Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
185 - 212
اور جو بدعتیوں جہنمیوں کو اہلسنت جانے اور ان کا خلاف مثل اختلافِ صحابہ مانے خود بدعتی ناری جہنمی ہے۔

رابعاً : اس بیان سے غیر مقلدوں لامذہبوں کی وقعت و توقیر مسلمان بچوں کے دلوں میں جمے گی کہ ان کا اختلاف مثل اختلافِ صحابہ کرام ہے،

اور حدیث میں ہے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :
من وقر صاحب بدعتہ فقداعان علٰی ھدم الاسلام  ۱ ؎ ۔
جو کسی بدمذہب کی توقیر کرے اس نے دین اسلام کے ڈھانے پرمدد دی۔
(۱؎ شعب الایمان      حدیث ۹۴۶۴  دار الکتب العلمیہ بیروت   ۷/ ۶۱)
تو اس کتاب کا نام "اسلام کی کتاب" رکھنا نہ تھا بلکہ اسلام ڈھانے کی کتاب۔

خامساً : اس مصنف عیار نے نادان مسلمانوں اور ان کے بے سمجھ بچوں کو کیسا سخت فریب شدید دھوکا دیا ہے،یہاں تو لکھ دیا کہ وہ کسی مذہب سے تعصب نہیں رکھتا ملک میں فقہاء  و اہل حدیث دونوں بکثرت موجود ہیں،اور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی تعلیم مقصود ہے اس لیے دونوں فریق کا اختلاف اس میں بیان کردیا ہے جس سے ظاہر ہوا کہ وہ ہر جگہ مذہب فریقین بیان کردے گا کہ ہر فریق والا اپنا مذہب جان لے مگر اس نے صراحۃً اس کے خلاف کیا،کہیں کہیں اختلاف بتایا اور وہاں بھی جا بجا دوسروں کے مذہب کو اصل مسئلہ ٹھہرایا۔ اور حنفیہ کے مذہب کو کمزور کرکے کہا کہ بعض یوں کہتے ہیں،اور بہت جگہ صرف لامذہبوں کے مسئلے لکھے جو مذہب حنفی کے صریح خلاف ہیں،دراصل اختلاف کا پتا بھی نہ دیا جس سے مسلمانوں کے بچی اس مذہب مخالف پر جم جائیں اور اپنے مذہب کی خبر بھی نہ پائیں اگر وہ ابتداء میں اختلافات بتانے کا وعدہ نہ کرتا تو دھوکا اتنا سخت نہ ہوتا،جب مسلمان جانتے کہ اس کتاب میں حنفیہ وغیر حنفیہ سب کے مسائل گھال میل بے تمیز ہیں،تو مسلمان اس کتاب سے بچتے،اب کے ان کو یہ دھوکا دیا کہ جہاں اختلاف ہے دونوں مذہب بتادیئے جائیں گے تو ان کو اطمینان ہوگیا کہ اپنا مذہب لیں گے دوسروں کا چھوڑ دیں گے اب کیا یہ گیا کہ کہیں کہیں اختلاف بتا کر بکثرت مواقع پر مذہب لکھا دوسروں کا اور اختلاف اصلاً نہ بتایا تو ناواقفوں کو صاف بتایا کہ یہ مسئلے متفق علیہ ہیں ان پر بے تکلف عمل کرو یہ کتنی بڑی دغا بازی اور مسلمان بچوں کی بد خواہی ہے،اس کی نظیریہ ہے کہ کوئی شخص سبیل لگائے اور اشتہار دے دے کہ جو آبخورے ناپاک یا تمہارے مذہب کے خلاف ہیں ان پر چٹ لگادی ہے اور بعض پر تو چٹ لگائے باقی بہت ناپاک آبخورے بے چٹ کے ملادے تو وہ صراحۃً بے ایمانی و دغا بازی کررہا ہے اگر وہ اتنا ہی کہتا کہ ان میں کچھ آنجورے نجس بھی ہیں تو کوئی مسلمان انہیں ہاتھ نہ لگاتا،چٹ کے دھوکے نے مسلمانوں کو فریب دیا،غیر مقلدوں کے طور پر سوئر کی چربی حلال اور شراب وخون پاک ہے،یہ کتاب ایسی ہوئی کہ کسی غیر مقلد نے کوئی عام دعوت کی اور اعلان کردیا کہ جس سالن میں گھی ہے وہ حنفیہ کے لیے پکایا ہے اور جس میں سوئر کی چربی ہے وہ ان غیر مقلدوں اہل حدیث کے لیے پکایا ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ حنفیہ کا کھانا چینی کے برتنوں میں ہے اور غیر مقلدوں کا پیتل کے بٹوے میں۔ اور پھر کرے یہ کہ بہت سالن سوئر کی چربی والا چینی کے برتنوں میں رکھ دے،ہر صاحبِ انصاف یہی کہے گا کہ یہ شخص سخت مفسد ہے اور بڑے فساد کا بیج بوتا ہے۔ اس وقت اس کی دوسری کتاب ہمارے پیش نظر ہے اس سے اسی قسم کے چند اقوال التقاط کیے جاتے ہیں۔
(۱) کچھ سر کا مسح فرض ہے،حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ حنفیہ کرام کے نزدیک ربع سرکا مسح فرض ہے اگر ربع سے کم کا کرے گا ہر گز نہ وضو ہوگا نہ نماز۔
ہدایہ میں ہے :
المفروض فی مسح الراس مقدار الناصیۃ وھوربع الراس ۱؎ ۔
سرکا مسح ناصیہ کی مقدر وض ہے اور وہ سرکا چوتھا حصہ ہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ  کتاب الطہارات    المکتبۃ العربیۃ کراچی  ۱ /۳)
 (۲ و ۳) ص ۳۰ : بول و براز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے  خون نکلنے اور قے کرنے سے وضوبہتر ہے حنفیہ کے نزدیک خون بہہ کر نکلے یا منہ بھر قے ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔وضو کرنا فقط بہتر ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔
ہدایہ میں ہے :
نواقض الوضوء الدم والقی ملئ الفم ۲؎ ۔
 (خون کا بہنا اور منہ بھر کر قے وضو توڑنے والی چیزیں ہیں۔ت)
 (۲؎  الہدایۃ  کتاب الطہارات       فصل فی نواقض الوضو       ا/۸)
(۴) حاشیہ ص۹ :  بعض کے نزدیک عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے گو ٹوٹنے پر کوئی دلیل کافی نہیں تاہم اختلاف سے نکلنا بہتر ہے،نکسیر کا بھی یہی مسئلہ ہے۔یہاں صراحۃً نکسیر کے بارے میں حنفی مذہب کے مسئلہ کو بے دلیل کہا اور اس سے وضو بہتر بتایا حالانکہ حنفیہ کے نزدیک اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،
ہدایہ :
لو نزل من الراس الٰی ما لا ن من الانف نقض الوضوء بالاتفاق ۱ ؎ ۔
اگر خون سر سے نازل ہوا اور ناک کے نرم حصہ تک پہنچ گیا تو بالاتفاق وضو ٹوٹ گیا۔ (ت)
 ( ۱ ؎الہدایۃ   کتاب اطہارات  فصل فی نواقض الوضوء   المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱/ ۱۰)
Flag Counter