس بھی کھالیتی ہو، اگر نہیں تو یوں، حالانکہ نجاست اس کے رگ و پے میں ایسی ساری ہوگئی کہ باہر سے بو دینے لگی تنہا اکل نجاسات بھی اور اس سے زیادہ کیا وصف موثر فی التحریم پیدا کرے گا۔ اور اگر ہے تو کیوں حالانکہ خلط تو پایا گیا۔
سوال ہیجدہم : ترک استفصال عندالسؤال دلیل عموم ہے یا نہیں، ذرا فتح القدیر دیکھی ہوتی ۔
سوال نوزدہم : جس شے میں علتِ حلت و حرمت جمع ہوں حلال ہوگی یا حرام یا مشتبہ،
علی الثالث اس پر اقدام کیسا ، اور وہ طیبات میں معدود ہوگی یا نہیں۔
سوال بستم : نہ جاننے والا ا یک حکم شرعی عالم سے استفسار کرے شرعاً اس مسئلہ میں تفصیل ہو کہ بعض صور جائز بعض ناجائز ، تو ایک حکم مطلق بیان کردینا اضلال ہے یا نہیں۔
سوال بست ویکم: حل اگر معلول قرار پائے تو علت حلت عدم جمیع علل حرمت ہے یا صرف کسی وصف وجودی کا ثبوت، کیا شرع میں اس کی کوئی نظیر ہے کہ امروجودی کے محض تحقق کو مناط حل قرار دے دیا ہو جب تک اس کا وجود ارتفاع جمیع و جود خطر کو مستلزم نہ ہو۔
سوال بست و دوم : کوے کہ بالاتفاق حرام ہیں، فقہائے کرام نے ان کی تحریم کی تعلیل صرف اکل محض نجاست سے کی ہے یا اور بھی کوئی علت ارشاد ہوئی ہے۔
سوال بست وسوم : کیا اکل میں خلط نجس و طاہر ارتفاع جملہ وجود تحریم کو مستلزم ہے کہ جہاں خلط پایا جائے وہاں کوئی وجہ تحریم نہیں وہسکتی کہ باوصف وجود ملزوم انتفائے لازم قطعاً معلوم۔
سوال بست و چہارم : غذا پر نظر کرنا اور یہ اصل کلی باندھنا کہ جو جانور صرف نجاست کھائے حرام اور جو نرا طاہر یا دونوں کھائے حلال ہے خاص اس صورت میں جب دیگر وجوہ حرمت سے کچھ نہ ہو یا یونہی عموم و اطلاق پر ہے کہ صرف غذا دیکھیں گے باقی سبعیت یا فسق یا خبث وغیرہا کسی بات پر نظر نہ ہوگی۔ شق ثانی ماننے والا عاقل مصیب ہے یا یا جاہل دیوانگی نصیب۔
سوال بست وپنجم : قاعدہ مذکورہ امام کے کسی کلام سے استنباط کیا گیا ہے یا خود امام نے اس کلیے پر نص فرمایا ہے علی الثانی ثبوت علی الاول وہ کلام امام کیسی چیز سے متعلق تھا اور قاعدہ مستنبط اسی کے نظائر سے متعلق ہوسکے گا یا اپنے ماخذ سے بھی عام ہوجائے گا۔ علی الثانی صحت استنباط کیونکر۔
سوال بست وششم: وصف ابقع یعنی دورنگا ہونا خود موثر فی التحریم ہے یا سلباً و ایجاباً مدار حرمت یا علامت ملزومہ یا لازمہ تحریم یا ان سب سے خارج ہے، جو کہیے سمجھ کر کہیے۔
سوال بست و ہفتم : پانی کو مطہر کہنا ٹھیک ہے یا نہیں کیا اس پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ پانی تو مائے مضاف بھی ہے اس سے وضو کب جائز ہے اگر نہیں ہوسکتا تو کیوں، حالانکہ مضاف بھی مائے مطلق نہ سہی مطلق ماء میں تو ضرور داخل ہے اور اس کلام میں پانی مطلق ہی تھا ۔ یعنی لابشرط شیئ نہ مقید باطلاق یعنی بشرط لا۔
سوال بست و ہشتم : اگر شارح یا محشی کسی کلام کو ایسے محل سے متعلق کردے جو اصول مسلمہ شرعیہ کے خلاف ہو تواس کی یہ توجیہ خطائے بشری ٹھہرے گی یا اس کے سبب اصلِ شرعی ہی رد کردی جائے گی۔
سوال بست ونہم : کیا حنفیہ کلام شارع میں مفہوم صفت معتبر رکھتے ہیں۔
سوال سیم: مذہبِ حنفی میں کوے کی کوئی نوع فی نفسہ بھی حرام ہے جسے حرمت لازم ہویا حقیقیۃً سب انواع حلال ہیں حرام کی حرمت صرف بعارض و زوال پذیر ہے علی الثانی ہمارے ائمہ سے ثبوت علی الاول علتِ حرمت کا بیان۔
سوال سی ویکم: غیر حوا کی میں نوعیتِ صوت حیوانات کا خاصا شاملہ ہے یا نہیں حتی کہ منطقیوں نے جب ادراک ذاتیات کا راستہ نہ پایا اسے فصول قریبہ سے کنایہ بنایا اور حیوان ناطق حیوان صاہل حیوان ناہق کو انسان و فرس و حمار کی حد ٹھہرایا، ان شہروں میں گھوڑا ہنہناتا کتا بھونکتا ہے کیا کہیں اس کا عکس بھی ہے کہ کتا ہنہناتا گھوڑا بھونکتا ہے۔
