خدمتِ برادران دین میں عرض رسا، اس زمانہ فتن و محن میں کہ علم ضائع اور جہل ذائع ہے بعض شوخ طبیعتیں پیرانہ سالی میں بھی نچلی نہیں بیٹھتیں، آئے دن ایک نہ ایک بات ایسی نکالتی رہتی ہیں جن سے مسلمانوں میں اختلاف پڑے فتنہ پھیلے اپنا کام بنے نام چلے، جناب کرامی القاب وسیع المناقب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے پہلے مسئلہ امکانِ کذب نکالا کہ معاذ اﷲ اﷲ عزوجل کا سچا ہونا ضرور نہیں جھوٹا بھی ہوسکتا ہے، پھر ابلیس لعین کے علم کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بتایا۔ ان کے یہ دونوں مسئلے براہین قاطعہ کے صفحہ ۳ و صفحہ ۴۷ پر ہیں پھر بحکم آنکہ ۔ ع
قدم عشق پیشتر بہتر
(عشق کا قدم آگے بہتر ہے)
ایک مُہری فتوے میں تصریح کردی کہ اﷲ تعالٰی کو بالفعل جھوٹا ماننا فسق بھی نہیں اگلے امام بھی خدا کو ایسا مانتے ہیں جو خدا کو بالفعل جھوٹا کہے اسے گمراہ فاسق کچھ نہ کہنا چاہیے ہاں ایک غلطی ہے جس میں وہ تنہا نہیں بلکہ بہت اماموں کا پیرو ہے ۔ حضرت کا یہ ایمان ان کے مہری فتوے میں ہے جو برسوں سے بمبئی میں وغیرہ میں مع رد بارہا چھپ گیا اور علماء نے صریح حکم کفر دیا اور جناب کرامی القاب سے جواب نہ ہوا ، یونہی دو مسئلہ اولین کے ردَ میں علماء کے متعدد رسائل سالہا سال سے چھپ چکے اور لاجواب رہے۔ا دھر سے کان ٹھنڈے ہوئے تھے کہ حضرت کی اختراعی طبیعت نے کوّا پسند کیا اس کی حلت کا غوغا بلند کیا پھر بھی غنیمت ہے کہ کفرو ایمان سے اتر کر حلال و حرام میں آئے مسلمانوں کے قلوب میں اس پر بھی عام شورش و نفرت پیدا ہوئی، اگر حق سبحانہ و تعالٰی توفیق عطا فرماتا تو بصیر اسی سے اندازہ کرلیتا کہ کوّے کو اسلامی طبیعتیں کیسا سمجھتی ہیں، عام قلوب میں اس کی حلت سُن کر ایسی شورش پیدا ہوئی آخر بیچیز ے نیست ، قمری یا کبوتر کو حلال بتانے پر بھی کبھی اختلاف پیدا ہوا، علماء و عامہ نے اسے نیا مسئلہ سمجھ کر تعجب کی نگاہ سے دیکھا؟ ہندوستان پر انہیں چند سال میں قحط کے کتنے حملے ہوئے؟ یہ سیاہ پوش صاحب ہر گلی کوچے میں کثرت سے ملتے ہیں عام مسلمین جن کی طبائع میں من جانب اﷲ اس فاسق پر ند کی خباثت و حرمت مذکور ہے ، ان کا خیال تو ادھر کیوں جاتا مگر اس وقت تک جناب کو بھی اس مسئلہ کا الہام نہ ہوا، ورنہ اور نہیں تو آپ کے معتقدین قحط زدوں کو تو مفت کا حلال طیب گوشت ہاتھ آتا اور چار طرف کاؤں کاؤں کا شور بھی کچھ کم پاتا، اب حالِ وسعت و فراخی میں آپ کو سوجھی کہ کوّا حلال ، نہ صرف حلال بلکہ حلال طیب ہے، متعدد بلاد میں اہلِ علم نے اس کے رد لکھے، یہاں تک کہ بعض معتقدین جناب گنگوہی صاحب نے بھی ان کے خلاف تحریریں کیں، آنحضرت عظیم البرکۃ مجدد دین و ملت حضرت عالمِ اہلسنت مدظلہ العالی کے حضور میر ٹھ سہارنپور گلاوٹی کانپور وغیرہا دس بلاد نزدیک و دور سے اس کے بارے میں سوالات آئے اکثر جگہ مختصر جوابات عطا ہوئے کہ یہ کوّا فاسق ہے خبیث ہے، حرام بحکم قرآن و حدیث ہے، اور بایں لحاظ کہ متعدد بلاد میں اہل علم کااس طرف متوجہ ہونا حلت کے رد لکھنا صحیح خبروں سے معلوم تھا اور یہاں کثرت کا ربیرون از شمار تصنیف کتبِ دین و رَدّ طوائف مبتدعین کے علاوہ بنگال سے مدراس اور برہما سے کشمیر تک کے فتاوٰی کا روزانہ کام ایک ایک وقت میں دو دو سو استفتاء کا اجتماع وازدحام، لہذا باین لحاظ کہ لوگ اس مجہلہ تازہ کا رد کررہے ہیں خود زیادہ توجہ فرمانے کے حاجت نہ جانی، اسی اثناء میں متعدد تحریرات مطبوعہ طرفین نظر سے گزریں، ان کے ملاحظہ سے واضح ہو اکہ یہ مسئلہ بھی اعلٰیحضرت دام ظلہم کے التفات خاص کی حد تک پہنچ گیاہے۔ بعض تحریراتِ معتقدین جناب گنگوہی صاحب میں یہ بھی تھا کہ یہ مسئلہ انکے علماء سے طے کرلیا جاتا یہ امر پسندیدہ خاطر عاطر آیا اور ایک مفاوضہ عالیہ چالیس سوالاتِ شرعیہ پر مشتمل جناب گنگوہی صاحب کے نام امضافرمایا، یہ سوالات حقیقۃً حرمتِ غراب کے دلائل بازغ اور اوہامِ طائفہ جدیدہ غرابیہ کے رَدِّ بالغ تھے جو ذی علم بدستیاری انصاف و فہم انہیں مطالعہ کرے اس پر حقیقتِ حال اور حلتِ زاغ کے جملہ اوہام کا زیغ وضلال روشن ہوجائے ، جناب مولوی گنگوہی صاحب بھی سمجھ لیے کہ واقعی سوالات لاجواب اور خیالات زاغیہ سب نعیق غراب بلکہ نقش بر آب ہیں مفاوضہ عالیہ بصیغہ رجسٹری رسید طلب مرسل ہوا تھا ضابطے کی رسید تو دیتے ہی براہ عنایت اس کے ساتھ ایک کارڈ بھی بھیجا کہ آپ کا طویل مسئلہ پہنچا میں نے نہ سنا نہ سننے کا قصد ہے،