Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
183 - 212
رسالہ

السّھم الشہابی علٰی خداع الوھابی

(شعلے برساتا ہوا تِیر بڑے دھوکا باز وہابی پر)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۳۵: از شہر جیت پور کا ٹھیا وار مرسلہ جماعت میمناں ۸ شوال ۱۳۲۵ھ

حضرات کرام علمائے اہلسنت وارث علوم حضرت رسالت علیہ الصلوۃ والسلام اس باب میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک شخض مولوی رحیم بخش نامی لاہور کے رہنے والے نے مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے اردو کی کتابوں کا ایک سلسلہ بنایا ہے جس کا نام اسلام کی پہلی کتاب ،اسلام کی دوسری کتاب،اسلام کی تیسری کتاب وغیرہ رکھا ہے،ان کتابوں کا مصنف اسلام کی دوسری کتاب کے صفحہ ۳ سطر ۸ میں لکھتا ہے : ان کتابوں میں بعض مقام میں جو لفظ اہل حدیث اور فقہاء کا استعمال کیا گیا ہے اس سے نہ اہل حدیث پر طعن مقصود ہے اور نہ فقہا کو مخالف حدیث کا لقب مدنظر ہے بلکہ اہل حدیث سے وہ لوگ مراد ہیں جو صرف صحیح حدیث پڑھ کر یا سن کر عمل کرتے ہیں کسی خاص مذہب کے پابند نہیں،اور فقہاء سے وہ لوگ مراد ہیں جو خاص کتبِ فقہ اور خاص مذہب امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے پابند ہیں اور اپنے مذہب کی روایت کو زیادہ مانتے ہیں اس اختلاف کو اس سلسلے میں اس لیے بیان کیا ہے کہ اس زمانہ میں اکثر اہل حدیث اور فقہاء کے اختلاف کا زیادہ چرچا ہے۔ اور دونوں فریق کے لوگ بکثرت موجود ہیں ________________________________________________اور اس سلسلے میں عام مسلمانوں کی تعلیم اور اتحاد مقصود ہے،اور یہ اختلاف اسی اختلاف کے مشابہ ہے جو قدیم سے صحابہ اور آئمہ دین میں چلا آیا ہے اور کتبِ فقہ وغیرہ میں اکثر حنفی شافعی وغیرہ کے نام سے مذکور ہے،اصولِ دین میں سب متفق ہیں،صرف بعض فروع میں مختلف ہیں فروعی اختلاف میں بھی سند رکھتے ہیں،غایت یہ ہے کہ کسی کی دلیل قوی ہے اور کسی کی ضعیف اور جو ضعیف پر ہے وہ بھی اپنے نزدیک  اس کو قوی سمجھتا ہے غرض ہمیں اس میں نہ تعصب ہے اور نہ کسی کی مخالفت منظور ہے،محض اشاعتِ دین اور اتباعِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مقصود ہے۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳ سطر ۶ میں لکھتا ہے : "حیض کی مدت میں علماء کا یہ اقوال ہیں ۔ ایک دن رات،دو دن رات،تین دن رات،سات دن رات،دس دن ،پندرہ دن،اصل یہ ہے کہ یہ امر ہر عورت کی عادت اور طبیعت پر منحصر ہے"۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۵ میں مرقوم ہے :  "پانی کی طبیعت پاک ہے تھوڑا ہو یا بہت،بندہو یا جاری،بومزہ بدلنے سے ناپاک ہوجاتا ہے"۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۲۴ سطر ۸ میں کہتا ہے : "ظہر کا وقت آفتاب کے ڈھلنے کے وقت سے اصلی سایہ کے سوا ایک مثل تک ہے،بعض فقہا کے نزدیک دوسرے مثل تک بھی رہتا ہے لیکن مکروہ"۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۷ سطر ۵ میں تحریر ہے : "جن نمازوں میں قصر کا حکم ہے یہ ہیں ،ظہر،عصر ،عشاء ان میں سنتیں بھی معاف ہیں"۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۶۳ سطر ۸ میں لکھا ہے : "جو شخص خطبے میں آکر شریک ہو دو رکعت سنت پڑھ کر بیٹھے،جو شخض دوسری رکعت کے قیام سے پیچھے ملے اس کا جمعہ نہیں ہوتا وہ ظہر پڑھے"۔

