قول ہفتم : المذھب المحقق عند المحققین انّ الاعدام اللاحقۃ الزمانیۃ لیست اعداما حقیقۃ بل العدم الاحق غیبوبۃ زمانیۃ ، بناء علی ماثبت من وجود الدھرا المعبرعنہ بمتن نفس الامر وحاق الواقع الذی یسع کل موجود _______ وعلٰی ھذا فالاعدام السابقۃ علی الوجود اذاکان الحادث ( عہ۱) متحققا فی جزء من اجزاء الزمان ، ایضاً غیبوبات مانیۃ والعدم الحقیقی انما ھوبالارتفاع والبطلان عن صفحۃ الواقع ،فلایکون العدم بانتفائہ عن کل جزء( عہ۲) من اجزاء الزمان ، کما فی السرمدیات المتعالیۃ عن الزمان والتغیر۔ وبالجملۃ علی ھذا التحقیق لایکون الزمانیات معدومۃً عن الواقع بل عن وقت وجودہ(عہ۳)۔ اھ بالتقاط ص۱۵۔
محققین کے نزدیک مذہب محق یہ ہے کہ لاحق ہونے والے اعدام زمانیہ درحقیقت اعدام نہیں بلکہ عدم لاحق تو غیبوبت زمانی کا نام ہے ۔ اس بات پر بناء کرتے ہوئے کہ وجود دہر میں سے کچھ ثابت ہے اس کو نفس الامر اور واقع سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کہ ہر موجود کو شامل ہے اور اس بنیاد پر وہ اعدام جو وجود پر سابق ہیں جب وجود زمانے کی کسی جزء میں متحقق ہو تو وہ بھی غیبوبت زمانیہ ہیں۔ اور عدم حقیقی تو فقط صفحہ واقع سے مرتفع ہونے کا نام ہے۔ چنانچہ اجزاء زمانہ میں سے ہر جز سے منتفی ہونے سے عدم نہ ہوگا ، جیسا کہ سرمدیات میں جو زمان و تغیر سے ماوراء ہیں۔ اور مختصر یہ کہ اس تحقیق کی بنیاد پر زمانیات واقع سے معدوم نہیں ہوتیں بلکہ اس کے وجود کے وقت سے معدوم ہوتی ہیں اھ التقاط ص ۱۵ (ت)
عہ ۱: اقول ھٰذا مستغنیً عنہ بعد ذکر السبقۃ علی الوجود ، کما لا یخفٰی ۱۲ س ۔
عہ ۲: اقول ھٰذا اجہل عظیم ، فان الزمانی لایوجد الافی الزمان ، فان خلاعنہ الزمان بجمیع اجزاءہ خلاعنہ الواقع البتۃ ___ وقسہ بالمکان اِن خلت عنہ الامکنۃ باسرھا کان معدو مافی نفس الامر ، والا لم یکن المکانی مکانیا ، ھف ، ۱۲ س عفی عنہ۔
عہ ۳: اقول ھذا اعظم جہَلا ، فان الزمان ایضاً بما فیہ موجود فی الدھروکذلک کون الزمان فی الزمان ، فلایمکن علی القول بالدھر ان ینعدم الزمانی عن وقت وجودہ ، وھل ھذا الّا کالقول بالنقیضین ۱۲ س عفی عنہ۔
قول ہشتم : خود اسی کتاب کی تعریف میں لکھا ہے :
" یہ کتاب فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔ اور صیقل ذہن کے لیے عجب اکسیر اعظم و نافع کبیر ہے" ۔
اور خطبہ کتاب میں اُس کے مضامین کو اِکتناہِ حقائق و تدقیق فصیح وتحقیق صریح سے تعبیر کیا۔ ص ۲ اور اس کا نام
رکھا___لوح میں نام یونہی مطبوع ہوا مگر متن میں بجائے لِنَاطق ، من ناطق ہے۔
آیا یہ اقوال شرعاً صحیح یا باطل ؟___ اور یہ مدح حلیہ صواب سے مُتحلیّ یا عاطل؟___ اور اس نام میں کوئی محذورِ شرعی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی رضی لنا الاسلام دینا واغنانا عن شقا شق الفلاسفۃ غناءً مبیناً ÷ وارسل نبینابالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ÷ فاتم الحجّۃ ، واوضح المحجۃ ، وصدع بالحق دِقّہ وجِلِّہ فصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علیہ ، وعلٰی اٰلہِ وصحبہ ÷ خُمَاۃ السنن ، ومُحاۃ الفتن ، وکُلِّ محبوب ، و مرضی لدیہ ، صلاۃً تبقٰی وتدوم ÷ بدوام الملک الحّی القیوم ÷ واشھد ان لا الہٰ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ فی الخلق والتدبیر ÷ والامر والتقدیر ، والوجود القدیم والعلم المحیط ÷ وانّ سیدنا ومولانا محمدًا عبدہ ورسولہ ، الاٰتی بالملّۃ الغراء ، والحکمۃ البیضاء المنزھۃ عن کل خبط وتخلیط÷ وافراط و تفریط ÷ ___ صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ وکلّ منتمٍ الیہ ، اٰمین ، اٰمین ، الٰہ الحق اٰمین!
