الجواب
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الذی انجانا من کیدالکائدین والصلوۃ والسلام علٰی من رد فساد المفسدین وعلٰی الہ وصحبہ والمجتہدین ومقلدیھم الٰی یوم الدین ۔
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جس نے ہمیں مکاروں کے مکر سے نجات عطا فرمائی ،اور درود و سلام ہو اس پر جس نے فسادیوں کے فساد کو رد فرمایا،اور آپ کی آل پر،آپ کے صحابہ پر،آئمہ مجتہدین پر اور ان کے مقلدوں پر قیامت کے روز تک (ت)
شخص مذکور صریح غیر مقلد و ہابی ہے اور حنفیوں کا صریح مخالف و بدخواہ،اور اس کی یہ ناپاک کتاب یقیناً گمراہی و فساد پھیلانے والی اور عظیم دھوکا دے کر حنفی بچوں کے دلوں میں بچپن سے لامذہبی و گمراہی کا بیچ بونے والی ہے،بچے،جوان کسی کو اس کتاب کا پڑھانا ہر گز جائز نہیں۔ جو حنفی بچوں اور عامیوں میں اس ضلالت مآب کتاب کی اشاعت کرتا اور اس کے پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے حنفیہ کا دشمن،حنفیہ کا بدخواہ،خود غیر مقلد،لا مذہب ،گمراہی پسند گمراہ ہے،جو سفیہ اس کے مصنف کو سنی حنفی کہے اور کہے کہ ایسا اختلاف خود حنفیہ میں چلا آتا ہے اور ایسے مسائل خود ہدایہ وغیرہ کتب حنفیہ میں موجود ہیں اور ان کا پڑھانا بلا کراہت جائز ہے وہ خود بھی منہم اور انہیں بدمذہبوں کی دُم ہے۔
اولاً : مصنف عیار کا اتنا لکھنا ہی اس کی بدمذہبی و غیر مقلدی کے اظہار کو بس تھا کہ وہ لا مذہبوں کو جن کا نام اس نے انہیں لا مذہبوں سے سیکھ کر اہل حدیث و محدثین رکھا ہے اور حنفیہ کرام کو ایک پلے میں رکھتا ہے اور ان کا اختلاف مثلا اختلاف صحابہ کرام و آئمہ اعلام رضی اللہ تعالٰی عنہم صرف فروعی بتاتا اور دونوں فریق میں اتحاد مناتا ہے حالانکہ غیر مقلدین کا ہم سے اختلاف صرف فروعی نہیں بلکہ بکثرت اصولِ دین میں ہمارا ان کا اختلاف ہے،ہماری تمام کتب اصول مالا مال ہیں کہ ہمارے اور جملہ آئمہ اہلسنت کے نزدیک اصولِ شرع چار ہیں ،کتاب و سنت اجماع و قیاس لامذہبوں نے اجماع و قیاس کو بالکل اڑا دیا۔ ان کا پیشوا صدیق حسن بھوپالی لکھتا ہے۔
قیاس باطل اور اجماع بے اثرآمد۔ قیاس باطل اور اجماع بے اثر ہے(ت)
ان کی تمام کتابیں اس سے پُر ہیں کہ وہ سوا قرآن و حدیث کے کسی کا اتباع نہیں کرتے اور اجماع و قیاس کے سخت منکر ہیں اور ہمارے آئمہ نے اجماع و قیاس کے ماننے کی ضروریاتِ دین سے گنا ہے اور ان کے منکر کو ضروریاتِ دین کا منکر کہا ہے اور ضروریاتِ دین کا منکر کافر ہے، پھر ہمارا ان کا اختلاف فروعی کیسے ہوسکتا ہے ،
مواقف و شرح و مواقف موقف اول ،مرصد خامس،مقصد سادس میں ہے :
کون الاجماع حجۃ قطعیۃ معلوم بالضرورۃ من الدین ۱ ؎۔
یعنی اجماع کا حجت قطعی ہونا ضروریاتِ دین سے ہے :
( ۱ ؎ شرح الموقف الموقف الاول المرصد الخامس المقصد السادس منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۲۵۵ )
کشف البزدوی شریف میں ہے :
قد ثبت بالتواتران الصحابۃ رضی اللہ تعالٰی عنھم عملوا بالقیاس و شاع وذاع ذلک فیما بینھم من غیررد وانکار ۲۔
