| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
خامساً : فقیر ایک لطیفہ تازہ عرض کرتا ہے جس سے غیر مقلدین عصر کی تمام جہالت کا دفعۃً تنقیہ ہو، آج کل وہ محدث حادث جو سب غیر مقلدوں کے مقلد و امام معتمد ہیں یعنی میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اپنے فتوٰی مصدقہ مہر دستخطی میں ( کہ ان کے زعم میں رد تقلید تھا اور من حیث لایشعرون اثبات تقلید) مع اخوان و ذریات اہل خواتیم فرما چکے ہیں کہ جسے آئمہ اربعہ کا قول ضلالت نہیں ہوسکتا ایسے ہی کسی مجتہد کا مذہب بدعت نہیں ٹھہرسکتا جو ایسا کہے وہ خبیث خود بدعتی احبارو ر ہبان پر ست ہے۔ بہت اچھا چشم ماروشن دل ماشاد (ہماری آنکھ روشن اور دل خوش ت) اب یہ بھی حضرت سے پوچھ دیکھئے کہ آئمہ اربعہ کے سوا کون کون مجتہد ہیں اسی فتوے میں تصریح کی کہ امام الحرمین و حجۃ الاسلام غزالی و کیاہراسی و ابن سمعانی وغیر ہم آئمہ محض انتساب میں شآفعی تھے اور حقیقۃً مجتہد مطلق۱ ؎۔
اور اسی میں لکھا بے شک جو منصف مزاج ہے وہ ہر گز امام شعرانی کے منصب کا مل اجتہاد میں کلام نہیں کرسکتا ۲؎بہت بہتر ،
کاش اس کے ساتھ یہ بھی لکھ دیتے کہ کلام کرے یا ان اقراروں سے پھرے تو اسے مکہ معظمہ میں ترکی پاشا کا حوالہ د یکھیے خود حضرت کے اقراروں سے ثابت ہولیا کہ ان پانچوں اماموں کا قول بھی ہر گز گمراہی نہیں ہوسکتا اور جوان کے فرمان پر چلے اصلاً موردِ اعتراض نہیں جو اسے بدعتی کہے وہ خبیث خود بدعتی احبار ورہبان پرست ہے اب ان حضرات سے کہتے ذرا آنکھ کھول کر دیکھو غیر مقلد ی بے چاری کا سویرا ہوگیا ملاحظہ تو ہو کہ یہی امام مجتہد شعرانی انہیں چاروں امام مجتہد سے اپنی میزان مبارک میں کس زور و شور سے وجوب تقلید شخصی نقل فرماتے اور اسے مقبول و مسلم رکھتے ہیں۔
قال علیہ رحمۃ ذی الجلال بہ صرح امام الحرمین و ابن السمعانی و الغزالی والکیا الھر اسی وغیرھم وقالوا لتلامذ تہم یجب علیکم التقید بمذہب امامکم ولا عذر لکم عنداﷲ تعالٰی فی العدول عنہ۳ ؎۔
امام شعرانی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ اسی کی تصریح کی امام اےرہمین و ابن السمعانی و غزالی و کیا ہر اسی وغیرہم آئمہ نے، اور اپنے شاگردوں سے فرمایا تم پر واجب ہے خاص اپنے امام کے مذہب کا پابند رہنا اگر ان کے مذہب سے عدول کیا تو خدا کے حضور تمہارے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔
( ۳ ؎میزان الشریعۃ الکبرٰی ، فصل فی بیان استحالہ خروج شئی الخ درالکتب العلمیہ بیروت ا/۵۳، ۵۴)
اب ایمان سے کہنا وجوب تقلید شخصی کی حقانیت کس شدومد سے ثابت ہوئی اور سارے غیر مقلدین کہ اسے بدعت وضلالت کہتے ہیں کیسے علانیہ خبیث بدعتی احبار و رہبان پرست ٹھہرے،
الحمدﷲ رب العلمین
وقیل بُعدًا للقوم الظّٰلمین۴ ؎۔
اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور کہا گیا ظالم لوگ دور ہوں۔(ت)
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۱۱ /۴۴)
واقعی سنتِ الہیہ ہے کہ گمراہوں پر خود انہیں کہ قول سے حجت قائم فرماتا ہے۔
ومنہا علٰی بطلانہا الشواھد
( خود اُسی سے اس کے بطلان پر دلائل موجود ہیں، ت) پھر نہ صرف ترک تقلید بلکہ بعونہ تعالٰی سارے نجدیت پوری وہابیت ان شاء العزیز انہیں آئمہ کرام کے ارشاد سے باطل ہوجائے گی۔ حضرات ذرا ان اقراروں پر جمے رہیں اور اپنے ایک ایک عقیدہ زائغہ کا ردلیتے جائیں وباﷲ التوفیق اصل تحریر ان مجتہد صاحب اور ان کے مقلد وں کی مہری بعض احبابِ فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ کے پاس موجود ۔
والحمد ﷲ العزیز الودود والصلوۃ والسلام علی النبی المحمود وآلہ وصحبہ الٰی یوم الخلود ، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عز شانہ ا حکم
27_54.jpg