Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
190 - 212
 (۴۲) ص ۶۶:  عید کے پیچھے تین دن تک قربانی درست ہے،مذہب حنفی میں صرف بارھویں تک قربانی جائز ہے۔ درمختار میں ہے :
تجب التضحیۃ فجریوم النحرالٰی اٰخر ایامہ وھی ثلثۃ افضلہا اولہا۱؂ ۔
قربانی کرنا واجب ہے یومِ نحر کی فجر سے ایامِ قربانی کے آخری دن تک،اور وہ تین دن ہیں جن میں سے پہلا افضل ہے ۔ (ت)
 ( ۱ ؎  الدرالمختار         کتاب الاضحیۃ    مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۲۳۱)
 (۴۳) ص ۷۶ : خاوند اگر اپنی عورت کو غسل دے جائز ہے،مذہب حنفی میں محض ناجائز ہے۔

درمختار میں ہے :
ویمنع زوجہا من غسلہا و مسھا لامن النظر الیہاعلی الاصح ۲ ؎۔
اصح یہ ہے کہ خاوند کا بیوی کو غسل دینا اور اُسے چھونا ممنوع ہے مگر اسے دیکھنا ممنوع نہیں ہے۔(ت)
 (۲ ؎ ) الدرالمختار    کتاب الصلوۃ     باب صلوۃ الجنازۃ         مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۱۲۰)
 (۴۴) ص ۸۰ : شہید پر نماز پڑھنی ضروری نہیں،مذہب حنفی میں ضروری ہے۔ 

درمختار میں باب الشہید میں ہے :
یصلی علیہ بلا غسل ۳ ؎ ۔
شہید پر بلا غسل نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔(ت)
 ( ۳ ؎  الدرالمختار   کتاب الصلوۃ    باب الشہید    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲۷)
(۴۵) ص ۸۰ :  جو جنازہ میں نہ مل سکے قبر پر پڑھ لے۔ مذہب حنفی میں جو نماز جنازہ میں نہ مل سکے اب وہ کہیں نہیں پڑھ سکتا،کہ نماز جنازہ کی تکرار جائز نہیں مگر اس حالت میں کہ پہلی نماز اس نے پڑھ لی ہو۔ جسے ولایت نہ تھی۔ 

درمختار میں ہے :
ان صلی غیر الولی ولم یتابعہ الولی اعاد الولی ولو علٰی قبرہ ان شاء ولیس لمن صلی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرار ھا غیر مشروع ۴ ؎۔
اگر غیر ولی نے نماز جنازہ پڑھ لی اور ولی نے اس کی متابعت نہ کی تو ولی اگر چاہے تو نماز جنازہ کا اعادہ کرسکتا ہے،اگرچہ قبر پر پڑھ لے اور جو پہلے جنازہ میں شریک ہوچکا ہے وہ دوبارہ ولی کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز جنازہ میں تکرار مشروع نہیں ہے۔(ت)
 ( ۴ ؎  الدرالمختار     کتاب الصلوۃ          باب صلوۃ الجنازۃ         مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۲۳)
 (۴۶) ص ۸۸ :  جو مرجائے اور اس پر فرض روزے رہ جائیں اس کے ولی کو چاہیے کہ اس کی طرف سے روزے رکھے۔ مذہب حنفی میں کوئی دوسرے کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا ۔

ہدایہ میں ہے :
لایصوم عنہ الولی ولا یصلی لقولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لایصوم احد عن احد ولا یصلی احد عن احد  ۱ ؎۔
اور میت کی طرف سے اس کا ولی نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہے کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہ رکھے اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے(ت)
 ( ۱ ؎  الہدایۃ   کتاب الصوم   فصل ومن کان مریضاًفی رمضان     المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱ /۲۰۳)
 (۴۷) ص ۹۳ : ہر مسلمان امیر وغریب پر صدقہ فطر واجب ہے مذہب حنفی میں صرف غنی پر واجب ہے فقیر پر ہر گز نہیں،

