Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
189 - 212
 (۳۲ و ۳۳) ۵۸ : جب کسی دشمن یا درندہ وغیرہ کا خوف ہو تو چار رکعت نماز فرض سے دو رکعت پڑھنا جائز ہے۔ یہ محض غلط ہے مسافر پر چار رکعت فرض کی پڑھنی ویسی ہی واجب ہے اگر چہ کچھ خوف نہ ہو،اور غیر مسافر کو چار رکعت فرض کی ،دو پڑھنی اصلاً جائز نہیں اگرچہ کتنا ہی خوف ہو۔ 

درمختار میں ہے :
من خرج من عمارۃ موضع اقامتہ قاصد امسیرۃ ثلٰثۃ ایام ولیالیہا صلی الفرض الرباعی رکعتین وجوبا۲؂ ۔
جو شخص تین دن رات کی مسافت کے ارادے سے اپنی جائے اقامت کی آبادی سے نکلا اس پر واجب ہے کہ چار رکعتی فرضوں میں دو دو رکعتیں پڑھے ت)۔
 ( ۲ ؎  الدرالمختار         کتاب الصلوۃ          باب صلوۃ المسافر         مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۰۷)
اسی میں ہے :
صلوۃ الخوف جائزۃ بشرط حضور عدواوسبع فیجعل الامام طائفۃ بازاء العدوو یصلی باخری رکعۃ فی الثنائی ورکعتین فی غیرہ ۳ ؎ ۔
نمازِ خوف اس شرط پر جائز ہے کہ دشمن یا درندہ سامنے موجود ہو،چنانچہ امام لوگوں کے دوگروہ بنائے گا ان میں سے ایک گروہ کو دشمن کے سامنے کھڑا کرے گا جب کہ دوسرے کو دورکعتی نماز میں سے ایک رکعت اور چار رکعتی نماز میں سے دو رکعتین پڑھائے گا۔(ت)
( ۳ ؎  الدرالمختار     کتاب الصلوۃ          باب صلوۃ الخوف        مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۱۱۸و ۱۱۹)
 (۳۴) ص ۵۹ : کوئی نماز دیدہ و دانستہ قضا ہوجائے تو اس کا ادا کرنا واجب ہے۔

(۳۵) ص۶۳ : جو سائل نے نقل کیا جو خطبہ میں آکر شامل ہو دورکعت سنت پڑھ کر بیٹھے،مذہب حنفی میں خطبہ ہوتے وقت ان رکعتوں کا پڑھنا حرام ہے،
درمختار میں ہے :
اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام الٰی تمامھا ۱؎ ۔
جب امام خطبہ کے لیے نکلے تو ا سکے اتمام تک کوئی نماز اور کوئی کلام جائز نہیں۔(ت)
( ۱ ؎  الدرالمختار   کتاب الصلوۃ    باب الصلوۃ الجمعۃ    مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۱۳)
 (۳۶) ص ۶۳ : وہ جو سائل نے نقل کیا جو شخص کے دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے۔ یہ محض غلط وافتراء ہے مذہب حنفی میں تو اگر التحیات یا سجدہ سہو بھی امام کے ساتھ پالیا تو جمعہ ہی پڑھے گا اور امام محمد کے نزدیک بھی دوسری رکعت کا رکوع پانے والا جمعہ پڑھتا ہے حالانکہ وہ بھی دوسری رکعت کے قیام کے بعد ملا ،

ہدایہ میں ہے  :
من ادرک الامام یوم الجمعۃ صلی معہ ما ادرکہ و بنی علیھا الجمعۃ وان کان ادرکہ فی التشہدا وفی سجود السہو بنی علیہا الجمعۃ عندھما وقال محمد ان ادرک معہ اکثرالرکعۃ الثانیۃ بنی علیھا الجمعۃ ۲ ؎ ۔
جس نے جمعہ کے دن امام کو پالیا تو امام کے ساتھ جتنی نماز پائی وہ اس کے ساتھ پڑھے،اور اس پر جمعہ کی بنا کرے،اگر اس نے امام کو تشہد یا سجدہ سہو میں پایا تو شیخین کے نزدیک اس پر جمعہ کی بنا کرے اور امام محمد کے نزدیک اگر امام کے ساتھ دوسری رکعت اکثر پالی تو اس پر جمعہ کی بنا کرے۔(ت)
 (۲ ؎ الدرالمختار     کتاب الصلوۃ     باب الصلوۃ الجمعۃ     المکتبۃ العربیۃ کراچی         ۱ /۱۵۰)
 (۳۷) ص ۶۴۰ : تین آدمی بھی جمع ہوجائیں تو جمعہ پڑھ لیں۔ یہ بھی ہمارے امام کے مذہب کے خلاف ہے کم سے کم چار آدمی درکار ہیں۔ 

