(۲۱) ص ۳۵ : نماز کے سب فعلوں کو بالترتیب ادا کرنا سنت ہے،مذہب حنفی میں بہت ترتیبیں فرض اور بہت واجب ہیں،فقط سنت کہنا جہل و افتراء ہے،
درمختار میں ہے :
بقی من الفروض ترتیب القیام علی الرکوع والرکوع علی السجودو القعود الاخیر علی ما قبلہ ۳ ،
باقی ہے فرائض نماز میں سے،قیام کی ترتیب رکوع پر اور رکوع کی ترتیب سجدہ پر اور آخری قعدہ کی ترتیب اس کے ماقبل پر ۔(ت)
( ۳ ؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء مجتبائی دہلی ا/۳۱۲)
اسی کے واجبات نماز میں ہے :
ورعایۃ الترتیب بین القراء ۃ والرکوع وفیمایتکرر امافیما لا یتکرر ففرض کما مر ۴؎ ۔
ترتیب کو ملحوظ رکھنا قراء ت و رکوع کے درمیان اور افعالِ متکررہ میں واجب ہے ،رہے افعالِ غیر متکررہ تو ان میں رعایت ترتیب فرض ہے،جیسا کہ گزرا (ت)
( ۴ ؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ داراحیاء مجتبائی دہلی ا/۳۱۲)
(۲۲) ص ۳۶ : اخیر کا التحیات اکثر کے نزدیک فرض اور بعض کے نزدیک سنت ہے مذہب حنفی میں یہ دونوں باتیں باطل ہیں،نہ فرض ہے نہ سنت ،بلکہ واجب،
درمختار باب واجبات الصلوۃ میں ہے :
والتشہدان ۱؎ ۔
اور دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا واجب ہے (ت)
( ۱ ؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۷۲)
(۲۴ و ۲۴ و ۲۵) ص ۳۶ : دائیں بائیں طرف سلام پھیرنا فرض ہے،اس میں تین باتیں فرض کیں ،سلام پھیرنا اور اس کا دائیں طرف ہونا اور بائیں طرف ہونا،اور یہ تینوں باطل ہیں ان میں کچھ فرض نہیں،لفظ سلام فقط واجب ہے اور داہنے بائیں منہ پھیرنا سنت،درمختار واجباتِ نماز میں ہے :
ولفظ السلام ۲؎ ۔
اور لفظِ سلام واجب ہے۔(ت)
( ۲ ؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۷۲)
مراقی الفلاح میں ہے :
یسن الالتفات یمینا ثم یسارا بالتسلمتین۳ ؎ ۔
سلام کے وقت نمازی کا دائیں بائیں منہ پھیرنا سنت ہے۔(ت)
( ۳ ؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوۃ فصل فی بیان سننہا دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۲۷۴)
(۲۶ و ۲۷) ص ۳۹ : اگر قرآن شریف پڑھنے میں سب برابر ہوں تو وہ امام بنے جو زیادہ عالم ہو،اگر علم میں سب برابر ہوں تو وہ لائق ہے جو عمر میں سب سے بڑا ہو۔ یہ دونوں باتیں بھی مذہب حنفی کے خلاف ہیں مذہب حنفی میں امامت کے لیے سب سے مقدم وہ ہے جو علم زیادہ رکھتا ہو،پھر جو زیادہ قاری ہو،پھر جو زیادہ شبہات سے بچنے والا ہو،پھر جو عمر میں بڑا یعنی اسلام میں مقدّم ہو،
درمختار میں ہے :
الاحق بالامامۃ الاعلم باحکام الصلوۃ ثم ّ الاحسن تلاوۃ وتجوید ا ثم االاکثر اتقاء للشبہات ثم الاسن ای الاقدم اسلام ۱؎۔
امام کا زیادہ حق دار وہ ہے جو نماز کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو،پھر جو زیادہ اچھی قراء ت کرتا ہو،پھر وہ جو شبہات سے زیادہ بچتا ہو،پھر وہ جو عمر میں سب سے بڑھ کر ہو یعنی اسلام میں مقدم ہو ت)۔
( ۱ ؎الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)
(۲۸) صفحہ ۴۱ : جو اکیلا نماز پڑھ لے اگر پھر اس وقت کی جماعت مل جائے تو جماعت میں شریک ہوجائے۔ یہ مطلق حکم بھی مذہب حنفی کے خلاف ہے مذہب حنفی میں جس نے فجر یا عصر یا مغرب پڑھ لی دوبارہ ان کی جماعت میں شریک نہیں ہوسکتا۔
درمختار میں ہے :
من صلی الفجر و والعصرو المغرب مرۃ فیخرج مطلقاً وان اقیمت ۲؎ ۔
جو شخص ایک مرتبہ فجر،عصر اور مغرب کی نماز پڑھ چکا ہو وہ مطلقاً مسجد سے نکل سکتا ہے اگرچہ اقامت ہوجائے (ت)
(۲ ؎الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ادراک الفریضہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹)
(۲۹) ص ۴۲ : جو شخص صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ یہ بھی محض افترا ہے بلاضرورت ایسا کرنے میں صرف کراہت ہے نماز یقیناً ہوجائے گی۔
درمختار میں ہے :
قدمنا کراھۃ القیام خلف صف منفرد ابل بجذب احد من الصف لکن قالوا فی زماننا ترکہ اولٰی ولذا قال فی البحریکرہ واحدہ اذا لم یجدفرجۃ ۳ ؎ ۔
ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اکیلے مقتدی کا صف کے پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے بلکہ وہ صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچ لے۔ لیکنہمارے زمانے میں فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس کا ترک اولٰی ہے اسی لیے بحر میں فرمایا ، اکیلے کھڑے ہونا مکروہ ہے مگر جب صف میں جگہ میں جگہ نہ پائے تو مکروہ نہیں ہے۔(ت)
(۳ ؎الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب ادراک الفریضہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۲)
(۳۰) ص ۵۳ : نماز استخارہ سنت ہے اس کی ترکیب یہ ہے کہ دو رکعت نماز پھر نماز پڑھ کر سو رہے۔ یہ سنت ہے سورہنے کا ذکر کہیں حدیث میں نہیں۔
(۳۱) ص ۵۷ : وہ جو سائل نے نقل کیا کہ جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے ان میں سنت بھی معاف ہیں،یہ محض جہالت ہے حالت قرار میں کسی نماز کی سنت معاف نہیں اور حالتِ فرار میں سب کی معاف ہیں،مطلقاً معافی کا حکم دینا غلط اور اس معافی کو قصر کے ساتھ خاص کرنا دوسری غلطی ،
درمختا رمیں ہے:
یاتی المسافر بالسنن ان کان فی حال امن وقرار والا بان کان فی حال خوف وفرار لایاتی بھاھوالمختار ۱؎ ۔
حالت امن و قرار میں مسافر سنتیں ادا کرے ورنہ یعنی حالتِ خوف و فرار میں نہ ادا کرے،یہی مختار ہے۔(ت)
( ۱ ؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صلوۃ المسافر مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۸)