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے ہمارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند فرمایا ، اور ہمیں فلاسفہ کے جھاگ سے واضح طور پر بے نیاز کردیا اور ہمارے نبی کو ہدایت و دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے چنانچہ اس نے دلیل کو تام اور راستے کو واضح فرمایا۔ اور چھوٹے بڑے حق کو کھلم کھلا بیان کردیا۔ اﷲ تعالی آپ پر درود و سلام بھیجے اور برکتیں نازل فرمائے اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر جو سنتوں کے محافظ اور فتنوں کو مٹانے والے ہیں۔ اور ہر اُس شخص پر جو آپ کا محبوب و پسندیدہ ہے ایسا دردود جو باقی رہنے والا اور دائمی ہے بادشاہ حی و قیوم کے دوام کے ساتھ ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اور خلق و تدبیر ، امرو تقدیر ، و جود قدیم اور علم محیط میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اور یہ کہ ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، وہ ایسی چمکدار ملّت اور روشن حکمت لے کر آئے ہیں جو ہر بے راہروی ، آمیزش اور کمی سے پاک ہے ، اﷲ تعالٰی کی رحمتیں اور سلام ہو آپ پر ، آپ کی آل پر ، آپ کے صحابہ پر اور ہر اس شخص پر جو آپ کی طرف منسوب ہے۔ اے سچے معبود ! ہماری دعا قبول فرما(ت)
حق جل و علا دین حق پر قائم اور آفات تفلسف سے محفوظ و سالم رکھے۔ فی الواقع عامہ اقوالِ مذکورہ سخت شنیع و فظیع ہیں۔ اور شرع مطہر میں اُن کے قائل کا حکم نہایت شدید و وجیع ۔ لاسیما۔
قولِ اوّل
کہ اس میں بالتصریح باری عَزَّ مَجدُہ کو تدبیر و تصرفِ مادیات سے بے علاقہ مانا ، مثلاً بدن انسانی میں جو مُبین متین ، ظاہر ، باہر زاہر قاہر تدبیریں صبح شام ، دن رات ہر وقت عیاں ونہاں ہوتی رہتی ہیں جن کی حکمتوں میں عقول متوسطہ انگشت بہ دنداں ہیں ، یہ سب جلیل و جمیل کام نفسِ ناطقہ کی خوبیاں ہیں۔ اللہ تعالٰی کو اصلاً ان سے تعلق نہیں ، نہ اس کا بندوں کے بدنوں میں کوئی تصرف۔
لاالٰہ اﷲ محمد رسول اﷲ
(اللہ کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ت)
___ استغفراﷲ
(میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ت) ___
والعیاذ باﷲ
(اللہ کی پناہ ، ت)
ھیھات ، ھیھات !
اس سے بڑھ کرکونسا کفر ملعون ہوگا ___
سبحٰنہ وتعالٰی عمّا یقولون علوًّا کبیراً ۱ ؎
(اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری ۔ت)
(۱؎القرآن الکریم ۱۷ /۴۳ )
سورہ یونس رعدو سورہ الم تنزیل السجدہ کے پہلے رکوع اس نزعہ فلسفیّہ کے رَد کو بس ہیں۔ اور سورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے رکوع چہارم میں فرماتا ہے :
قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یّد بّر الامرط فسیقولون اﷲ ج فقل افلا تتقون o ۱؎۔
(۱ القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)
تو فرما کون تمہیں روزی دیتا ہے آسمان سے ( مینہ اتار کر) اور زمین سے ( کھیتی اُگا کر) یا کون مالک ہے شُنوائی اور نگاہوں کا۔ ( کہ مُسَبَّبَات کو اسباب سے ربطِ عادی دیتا ہے۔ اور قَرَع سے ہوا کہ صوت کا حامل کرتا ، پھر اُسے اذنِ حرکت دیتا ، پھر اسے عَصبہ مفروشہ تک پہنچاتا ، پھر اس کے بچنے کو محض اپنی قدرتِ کاملہ سے ذریعہ ادراک فرماتا ہے___ اور اگر وہ نہ چاہے تو صور کی آواز بھی کان تک نہ جائے۔ یونہی جو چیز آنکھ کے سامنے ہو ، اور موانع و شرائط عادیہ مرتفع و مجتمع ۔
( اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ وہ انطباع کے ساتھ ہوا یا شعاع کے نکلنے سے ہوا جیسا کہ مشہور ہے یا جیسے اس نے چاہا۔ ت) ¬¬_____ اس وقت اِبصار کا حکم دیتا ہے____ اور اگر وہ نہ جاہے روشن دن میں بلند پہاڑ نظر نہ آئے۔ اور وہ کون ہےجو نکالتا ہے زندے کو مُردے سے ( کافر سے مومن ، نطفہ سے انسان ، انڈے سے پرند) اور نکالتا ہے مردے کو زندے سے ، اور کون تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی ۔ ( آسمان میں اس کے کام ، زمین میں اس کی کام ، ہر بدن میں اس کے کام ،کہ غذا پہنچاتا ہے۔ پھر اُسے روکتا ہے۔ پھر ہضم بخشتا ہے۔ پھر سہولت دفع کو پیاس دیتا ہے۔ پھر پانی پہنچاتا ہے ۔ پھر اس کے غلیظ کو رقیق ، لزج کو منزلق کرتا ہے۔ پھر ثقل کیلوس کو امعا کی طرف پھینکتا ہے ۔ پھر ماساریقا کی راہ سے ، خالص کو جگر میں لے جاتا ہے ۔ وہاں کیموس دیتا ہے ۔ تلچھٹ کا سودا ، جھاگوں کا صفرا۔ کچے کا بلغم ، پکے کا خون بناتا ہے۔ فُضلہ کو مثانہ کی طرف پھینکتا ہے۔ پھر انہیں بابُ الکَبِدْکے راستے سے عُروق میں بہاتا ہے۔ پھر وہاں سہ بارہ پکاتا ہے۔ بے کا کو پسینہ بنا کر نکالتا ہے۔ عطر کو بڑی رگوں سے جَدَ اول ، جداول سے سواقی ، سواقی سے باریک عروق ، پیچ درپیچ تنگ برتنگ راہیں چلاتا ہوا ، رگوں کے دہانوں سے اعضاء پر اُنڈیلتا ہے۔ پھر یہ محال نہیں کہ ایک عضو کی غذا دوسرے پر گرے ۔جو جس کے مناسب ہے اسے پہچانتا ہے۔ پھر اعضاء میں چوتھا طبخ دیتا ہے کہ اس صورت کو چھوڑ کر صورتِ عُضویّہ لیں۔اِن حکمتوں سے بقائے شخص کو مایَتَحَلَّلْ کا عوض بھیجتا ہے___ جو حاجت سے بچتا ہے اُس سے بالیدگی دیتا ہے اور وہ ان طریقوں کا محتاج نہیں۔ چاہے تو بے غذا ہزار برس جِلائے اور نماء کا مل پر پہنچائے___ پھر جو فُضلہ رہا اُسے منی بنا کر صلب و ترائب میں رکھتا ہے۔ عقدو انعقاد کی قوت دیتا ہے۔ زن و مرد میں تالیف کرتا ہے۔ عورت کو باوجود مشقت حمل وصعوبت وضع شوق بخشتاہے ۔ حفظِ نوع کا سامان فرماتاہے ۔ رحم کو اذن جذب دیتا ہے___ پھر ا س کے اِمساک کا حکم کرتا ہے ۔ پھر اسے پکا کر خون بناتا ہے۔ پھر طبخ دے کر گوشت کا ٹکڑا کرتا ہے۔ پھر اس میں کلیاں ، کنچھیان نکالتا ہے۔ قسم قسم کی ہڈیاں ، ہڈیوں پر گوشت ، گوشت پر پوست ، سینکڑوں رگیں ، ہزاروں عجائب ___ پھر جیسی چاہے تصویر بناتا ہے ۔ پھر اپنی قدرت سے رُوح ڈالتا ہے۔ بے دست و پا کو ان ظلمتوں میں رزق پہنچاتا ہے ۔ پھر قوت آنے کو ایک مدت تک روکے رہتا ہے۔ پھر وقتِ معین پر حرکت وخروج کا حکم دیتاہے ۔ اس کے لیے راہیں آسان فرماتاہے ۔ مٹی کی مورت کو پیاری صورت ، عقل کا پُتلا ، چمکتا تارا۔ چاند کا ٹکڑا کر دکھاتا ہے۔
فتبٰرک اﷲ احسن الخالقین ۱
(تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ۔ ت) اور وہ اِن باتوں کا محتاج نہیں ، چاہے تو کروڑوں انسان پتھر سے نکالے ، آسمان سے برسالے۔
(۱ القرآن الکریم ۳۳ /۱۴)
ہاں بتاؤ وہ کون ہے جس کے یہ سب کام ہیں؟
فسیقولون اﷲ ۲
اب کہا چاہتے ہیں کہ اللہ ۔ توفرما پھر ڈرتے کیوں نہیں؟
(۲ القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)
اٰمنّا باﷲ وحدہ ۳ ،
( ہم ایک اﷲ پر ایمان لائے ۔ ت)——
(۳القرآن الکریم ۴۰/ ۸۴)
آہ ! آہ ! اے مُتفلسف مسکین!
کیوں اب بھی یقین آیا یا نہیں کہ تدبیر و تصّرف اسی حکم علیم کے کام ہیں۔