Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
187 - 212
 (۱۲) ص ۲۹  : تصویر دار کپڑے میں نماز نہیں ہوتی۔ یہ غلط ہے نماز ہوجاتی ہے البتہ مکروہ ہوتی ہے۔ 

ہدایہ میں ہے :
لولبس ثوبافیہ تصاویر یکرہ الصلوۃ جائزۃ لاستجماع شرائطہا۱؂۔
اگر ایسے کپڑے پہنے جن میں تصویریں ہیں تو مکروہ ہے تاہم نماز ہوجائے گی کیونکہ شرائطِ نماز تمام موجود ہیں۔(ت)
 ( ۱ ؎  الہدایۃ کتاب الصلوۃ فصل فی مکروہات الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۲۲)
 (۱۳) ص ۲۹ :  ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا ہو تو نماز نہیں ہوتی،یہ شریعتِ مطہرہ پر محض افترا ہے اس صورت میں نماز نہ ہونا کسی کا مذہب نہیں بلکہ تہبند لٹکا اگر بہ نیتِ تکبر نہ ہو تو ناجائز بھی نہیں جائز وروا ہے صرف خلافِ اولٰی ہے۔ 

عالمگیری میں ہے :
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن لخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیۃ کذا فی الغرائب ۲؎ ۔
مرد اگر بلا نیت تکبر اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکائے تو مکروہِ تنزیہی ہے غرائب میں یونہی ہے۔(ت)
 ( ۲ ؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع      نورانی کتب خانہ پشاور     ۵ /۳۳۳)
 (۱۴) ص ۳۰ : مسجد کے سوا نماز بلا عذر نہیں ہوتی۔ یہ بھی غلط ہے نماز بلاشبہ ہوجاتی ہے مگر مسجد کی جماعت گھر کی جماعت سے افضل ہے،اور بلا عذر ترک ِ مسجد فی نفسہ ممنوع ہے مگرمانع صحتِ نماز نہیں۔ ردالمتحار میں ہے :
الاصح انہا کاقامتہا فی المسجدالا فی الافضلیۃ۳ ؎ ۔
  اصح یہ ہے کہ گھر میں نماز قائم کرنا مسجد میں نماز قائم کرنے کی طرح ہے مگر افضلیت میں فرق ہے۔(ت)
 (۳ ؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۳۷۲)
 (۱۵) ص ۳۳ : فقہاء کے نزدیک الحمدپڑھنا صرف امام ہی کے لیے واجب ہے،یہ اس نے فقہاء پر محض افترا کیا۔ صرف اور ہی دو کلمے حصر کے جمع کردیئے حالانکہ ہمارے آئمہ کے نزدیک امام اور منفرد سب پر سورہ فاتحہ واجب ہے صرف مقتدی کے لیے ممنوع ہے۔ 

درمختار میں ہے :
لھا واجبات ھی قراء ۃ فاتحۃ الکتاب وضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وفی جمیع رکعات النفل والوتر۱؎ ۔
نماز کے لیے کچھ واجبات میں،وہ سورہ فاتحہ پڑھنا اور فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی تمام رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت ملانا۔ (ت)
 ( ۱ ؎  الدرالمختار     کتاب الصلوۃ         باب صفۃ الصلوۃ    مطبع مجتبائی  ۱ /۷۱)
اسی میں ہے :
والمؤتم لا یقرؤ مطلقاً ولا الفاتحۃ ۲ ؎
۔ مقتدی مطلقاً قراء ت نہ کرے اور نہ ہی فاتحہ پڑھے (ت)
 ( ۲؎ الدرالمختار     کتاب الصلوۃ         باب صفۃ الصلوۃ    مطبع مجتبائی   ۱ /۸۱)
 (۱۶) ص ۳۳ : مغرب و عشاء فجر میں قراء ت آواز سے پڑھنی اور ظہر و عصر میں آہستہ پڑھنی سنت ہے۔ یہ بھی غلط ہے حنفی مذہب میں یہ صرف سنت نہیں بلکہ امام پر واجب ہیں۔ 

درمختار واجبات نماز میں ہے :
والجھرللامام والاسرار للکل فیما یجھر فیہ ویسر  ۳ ؎ ۔
اونچی قراء ت امام کے لیے اور پست قراء ت سب کے لیے جہری اور سری قراء ت والی نمازوں میں (ت)
 ( ۳ ؎ الدرالمختار    کتاب الصلوۃ         باب صفۃ الصلوۃ    مطبع مجتبائی   ۱ /۷۲)
 (۱۷) ص ۳۳ : پہلی دورکعتوں میں سورت ملانی سنت ہے،حنفی مذہب میں یہ بھی واجب ہے ۴؎ ۔
درمختار کی عبارت گزری۔
 (۴ ؎ الدرالمختار    کتاب الصلوۃ         باب صفۃ الصلوۃ    مطبع مجتبائی   ۱ /۷۱)
 (۱۸) ص ۳۳ : رکوع میں پیٹھ کو سر کے برابر کرنا فرض ہے۔ یہ محض افترا ہے مذہب حنفی میں فقط سنت ہے نہ فرض نہ واجب۔

درمختار میں ہے :
ویسن ان یبسط ظہرہ غیر رافع ولا منکس راسہ ۵ ؎۔
سنت ہے کہ پیٹھ کو سر کے برابر کرے نہ کہ بلند کرے نہ پست کرے ۔
 ( ۵ ؎الدرالمختار    کتاب الصلوۃ    باب صفۃ الصلوۃ    مطبع مجتبائی    ۱ /۷۵)
 (۱۹ و ۲۰) ص ۳۴ : سجدہ سے سر اٹھا کر دوزانو بیٹھنا اور ٹھہرنا فرض ہے ، رکوع سے اٹھ کر تسبیح کے برابر کھڑے رہنا فرض ہے،یہ بھی محض افتراء ہے دوزانو بیٹھنا صرف سنت ہے بلکہ مذہب حنفی میں اصل بیٹھنا بھی فرض نہیں واجب ہے بلکہ اصل مذہب مشہور حنفی میں اس جلسہ کو صرف سنت کہا یہی حال رکوع سے کھڑے ہونے کا ہے،

ردالمحتار میں ہے:
  یجب التعدیل فی القومۃ من الرکوع والجلسۃ بین السجدتین و تضمن کلامہ وجوب نفس القومۃ والجلسۃ ایضا ۱؎ ۔
رکوع کے بعد کھڑے ہونے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں تعدیل واجب ہے،ماتن کا کلام خود قومہ اور جلسہ کے وجوب کو بھی متضمن ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎  ردالمحتار   کتاب الصلوۃ  باب صفۃ الصلوۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت         ا/۳۱۲)
نیز اسی میں ہے :
 اما القومۃ والجلسۃ وتعدیلھما فالمشہور فی المذھب السنیۃ وروی وجوبہا۲؎ ۔
لیکن قومہ اور جلسہ اور ان میں تعدیل تو مذہب میں ان کا سنت ہونا مشہور ہے اور وجوب بھی مروی ہے۔ت)
 (۲ ؎ ردالمحتار   کتاب الصلوۃ  باب صفۃ الصلوۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت   ا/۳۱۲)
Flag Counter