(۵) ص ۱۰ : غسل کے فرائض میں صرف اتنا لکھا ہے کہ سارے بدن پر پانی ڈالنا فرض ہے حالانکہ مذہب حنفی میں غسل کے تین فرض ہیں : کلی اور ناک میں پانی پہنچانا اور سارے بدن پر پانی ڈالنا ،
ہدایہ :
فرض الغسل المضمضۃ والا ستنشاق وغسل سائرالبدن ۲ ؎ ۔
غسل کے فرائض کلی کرنا،ناک میں پانی پہنچانا،اور سارے بدن پر پانی بہانا (ت)
( ۲ ؎الہدایۃ کتاب اطہارات فصل فی الغسل الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۲)
(۶) ص ۱۳ : وہ کہ سائل نے دربارئہ حیض نقل کیا اصل یہ ہے کہ یہ امر ہر عورت کی عادت و طبیعت پر منحضر ہے،یہ صراحۃً مذہبِ حنفی کا رد ہے حنفیہ کے نزدیک حیض نہ تین رات دن سے کم ہوسکتا ہے نہ دس رات دن سے زائد،
ہدایہ :
اقل الحیض ثلثۃ ایام ولیا لیھا و مانقص من ذلک فہواستحاضۃ واکثرہ عشرایام والزائد استحاضۃ ۳۔
حیض کم از کم تین دن رات ہے جو اس سے کم ہو وہ استحاضہ ہے،اور زیادہ سے زیادہ حیض ۱۰ دن ہے جو اس سے زائد ہو وہ استحاضہ ہے۔ت)
( ۳؎ الہدایۃ کتاب اطہارات باب الحیض والا اسحاضہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۴۶)
(۷) ص ۱۵ : وہ کہ سائل نے نقل کیا کہ پانی کی طبیعت پاک ہے،حنفیہ کے نزدیک تھوڑا پانی ایک قطرہ نجاست سے بھی ناپاک ہوجائے گا یہاں جو اس غیر مقلد نے فقط مزے اور بو کے بدلنے پر مدار رکھا اجماع تمام امت کے خلاف ہے کہ نجاست کے سبب رنگ بدلنے سے بھی بالاجماع پانی ناپاک ہوجائے گا اگرچہ مزہ و بو نہ بدلے،
درمختار باب المیاہ :
ینجس الماء القلیل بموت بط وبتغیر احد اوصافہ من لون اوطعم اوریح و ینجس الکثیرو لو جاریا اجماعا اما القلیل فینجس وان لم یتغیر ، ۱ ؎
قلیل پانی بطخ کے اس میں مرنے کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے اور کثیر پانی نجاست کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے،اور کثیر پانی نجاست کی وجہ سے رنگ،بو یا مزہ بدلنے سے بالا جماع نجس ہوجاتا ہے اگرچہ جاری ہو،اور قلیل پانی نجاست کے وقوع سے نجس ہوجاتا ہے اگرچہ اس کا کوئی وصف نہ بدلے (ت)
( ۱ ؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب المیاہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵)
(۸) ص ۲۵ : عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک اور وتروں کا اخیر رات تک ہے یہ نہ فقط حنفیہ بلکہ آئمہ اربعہ کے خلاف ہے،چاروں اماموں کے نزدیک عشاء کا وقت طلوعِ فجر تک رہتا ہے۔
درمختار میں ہے :
وقت العشاء والوترالی الصبح ۲؎۔
عشاء اور وتر کا وقت صبح صادق تک ہے۔(ت)
( ۲ ؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۹)
میزان الشریعۃ الکبرٰی میں ہے :
وقت العشاء فانہ ید خل اذا غاب الشفق عند مالک والشافعی واحمد ویبقی الی الفجر ۱؎ ۔
امام مالک ،امام شافعی اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کے نزدیک عشاء کا وقت شفق کے غائب ہونے پر داخل ہوتا ہے اور صبح صادق تک باقی رہتا ہے۔ (ت)