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۱ سطر ۱۳ میں کہتا ہے : "اگر ایک دن میں جمعہ اور عید اتفاق سے اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت آئی ہے اگر پڑھے تو بہتر ہے"۔

پھر مولوی رحیم بخش کی بنا ئی ہوئی اسلام کی تیسری کتاب کے صفحہ ۸۶ میں مذکور ہے : "طلاق تین قسم کی ہے،احسن ،جائز ،بدعت"۔

پھر طلاق بدعت کی نسبت اسی صفحے کی سطر ۶ میں کہتا ہے :" طلاقِ بدعت یہ ہے کہ ایک طہر میں تین طاقیں پوری کردے یا ایک ہی دفعہ تین طلاق دے دے"۔

ھر صفحہ ۸۷ میں کہتا ہے : "طلاقِ بدعت بعض کے نزدیک تو واقع ہی نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیک ہوتی ہے لیکن مکروہ ،تین طلاق ایک دفعہ میں یہ اختلاف ہے اگر تین طلاق ایک دفعہ دے دے تو کسی کے نزدیک طلاق ہے اور کسی کے نزدیک نہیں،جیسے طلاقِ بدعت میں بیان ہوا ہے۔"

یہ مُشتے نمونہ ازخروار ہے جو رحیم بخش مذکور کی طرف دو کتابوں میں سے مع نشانِ صفحہ و سطر آپ کے حضور میں پیش کیا گیا ہے،اب ارشاد ہو کہ مولوی رحیم بخش مذکور سنی حنفی پاک دین ہے یا پکا کٹا وہابی غیر مقلد بدمذہب اور اس کی کتابوں میں سے جو مسائل نکال کر لکھے گئے ہیں اور شناخت کے لیے ان پر قومے (" ") لگادئے ہیں ،یہ مسائل حنفیوں کے ہیں یا لامذہب وہابیوں کے، پھر اگر مولوی رحیم بخش وہابی غیر مقلد ہے اور اس کی کتابوں میں مسائل مخالفِ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بصراحت موجود ہیں تو سنی حنفیوں کے نادان بچوں کو ایسی برباد کرنے والی اور مقلدوں کو لامذہب بنانے والی کتابوں کا پڑھانا جائز ہے یا حرام یا ناجائز ؟ پھر جو شخص قصداً سنی بچوں کو ایسی کتابیں پڑھائے اور دوسرے نادانوں میں ان کی اشاعت کرے اور ان کے پڑھنے کی ترغیب دلائے وہ شخص خود بھی پکا وہابی اور لامذہب ہے یا نہیں؟ اور جو شخصاس مصنف کو سنی حنفی بتائے اور مسائل مندرجہ کی نسبت کہے کہ ایسے مسائل تو حنفیوں کی معتبر کتابوں ہدایہ وغیرہا میں لکھے ہیں اور ایسا اختلاف تو حنفیوں میں چلا آتا ہے اور کہے کہ ان کتابوں کا بچوں کو ایسی صورت میں پڑھانا کہ ان کے باپ داد ا اور شہر کے رہنے والے حنفی ہوں کچھ حرج نہیں بلاکراہت جائز ہے وہ خود بھی پکا وہابی ،پکا لامذہب ،دین کا چور،سنیوں کا ٹھگ ہے یا نہیں؟ ان سب باتوں کا مفصل جواب عطا فرما کر ہم مسلمانانِ اہلسنت کو دین کے فتنے سے بچائیے اور خداوند کریم سے اجر عظیم حاصل فرمائیے۔  سائلان ہم سنی حنفی مسلمانان جیت پور ملک کاٹھیا وار
Flag Counter