درمختار میں ہے :
والسادس الجماعۃ واقلہا ثلٰثۃ رجال سوی الامام ۳ ؎ ۔
چھٹی شرط جماعت ہے اور وہ یہ کہ امام کے علاوہ کم از کم تین مرد ہوں۔(ت)
( ۳ ؎  الدرالمختار   کتاب الصلوۃ   باب الصلوۃ الجمعۃ    مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۱)
 (۳۸) ص ۶۴ : عید کی نماز ہر مسلمان پر واجب ہے مرد ہو یا عورت یہ بھی غلط ہے ۔مذہب حنفی میں عورتوں پر نہ جمعہ ہے نہ عید،ہدایہ میں ہے :
تجب صلوۃ العید علٰی کل من تجب علیہ صلوۃ الجمعۃ ۱؎ ۔
نماز عید ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نمازِ جمعہ واجب ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎  الہدایۃ     کتاب الصلوۃ   باب صلوۃ الجمعۃ         المکتبۃ العربیۃ کراچی   ۱ /۱۵۱)
اسی میں ہے :
لاتجب الجمعۃ علی مسافر ولا امرأۃ ۲؎ ۔
مسافر اور عورت پر جمعہ واجب نہیں،(ت)
 ( ۲ ؎  الہدایۃ         کتاب الصلوۃ         باب صلوۃ الجمعۃ         المکتبۃ العربیۃ کراچی         ۱ /۱۴۹)
 (۳۹) ص ۶۵ : دونوں عیدیں جب بارش وغیرہ کا عذر ہو مسجد میں جائز ہیں۔ اس کے معنٰی یہ ہوئے کہ بارش وغیرہ کا عذر نہ ہو تو مسجد میں ناجائز ہیں یہ محض غلط ہے۔ 

درمختار میں ہے :
الخروج الیہا ای الجبانۃ الصلوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ، ۳ ؎  ۔
نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف نکلنا سنت ہے اگرچہ جامع مسجد میں لوگ سما سکتے ہوں۔(ت)
 ( ۳ ؎  الدرالمختار     کتاب الصلوۃ         باب العیدین     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۱۴)
 (۴۰) ص ۶۶  : بکری بھینگی ناجائز ہے،یہ بھینگی کا حکم بھی غلط لکھ رہا ہے مذہب حنفی میں بھینگی بکری کی قربانی جائز ہے۔ 

ردالمحتار میں ہے :
  وتجوز الحولاء مافی عینہا حول ۴ ؎ ۔
جس کی آنکھ بھینگی ہو اس کی قربانی جائز ہے۔(ت)
 (۴ ؎  ردالمحتار   کتاب الاضحیۃ         باب العیدین      داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵ /۲۰۷)
 (۴۱) ص ۶۳ : وہ جو سوال میں منقول ہوا کہ ایک دن میں جمعہ وعید اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت آئی ہے لیکن پڑھنا بہتر ہے۔ یہ بھی غلط ہے مذہب حنفی میں عید واجب اور جمعہ فرض ہے کوئی متروک نہیں ہوسکتا ، ہدایہ میں ہے :
وفی الجامع الصغیر عیدان اجتمعا فی یوم واحدفالاول سنۃ والثانی فریضۃ ولا یترک واحد منھما ۵ ؎ ۔
جامع صغیر میں ہے کہ اگر ایک دن میں دو عیدیں جمع ہوجائیں تو پہلی سنت ( واجب مثبت بالسنہ) اور دوسری فرض ہے ان میں سے کوئی بھی ترک نہیں کی جائے گی۔(ت)
 ( ۵ ؎ الہدایۃ   کتاب الصلوۃ         باب العیدین         المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱/ ۱۵۱)
Flag Counter