Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
193 - 212
نقل مفاوضہ اول حضرت اہلسنت مدظلہ بنام جناب مولوی گنگوہی صاحب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
بنظر خاص مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ،
السلام علی من اتبع الہدٰی
(سلام اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ت) حلتِ غراب کے دو پرچے خیر المطابع میرٹھ کے چھپے کہ کسی صاحب ابوالمنصور مظفر میرٹھی کے نام سے شائع ہوئے ایک کا عنوان تردید ضمیمہ اخبار عالم مطبوعہ ۷ اکتوبر ۱۹۰۲ء دوسرے کی پیشانی تردید ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ مطبوعہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۲ء بعض احباب نے بھیجے اس کا یہ فقرہ واقعی لائق پسند ہے کہ شرعی مسئلہ کا صرف علماء میں طے ہونا۔ لہذا بغرض رفع شکوک عوام و تمیز حلال و حرام خاص آپ سے بعض امور مسئول اور ایک ہفتے میں جواب مامول، چار روز آمدورفت ڈاک کے ہوئے اگر تین دن کامل میں بھی آپ نے جواب لکھا تو چار دہم شعبان روز چار شنبہ تک آجانا چاہیے کہ آج شنبہ ہفتم شعبان ہے، اور اگر اس مہلت میں نہ ہوسکے تو اس کا مضائقہ نہیں ع۔

نکو گوئی اگر دیر کوئی چہ غم

( بات اچھی کہے اگر دیر سے کہے تو کیا غم ہے ت)

مگر اس تقدیر پر بوالپسی ڈاک وعدہ جواب و تعیینِ مدت سے اطلاع ضرور ہے ورنہ سکوت متصور ہوگا۔ جواب میں اختیار ہے کہ اپنے جن جن معاونین سے چاہیے استعانت کیجئے بلکہ بہتر ہوگا کہ سب کو جمع کرکے شورے مشورے سے جواب دیجئے کہ دس کی سوجھ بوجھ ایک سے کچھ اچھی ہی ہوگی۔ مگر بہرحال مجیب خود آپ ہی ہوں ۔ زید و عمرو کے نام سے جواب جواب کو جواب ہوگا نہ جواب کہ مقصود تو ان امور میں آپ کی رائے  معلوم ہونا ہے زید و عمرو کی خوش نوائیاں تو اخباروں اشتہاروں میں ہو ہی چکیں ، تحریر پر مہر بھی ضرور ہو کہ جحود جاحد کا احتمال دور ہو، مسئلہ مسئلہ دینیہ ہے اور مسئلہ دینیہ میں بے غور کامل و فحص بالغ آنکھیں بند کرکے منہ کھول دینا سخت بددیانتی، تو ضرور ہے کہ آ پ اس مسئلہ کے تمام اطراف و جوانب پر نظر ڈال چکے اور جمیع مالہ و ما علیہ پر تال چکے ہوں گے تحقیق تنقیح تطبیق ترجیح سب ہی کچھ کرلی ہوگی تو ان سوالوں کے جواب میں آپ کو دقت یا معذوری چشم کا عذر نہ ہوگا خصوصاً اس حالت میں کہ عالمگیری جیسی بیس۲۰ کتابیں آپ کے سینے شریف میں بند ہیں جیسا کہ مشتہر صاحب نے ادعا کیا  ہر سوال کا صاف صاف جواب ہو، اگر کسی امر میں خفا رہا یا جواب سوال سے پورا متعلق نہ ہوا یا کسی جواب پر کوئی سوال تازہ پیدا ہوا تو دوبارہ سوال کرلیا جائے گا کہ مقصود وضوح حق ہے نہ خالی ہار جیت کی زق زق۔
واﷲ الھادی الٰی صراط الحق
( اور اﷲ تعالٰی ہی راہِ حق کی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
سوال اوّل : پہلے یہی معلوم ہو کہ دونوں پرچہ مذکورہ اور وہ کاغذات جن کے طبع کا پرچہ اخیرہ میں وعدہ دیا آپ کی رائے و اطلاع و رضا سے ہیں یا بالائی لوگوں نے بطورِ خود شائع کیے ان کے سب مضامین آپ کو قبول ہیں یا کل مردود یا بعض، علی الثالث مردود کی تعیین، بحال سکوت وہ پرچے آپ ہی کے قرار پائیں گے، خبر شرط ست خبر شرط ست خبر شرط ست من آنذر فقد اعذر ( خبر شرط ہے، خبر شرط ہے، خبر شرط ہے، جس نے ڈرایا اس نے عذر پیش کردیا۔ت) اور اگر صرف اتنا جواب دیا کہ ان کا نفس حکم منظور تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ان کے دلائل وابحاث آپ کے نزدیک مردود و مطرود ہیں، ورنہ قبول میں تخصیص حکم نہ ہوتی۔ اور نسبت دلائل و ابحاث اجمالی بات کہ مثلاً بعض یا اکثر صحیح ہیں کافی نہ ہوگی۔ وہ لفظ یاد رہے کہ علی الثالث مردود کی تعیین۔

