Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
192 - 212
خدمتِ برادران دین میں عرض رسا، اس زمانہ فتن و محن میں کہ علم ضائع اور جہل ذائع ہے بعض شوخ طبیعتیں پیرانہ سالی میں بھی نچلی نہیں بیٹھتیں، آئے دن ایک نہ ایک بات ایسی نکالتی رہتی ہیں جن سے مسلمانوں میں اختلاف پڑے فتنہ پھیلے اپنا کام بنے نام چلے، جناب کرامی القاب وسیع المناقب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے پہلے مسئلہ امکانِ کذب نکالا کہ معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کا سچا ہونا ضرور نہیں جھوٹا بھی ہوسکتا ہے، پھر ابلیس لعین کے علم کو رسول اﷲ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کے علم سے زیادہ بتایا۔ ان کے یہ دونوں مسئلے براہین قاطعہ کے صفحہ ۳ و صفحہ ۴۷ پر ہیں پھر بحکم آنکہ ۔ ع

قدم عشق پیشتر بہتر

(عشق کا قدم آگے بہتر ہے)

ایک مُہری فتوے میں تصریح کردی کہ اﷲ تعالٰی کو بالفعل جھوٹا ماننا فسق بھی نہیں اگلے امام بھی خدا کو ایسا مانتے ہیں جو خدا کو بالفعل جھوٹا کہے اسے گمراہ فاسق کچھ نہ کہنا چاہیے ہاں ایک غلطی ہے جس میں وہ تنہا نہیں بلکہ بہت اماموں کا پیرو ہے ۔ حضرت کا یہ ایمان ان کے مہری فتوے میں ہے جو برسوں سے بمبئی میں وغیرہ میں مع رد بارہا چھپ گیا اور علماء نے صریح حکم کفر دیا اور جناب کرامی القاب سے جواب نہ ہوا ، یونہی دو مسئلہ اولین کے ردَ میں علماء کے متعدد رسائل سالہا سال سے چھپ چکے اور لاجواب رہے۔ا دھر سے کان ٹھنڈے ہوئے تھے کہ حضرت کی اختراعی طبیعت نے کوّا پسند کیا اس کی حلت کا غوغا بلند کیا پھر بھی غنیمت ہے کہ کفرو ایمان سے اتر کر حلال و حرام میں آئے مسلمانوں کے قلوب میں اس پر بھی عام شورش و نفرت پیدا ہوئی، اگر حق سبحانہ  و تعالٰی توفیق عطا فرماتا تو بصیر اسی سے اندازہ کرلیتا کہ کوّے کو اسلامی طبیعتیں کیسا سمجھتی ہیں، عام قلوب میں اس کی حلت سُن کر ایسی شورش پیدا ہوئی آخر بیچیز ے نیست ، قمری یا کبوتر کو حلال بتانے پر بھی کبھی اختلاف پیدا ہوا، علماء و عامہ نے اسے نیا مسئلہ سمجھ کر تعجب کی نگاہ سے دیکھا؟ ہندوستان پر انہیں چند سال میں قحط کے کتنے حملے ہوئے؟ یہ سیاہ پوش صاحب ہر گلی کوچے میں کثرت سے ملتے ہیں عام مسلمین جن کی طبائع میں من جانب اﷲ اس فاسق پر ند کی خباثت و حرمت مذکور ہے ، ان کا خیال تو ادھر کیوں جاتا مگر اس وقت تک جناب کو بھی اس مسئلہ کا الہام نہ ہوا، ورنہ اور نہیں تو آپ کے معتقدین قحط زدوں کو تو مفت کا حلال طیب گوشت ہاتھ آتا اور چار طرف کاؤں کاؤں کا شور بھی کچھ کم پاتا، اب حالِ وسعت و فراخی میں آپ کو سوجھی کہ کوّا حلال ، نہ صرف حلال بلکہ حلال طیب ہے، متعدد بلاد میں اہلِ علم نے اس کے رد لکھے، یہاں تک کہ بعض معتقدین جناب گنگوہی صاحب نے بھی ان کے خلاف تحریریں کیں، آنحضرت عظیم البرکۃ مجدد دین و ملت حضرت عالمِ اہلسنت مدظلہ العالی کے حضور میر ٹھ سہارنپور گلاوٹی کانپور وغیرہا دس بلاد نزدیک و دور سے اس کے بارے میں سوالات آئے اکثر جگہ مختصر