سوال سی و دوم : کیا وجہ تسمیہ میں تعدد محال ہے یا ایک وجہ دوسرے کے معارض سمجھی جائے، کیا اس میں اطرّادِ شرط ہے ریش کو جرجیر اور پیٹ کو قارورہ کہیں گے۔
سوال سی وسوم : کوئی کوّا آپ نے دیکھا یا کسی معتمد سے دیکھنا سنا ہے کہ سوائے نجاست کے کبھی دانے وغیرہ کسی پاک چیز کو اصلاً نہ چھوئے، یہاں دو قسم کے کوے دیکھے جاتے ہیں، یہ اور کگار، کیا کگار دانہ کھاتے نہیں دیکھا جاتا۔
سوال سی و چہارم : عق عق عق عق اور غاق غاق یا ہندی کہئے کچ کچ کچ کچ اور کاؤں کاؤں، کیا یہ دونوں حکایتیں متباین آوازوں کی نہیں، کیا کوئی سمجھ وال بچہ بھی کاؤں کاؤں کرنے والے کو کہے گا کہ عق عق عق عق کہہ رہا ہے۔
سوال سی وپنجم : کیا لون حیوانات اختلاف بلاد سے مختلف نہیں ہوتا اگرچہ بنظر حالت معہودہ اسی سے شناحت حیوان کرائیں مثلاً تو تے کی رسم میں سبز رنگ، حالانکہ سپید بھی ہوتا ہے، تو کیا صرف موضع لون میں اختلاف نوعِ حیوان کو بدل دے گا حالانکہ نوعیتِ لون بھی نہ بدلی، خصوصاً جہاں خود کلمات راسمین تعیینِ موضع میں ایک وجہ پر نہ آئے ہوں، بہت نے مطلق کہا بعض نے ایک طرح تخصیص محل کی بعض نے دوسری طرح، تو کیا صرف ان بعض مخصصین میں بعض کا قول دیکھ کر خصوص موضع میں ایک فرق قریب پر تبدّلِ ذات حیوان کا زعم جنون ہے یا نہیں۔
سوال سی وششم: کراہت و ممانعت کہ بوجہ اکل نجاست ہولذاتہ ہوتی ہے یا اسی وصف کے سبب، یہاں تک کہ اگر وصف زائل ہو کراہت زائل ہو، ہمارے ائمہ نے دجاجہ مخلاۃ وبقرہ جلالہ میں بعد حبس اور امام ابو یوسف کی روایت میں عقعق کی نسبت کیا فرمایا ہے۔
سوال سی وہفتم : جامع الرموز کتب ضیغہ نامعتمدہ سے ہے یا نہیں، وہ اگر کسی بات میں ہدایہ وکافی وتبیین وایضاح و لباب وجوہرہ و غیرہا متون و شروح معتمدہ و معتبرہ کے معارض مانی جائے تو انکے مقابل کچھ بھی التفات کے قابل ٹھہر سکتی ہے بلکہ ان سب عمائد کی تصریحات جلیلہ سے اگر کوئی معتبر کتاب بھی مخالفت کرے جس کا مصنف نہ مجتہد فی الفتوٰی مانا گیا نہ ان میں اکابر کا ہم پایہ ، تو ترجیح کس طرف ہے، راجح کو چھوڑ کر مرجوح پر فتوٰی دینے کو علما نے جہل و خرقِ اجماع بتایا یا نہیں۔
سوال سی وہشتم : جانوروں میں فسق کے کیا معنے ہیں، بازو شکرہ و گربہ و کلب معلم بھی فاسق ہیں یا نہیں، علی الاول ثبوت علی الثانی ان میں اور زاغ میں کیا فرق ہے جس کے سبب شرع مطہر نے کوے کو فاسق بتایا نہ ان کو۔
سوال سی ونہم : ظہر کا ترجمہ کمر کہاں کی زبان ہے، کیا اگر کوے کی کمر پر سپیدی نہ ہو تو نہ وہ فاسق ہے نہ خبیث بلکہ مطلقاً حلال طیب ہے یہ کس کا مذہب ہے، کمر کی سپیدی کو حلت حرمت میں کیا اور کتنا اور کیوں دخل ہے۔
سوال چہلم : ایذا کہ حیوانات میں فسق ہے اس سے مطلقاً ایذا مراد ہے انسان کو ہو یا حیوان کو ابتداً ہو یا مقاومۃًطبعاً عادۃً ہو یا نادراً وکیفما کان شکاری جانور ہونا بھی اس ایذا میں شرعاً داخل ہے یا نہیں، علی الاول ثبوت درکار کہ علماء نے ایذائے مناط فی الفسق میں اسے مطلقاً داخل کیا یا باز وغیرہ شکاری پرندوں کو خود اسی بنا پر کہ وہ شکاری ہیں فاسق بتایا ہو، شرع کی کس دلیل کس امام معتمد کی تصریح سے ثابت ہے کہ طیور و بہائم میں مناطِ فسق و مناطِ سبعیت واحد ہے، کیا فسق و سبعیت میں یہاں کچھ فرق نہیں، نیز غیر طیور و بہائم میں مناط کس قسم کی ایذا ہے اور وہ یہاں صلوح مناطیت سے کیوں معزول ہوئی۔