سوال دوم : شامی و طحطاوی و حلبی وغیرہا میں کہ عقعق وابقع وعذاف واعصم وزاغ کی طرف غراب کی تقسیم ہے صحیح و حاصر ہے یا غلط وقاصر ، علی الثانی اس میں کیا کیا اغلاط کتنا قصور ہے اور ان پر کیا دلیل۔

سوال سوم : غراب جب مطلق بولا جائے ان متعارف متنازع فیہ کووّں کو شامل ہے یا نہیں کیا غراب کا ترجمہ کوّا نہیں۔

سوال چہارم : اقسام خسمہ میں ہر ایک کی جامع مانع تعریف کیا ہے خصوصاً ابقع وعقعق کی رسم صحیح کہ طردا وعکساً ہر طرح سالم ہو مع بیان ماخذ۔

سوال پنجم : اگر تعریفات میں کچھ اختلاف واقع ہوئے ہیں تو ان میں کوئی ترجیح یا تطبیق ہے یا اختیار ہے کہ جزافاً جو چاہیے سمجھ لیجئے علی الاول آپ نے کیا کیا اختلاف پائے اور ان میں کس ذریعے سے ترجیح یا تطبیق دے کر کیا قولِ منقح نکالا۔

سوال ششم : متنازع فیہ کوّا اقسام خسمہ سے کس قسم میں ہے، جو قسم معین کی جائے اس کی تعیین اور مابقی سے امتیاز مبین کی دلیل کافی بملاحظہ جملہ جوانب مبین کی جائے۔

سوال ہفتم : یہ کوے جس طرح اب دائرو سائر ہیں کہ ہر جگہ ہر شہر و قریہ میں بکثرت وافرہ ہمیشہ ملتے ہیں اور ان کا غیر شہروں میں نادر، کیا اس پر کوئی دلیل ہے کہ ان کی یہ شہرت و کثرت اور امصار میں ان کے غیر کی ندرت اب حادث ہوگی فقہائے کرام اصحاب متون وشروح و فتاوٰی کے زمانے میں نہ تھی وہ حضرات ان کووں سے واقف تھے یا نادر الوجود ہونے کے باعث ان کا حکم بیان فرمانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے جوان کے زمانے میں کثیر الوجود تھے ان کے حکم بیان کیے آپ کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جو شق چاہیے اختیار کرلیجئے مگر ان کے سوا کوئی راہ چلئے تو ان دونوں کے بطلان اور اس کی صحت پر اقامت برہان ضرور ہوگی۔

سوال ہشتم : متون وشروح وفتاوٰی میں اختلاف ہو تو ترجیح کسے ہے، اصل مذہب صاحبِ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ ہے جو متون لکھیں یا وہ کہ بعض فتاوے یا شروح حاکی ہوں۔ علماء نے ہدایہ کو بھی متون میں شمار فرمایا ہے یا نہیں، یاد کرکے کہیے۔

سوال نہم : غداف جب اقسام غراب میں مذکور ہو اس سے نسر یعنی گدھ مراد ہے یا کیا۔

سوال دہم : کیا کوئی کوا شکاری بھی ہے کہ زندہ پرندوں کو پنجے سے شکار کرکے کھاتا ہے، اگر ہے تو اس کا کیا نام ہے اور وہ ان اقسام خمسہ سے کس قسم میں ہے یا ان سے خارج کوئی نئی چیز ہے علی الاول وہ قسم مطلقاً شکاری ہے، یا بعض افراد علی الثانی شکاری وغیرہ شکاری ایک نوع کیوں ہوئے۔

سوال یازدہم: جیفہ و شکار جدا جدا چیزیں ہیں یا ہر شکار کرکے کھانے والا جیفہ خوار ہے۔

سوال دوازدہم : پہاڑی کوّا کہ اس کوے سے بڑا اور یکرنگ سیاہ ہوتا اور گرمیوں میں آتا ہے کیا ان کوؤں کی طرف آپ کے نزدیک وہ بھی حلال ہے یا حرام علی الاول کس کتاب میں حلال لکھا ہے۔ علی الثانی اس کی حرمت کی وجہ کیا ہے۔

سوال سیزدہم : بعض کتب طبیہ میں جو عقعق کو مہوکا لکھا اور وہ ایک اور جانور کوے کے مشابہ ہے ، نجاست وغیرہ کھاتا ہے اور شہر میں کم آتا ہے اور ہدایہ و تبیین و فتح اﷲ المعین میں جس قدر باتیں عقعق کی نسبت تحریر فرمائی ہیں سب اس میں موجود ہیں آپ کے پاس ا س کی تکذیب پر کیا دلیل ہے۔

سوال چہار دہم حدیث :
خمس من الفواسق یقتلن فی الحل والحرم  ۔ ۱ ؎
  پانچ جانور خبیث ہیں انہیں حل و حرم میں قتل کیا جائے گا۔ت) سے تحریم فواسق پر استدلال مذہب حنفی کے مطابق و مقبول ہے یا باطل و مخذول ۔
 ( ۱ ؎ صحیح مسلم کتاب الحج  باب یندب للمحرم وغیرہ الخ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۳۸۱)

(سنن ابن ماجہ کتاب المناسک باب مایقتل المحرم الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۳۰)

(کنز العمال حدیث ۱۱۹۴۴  موسسۃ الرسالہ بیروت   ۵/ ۳۷)
Flag Counter