ہدایہ میں ہے :
صدقۃ الفطر واجبۃ علی الحرالمسلم اذا کان مالکا لمقدار النصاف فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاصدقۃ الاعن ظہر غنی ۲ ؎۔
صدقہ فطر آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مقدار نصاف کا مالک ہو درانحالیکہ وہ نصاف اس کے رہائشی مکان،لباس ، سامان خانہ داری،سواری کے گھوڑے ،ہتھیاروں اور خدمت کے غلاموں سے زائدہو،رسول اﷲ  کے اس فرمان کی وجہ سے کہ نہیں ہے صدقہ مگر مالداری کو باقی رکھتے ہوئے۔(ت)
 ( ۲ ؎  الہدایۃ   کتاب الزکوۃ  باب صدقۃ الفطر   المکتۃ العربیۃ کراچی     ۱ /۱۸۸)
 (۴۸) ص ۹۳ : صدقہ فطر عورت کا خاوند کو لازم ہے،یہ بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے،

 ہدایہ میں ہے :
  لایؤدی عن زوجتہ   ۳ ؎ ۔
(صدقہ فطر) خاوند اپنی بیوی کی طرف سے ادا نہ کرے۔(ت)
 ( ۳ ؎  الہدایۃ  کتاب الزکوۃ    باب صدقۃ الفطر    المکتۃ العربیۃ کراچی     ۱ /۱۸۹)
(۴۹) ص ۹۲ : صدقہ فطر نماز سے پیچھے ناجائز ہے،یہ بھی محض غلط ہے،

ہدایہ میں ہے :
ان اخروھا عن یوم الفطر لم تسقط وکان علیہم اخراجہا  ۱؎ ۔
اگر لوگوں نے صدقہ فطر روز عید سے مؤخر کردیا تو ساقط نہ ہوا،اس کی ادائیگی ان پر لازم ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎  الہدایۃ   کتاب الزکوۃ  باب صدقۃ الفطر   المکتۃ العربیۃ کراچی     ۱ /۱۹۱)
(۵۰) ص ۹۴ : اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے سال بھر میں جب کیا جائے جائز ہے رمضان شریف کے پچھلے عشرہ میں افضل ہے،مذہب حنفی میں پچھلے عشرہ کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے،

عالمگیری میں ہے :
الاعتکاف سنۃ مؤکدۃ فی العشرالاخیر من رمضان ۲؎ ۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎  الفتاوی الھندیۃ   کتاب الصوم    الباب السابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۲۱۱)
یہ چھوٹے چھوٹے گنتی کے اوراق میں اس کے پچاس دھوکے ہیں اور بہت چھوڑ دیئے،اور صرف اس کی ایک کتاب ہی پیش نظر ہے۔ باقی ۱۳ میں خدا جانے اپنے دین و دیانت کو کیا کچھ تین تیرہ کیا ہو۔ اس کے حمایتی دیکھیں کہ ہدایہ وغیرہ حنفیہ کی معتبر کتابوں میں مسائل خلافیہ لکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ غیر مذہبوں بلکہ لامذہبوں کے مسائل لکھ جائیں اور انہیں کو احکامِ خدا و رسول ٹھہرائیں اور مذہب حنفی کا نام بھی زبان پر نہ لائیں۔ یہ صریح دغا بازوں،فریبیوں،بددیانتوں،مفسدوں ،دشمنانِ حنفیہ کا کام ہے۔ تو یہ مصنف اور اس کے حمایتی جتنے ہیں سب مذہب حنفی کے دشمن اور حنفیہ کے بدخواہ ہیں۔ مسلمانوں پر ان سے احتراز فرض ہے۔
قد بدت البغضا ء من افواھھم وما تخفی صدورھم اکبر،قدبینا لکم الاٰیات ان کنتم تعقلون۳ ؎۔
بیران کی باتوں سے جھلک اٹھا ،اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے،ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو۔(ت)
( ۳ ؎  القرآن الکریم   ۳ /۱۱۸  )
نسئل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین و بارک وسلم واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ہم اللہ تعالٰی سے در گزر اور عافیت کا سوال کرتے ہیں،اور اللہ تعالٰی کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت،اور اﷲ تعالٰی درود و سلام اور برکت بھیجے اس پر جو تمام مخلوق سے بہتر ہے اور آپ کی آل پر اور تمام صحابہ پر ،اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی خوب جانتا ہے۔(ت)
27_55.jpg
Flag Counter