( ۳ ؎میزان الشریعۃ الکبری کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۳)
(۹) ص ۲۶ : پردہ زیر ناف گھٹنوں کے اوپر تک فرض ہے،حنفیہ کے مذہب میں گھٹنے بھی ستر میں داخل ہیں تو نماز میں گھٹنے کھلے رکھنے کی اجازت حنفی مذہب کے خلاف بھی ہے اور نماز میں بے ادبی کی تعلیم بھی،
چوتھی شرط سترِ عورت ہے اور مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک ہے۔(ت)
( ۴ ؎الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۵)
(۱۰)ص ۲۷ : آزاد عورت کو منہ اور ہاتھ اورپاؤں کے سوا سب بدن کا چھپانا فرض ہے۔ باندی کو اکثر منہ اور ہاتھ پاؤں کے سوا پیٹ اور پیٹھ اور باقی جسم کا چھپانا فرض ہے،یہ شخص باندی کا عجب حکم لکھ رہا ہے کہ نہ فقط حنفیہ بلکہ تمام امت کے خلاف،اس نے آزاد عورت اور باندی کا حکم حرف بحرف ایک رکھا کہ منہ اور ہاتھ اور پاؤں کے سوا باقی بدن کا چھپانا دونوں پر فرض کیا فقط فرق یہ رکھا کہ آزاد عورت کے لیے سارا منہ مستثنٰی کیا اور باندی کے لیے اکثر منہ۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ باندی کا ستر آزاد کے ستر سے زائد ہے کہ اُسے نماز میں سارے منہ کھولنے کی اجازت ہے اور باندی کو کچھ منہ کا حصہ چھپانا بھی فرض ہے یہ تمام جہان میں کسی مسلمان کا قول نہیں۔ ایسی ہی خود ساختہ مسائل کی اشاعت کا نام اشاعتِ دین رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رکھتاہے۔
درمختار میں ہے۔:
ماھوعورۃ منہ عورۃ من الامۃ مع ظھرھا وبطنہا وجنبہا و وللحرۃ جمیع بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین ۱؎ ۔
جو مرد کے لیے ستر ہے وہی لونڈی کے لیے بھی سترہے سوائے پشت،پیٹ اور پہلوؤں کے جب کہ آزاد عورت کا تمام بدن ستر ہے سوائے چہرے،ہتھیلیوں اور قدموں کے۔(ت)
( ۱ ؎الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶۵و ۶۶)
(۱۱) ص ۲۷ : مقتدی کو امام کے اقتداء کی نیت کرنا چاہیے (حاشیہ) امام مالک کے نزدیک بالکل نہیں ہوتی۔ یہاں سے صاف ظاہر ہوا کہ مذہب حنفی میں مقتدی کو نیت اقتداء کی ضرورت نہیں صر ف اولٰی ہے اگر نہ کرے گا جب بھی نماز ہوجائے گی حالانکہ یہ محض غلط ہے ،
ہدایہ میں ہے :
ان کان مقتدیا بغیرہ ینوی الصلوۃ ومتا بعتہ لانہ یلزمہ فساد الصلوۃ من جہتہ فلابد من التزامہ ۲؎ ۔
اگر نمازی غیر کامقتدی ہے تو نماز کی نیت بھی کرے اور متابعت امام کی نیت بھی کرے کیونکہ اس کی نماز کا فساد امام کی جہت سے لازم آتا ہے لہذا اس کا التزام ضروری ہے۔(ت)
( ۲ ؎ الہدایۃ کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۸۰)
عالمگیری میں ہے :
الاقتداء لایجوز بدون النیۃ کذ ا فی فتاوٰی قاضی خان ۳ ؎ ۔
(بغیر نیت کے اقتداء جائز نہیں۔ فتاوٰی قا ضی خان میں یونہی ہے۔ت)
( ۳ ؎الفتاوٰی الہندیہ کتاب الصلوۃ الباب الثالث الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۶۶)