یعنی تواتر سے ثابت ہوا کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم قیاس پر عمل فرماتے تھے اور یہ ان میں مشہور و معروف تھا جس پر کسی کو اعتراض و انکار نہ تھا۔
(۲ ؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب القیاس دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۰)
اسی میں امام غزالی سے ہے :
قد ثبت بالقوا طع من جمیع الصحابۃ الاجتہاد و القول بالرائ والسکوت عن القائلین بہ و ثبت ذلک بالتواتر فی وقائع مشہورۃ ولم ینکر ھا احد من الامۃ فاورث ذلک علماء ضروریات فکیف یترک المعلوم ضرورۃ ۳؎۔
یعنی قطعی دلیلوں سے ثابت ہے کہ جمیع صحابہ کرام اجتہاد و قیاس کو مانتے تھے اور اس کے ماننے والوں پر انکار نہ کرتے تھے اور یہ مشہور واقعوں میں تواتر کے ساتھ ثابت ہوا، اور امت میں سے کسی نے اس کا انکار نہ کیا تو اس سے علم ضروری پیدا ہوا تو جو بات ضروریاتِ دین سے ہے کیونکر چھوڑی جائے گی۔
(۳ ؎ کشف الاسرار عن اصول البزدوی باب القیاس دار الکتاب العربی بیروت ۳/ ۲۸۱)
درمختار کتاب السیر باب المرتد میں ہے :
الکفرتکذیبہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی شئی مما جاء بہ من الدین ضرورۃ۱۔
یعنی ضروریاتِ دین نبی کریم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم میں سے کسی شے کا انکار کفر ہے۔
( ۱ ؎ الدارالمختار کتاب السیر باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۵)
بالخصوص امام الائمہ مالک الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قیاس سے ان گمراہوں کو جس قدر مخالفت ہے عالم آشکار ہے ، ان کی کتابیں ظفر المبین وغیرہ امام و قیاساتِ امام پر طعن سے مملوہیں۔
اور فتاوٰی عالمگیری جلد ثانی میں ہے :
رجل قال قیاس ابی حنیفہ حق نیست یکفر کذا فی التاتارخانۃ۲۔
یعنی جو شخص کہے کہ امام ابوحنیفہ کا قیاس حق نہیں وہ کافر ہوجائے گا۔ ایسا ہی تاتارخانیہ میں ہے۔
( ۲ ؎ الفتاوٰی الھندیۃ کتاب السیر الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۷۱)
ثانیاً : یہ چالاک مصنف خود اقرار کرتا ہے کہ اسے کسی فریق سے مخالفت نہیں،یہ بات لامذہب بے دینی ہی کی ہوسکتی ہے جسے دین و مذہب سے کچھ غرض نہیں ورنہ دو متخالف فریقوں میں مخالفت نہ ہوئی کیونکر معقول۔
ثالثاً : لا مذہبوں کا اہلسنت کے ساتھ اختلاف مثلا اختلاف صحابہ کرام بتانا صراحۃً انہیں اہلسنت بنانا ہے حالانکہ ہمارے علماء صاف فرماتے ہیں کہ وہ گمراہ بدعتی جہنمی ہیں۔
طحطاوی علی الدرالمختار جلد ۳ میں ہے :
ھذہ الطائفۃ الناجیۃ قد اجتمعت الیوم فی مذاہب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون والشافعیون والحنبلیون رحمہم اﷲ ومن کان خارجا عن ھذہ الاربعۃ فی ھذا الزمان فہو من اھل البدعۃ والنار۳؎۔
یہ نجات والا اگر وہ یعنی اہلسنت و جماعت آج چار مذہب حنفی،مالکی،شافعی ،حنبلی میں جمع ہوگیا ہے۔ اب جوان چار سے باہر ہے وہ بدمذہب جہنمی ہے۔
( ۳ ؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴ /۱۵۳)