جوابات عطا ہوئے کہ یہ کوّا فاسق ہے خبیث ہے، حرام بحکم قرآن و حدیث ہے، اور بایں لحاظ کہ متعدد بلاد میں اہل علم کااس طرف متوجہ ہونا حلت کے رد لکھنا صحیح خبروں سے معلوم تھا اور یہاں کثرت کا ربیرون از شمار تصنیف کتبِ دین و رَدّ طوائف مبتدعین کے علاوہ بنگال سے مدراس اور برہما سے کشمیر تک کے فتاوٰی کا روزانہ کام ایک ایک وقت میں دو دو سو استفتاء کا اجتماع وازدحام، لہذا باین لحاظ کہ لوگ اس مجہلہ تازہ کا رد کررہے ہیں خود زیادہ توجہ فرمانے کے حاجت نہ جانی، اسی اثناء میں متعدد تحریرات مطبوعہ طرفین نظر سے گزریں، ان کے ملاحظہ سے واضح ہو اکہ یہ مسئلہ بھی اعلٰیحضرت دام ظلہم کے التفات خاص کی حد تک پہنچ گیاہے۔ بعض تحریراتِ معتقدین جناب گنگوہی صاحب میں یہ بھی تھا کہ یہ مسئلہ انکے علماء سے طے کرلیا جاتا یہ امر پسندیدہ خاطر عاطر آیا اور ایک مفاوضہ عالیہ چالیس سوالاتِ شرعیہ پر مشتمل جناب گنگوہی صاحب کے نام امضافرمایا، یہ سوالات حقیقۃً حرمتِ غراب کے دلائل بازغ اور اوہامِ طائفہ جدیدہ غرابیہ کے رَدِّ بالغ تھے جو ذی علم بدستیاری انصاف و فہم انہیں مطالعہ کرے اس پر حقیقتِ حال اور حلتِ زاغ کے جملہ اوہام کا زیغ وضلال روشن ہوجائے ، جناب مولوی گنگوہی صاحب بھی سمجھ لیے کہ واقعی سوالات لاجواب اور خیالات زاغیہ سب نعیق غراب بلکہ نقش بر آب ہیں مفاوضہ عالیہ بصیغہ رجسٹری رسید طلب مرسل ہوا تھا ضابطے کی رسید تو دیتے ہی براہ عنایت اس کے ساتھ ایک کارڈ بھی بھیجا کہ آپ کا طویل مسئلہ پہنچا میں نے نہ سنا نہ سننے کا قصد ہے،
انا ﷲ وانا الیہ راجعون،
( بے شک ہم اﷲ تعالٰی کے مال ہیں اور ہم کو اس کی طرف پھرنا ہے۔ ت) ہزار افسوس نام علم و حالت علماء پر بے سمجھے بوجھے ایک نیا مسئلہ نکالنا مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا اور جب علماء مطالبہ دلیل و افادہ حق فرمائیں یوں چپ سادھ لینا ارشادِ قرآن
  واذ ا خذ اﷲ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس   ۱ ؎۔
( اور یاد کرو جب اللہ تعالٰی نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کردینا۔ ت)
 (۱؂القرآن الکریم  ۳ /۱۸۷)
کو بھلا دینا ایسے ہی شیوخ الطائفہ کو زیبا ہے جنہیں خود ان کا معتقد فرقہ اپنا پیر مغاں لکھتا ہے۔ افسوس معتقدین کی بھی نہ چلی کہ ہمارے علماء سے طے کرلو۔ طے کس سے کیجئے وہاں تو آواز ندارد۔ سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ فلاں فلاں پرچے جو حلتِ زاغ میں چھپے آپ کی رائے و رضا سے ہیں یا نہیں ان کے مضامین آپ کے نزدیک مقبول ہیں یا مردود۔ جناب گنگوہی صاحب نے خیال فرمایا کہ مقبول کہتا ہوں تو سب بار مجھی پر آتا ہے مردود بتاؤں تو اپنا ہی ساختہ پر داختہ باطل ہوا جاتا ہے لہذا صاف کانوں پر ہاتھ دھر گئے کہ میں نے اس وقت تک اس مسئلہ میں کوئی تحریر موافق نہ مخالف اصلاً نہ سُنی ، نہ سننے کا قصد ہے۔ مجھے تو آج تک یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس بارے میں کسی طرف سے کوئی تحریر چھپی ہے چلیے فراغت شد۔

نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے	پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے

حضرت جناب گنگوہی صاحب اور اُن سے قربت رکھنے والے خوب جانتے ہوں گے کہ یہ کیسا صریح سچ ارشاد ہوا ہے مگر وہاں اس کی کیا پروا ہے جو اپنے معبود کو جھوٹا بالفعل کہنا سہل جانیں، بندوں پر جھوٹ بولنا آپ ہی واجب بالدوام مانیں۔ عالم اہل سنت دام ظلہ العالی نے فوراً اس کا رڈ کا رَد رجسٹر رسید طلب کے ساتھ روانہ فرمایا فراست المومن سے گمان تھا کہ گنگوہی صاحب پہلا مفاوضہ انجانی میں لے چکے ہیں اور قوت سوالات دیکھ کر تحقیقِ مسئلہ شرعیہ سے بچتے ہیں عجب نہیں کہ اس بار رجسٹری واپس فرمائیں لہذا واضح قلم سے لفافے پر یہ الفاظ تحریر فرمادیئے تھے : دینی مسئلہ ہے صرف تحقیق حق مقصود ہے کوئی مخاصمہ نہیں اگر رجسٹری واپس کردی تو حق پرستی کے خلاف ہوگا اور عجز پر دلیل صاف ، مگر بندگانِ خدا صادق کی فراست ایمانی بحمداﷲ تعالٰی صادق ہی ہوتی ہے وہی گل کھلا کر جناب مولوی گنگوہی صاحب نے انکاری ہو کر مفاوضہ واپس کردیا۔ اہالی ڈاک نے لکھ دیا کہ حضرت کو انکار ہے لہذا واپس  انّاﷲ وانّا الیہ راجعون  ( بے شک ہم اللہ کے مال ہیں اور اسی کی طرف ہم کو پھرنا ہے۔ت)
فقیر محض بنظر تحقیق حق ورفعِ اختلاف مسلمین وہ مفاوضات اور کارڈ بعینہ شائع کرتا اور اب چھاپ کر جناب مولوی گنگوہی صاحب سے سوالات شرعیہ کا جواب مانگتا ہے، جناب گنگوہی صاحب نام مناظرہ سے خائف ہولیے تھے۔ کہ سبحٰن السبوح میں حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا حملہ شیرا نہ دیکھ چکے تھے یہ فقیر محض بطور استفادہ مسئلہ شرعیہ آپ سے جواب سوالات پوچھتا ہے جب آپ کے نزدیک کوّا حلال ہے اور لوگ اس حلال خدا کو حرام سمجھے ہوئے ہیں اور خاص آپ سے اس دینی مسئلہ کی تحقیق چاہتے ہیں تو جواب نہ دینا کیا معنی رکھتا ہے ۔ پہلے بھی مفاوضہ عالیہ نے آپ کو سنادیا تھا اور اب فقیر بھی گزارش کیے دیتا ہے کہ خاص آپ کا جواب درکار ہے اسی سے رفعِ نزاع ممکن ہے زید و عمر و سے غرض نہیں ایں و آں پر التفات نہ ہوگا آپ سے مسائل شرعیہ کا سوال ہے آپ پر جواب واجب ہے آخر ماہ رمضان المبارک تک چالیس دن کی مہلت نذر ہے اگر عید ہوگئی اور جناب نے ہر سوال کا مفصل جواب اپنا مہری نہ بھیجا تو واضح ہوگا کہ آپ کو حلال و حرام کی پروا نہیں آپ مسائل شرعیہ پوچھنے والوں کے جواب سے عاجز ہیں آپ بے سمجھے مسائل منہ سے نکالتے اور مسلمانوں میں اختلاف ڈالتے اور جواب کے وقت خموشی پالتے ہیں، اور اگر آپ نے جواب تفصیلی بھیجے اور اسی قدر یا استفادہ مکرر سے فقیر کو اطمینان ہوگیا تو میں وہ نہیں کہ جو چاہوں مان لوں اور عجز کے وقت سکوت کی امان لوں میں وعدہ دیتا ہوں کہ حلالِ خدا کو کبھی حرام نہ کہوں گا آپ کی طرف سے ایک تحقیق حاصل ہونے کا ممنون ہوگا آئندہ اختیار بدست مختار، حسبنا اﷲ ونعم الوکیل وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا و مولانا محمد والہ بالتبجیل ۔
Flag Counter