Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
181 - 212
امردوم : کہ چاروں آئمہ کے مسائل لینے میں کل دین محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بخوبی عمل ہوسکتا ہے اور ایک کی تقلید میں ناممکن،  یہ وہ پوچ دھوکا ضعیف کید ہے کہ نرے ناخواندہ بیچاروں کو سُنا کر بہکالیں مگر جب کسی ادنی طالب علم یا صحبت یافتہ ذی فہم کے سامنے کہیں تو خود ہی
کان ضعیفا۴؎
 ( شیطان کا داؤ کمزور ہے ت)
(۴ ؎ القرآن الکریم ۴/۷۶)
ماننا پڑے اس مغلظہ فاحشہ کا حاصل جیسا کہ ان کے خواص و عوام کے زبان زد ہے یہ کہ چاروں مذہب حق ہیں اور سب دین متین کی شاخیں تو ایک ہی تقلید سے گویا چہارم دین پر عمل ہوا بخلاف اس کے کہ کبھی کبھی ہر مذہب پر چلے کہ یوں سارے دین پر عمل ہوجائے گا۔
اقول  اوّلاً: یہ اُس مدہوش کا جنونی خیال ہے جسے دربار شاہی تک چار سیدھے راستے معلوم ہوئے رعایا کو دیکھا کہ ان کا ہر گزوہ ایک راہ پر ہولیا اور اسی پر چلا جاتا ہے مگر ان حضرات نے اسے بیجا حرکت سمجھا کہ جب چاروں راستے یکساں ہیں تو وجہ کیا کہ ایک ہی کو اختیار کرلیجئے،  پکارتا رہا کہ صاحبو ہر شخص چاروں راہ پر چلے مگر کسی نے نہ سنی،  ناچار آپ ہی تانا تننا شروع کیا،  کوس بھر شرقی راستہ چلا پھرا سے چھوڑ ا،جنوبی کو دوڑا،  پھر اس سے بھی منہ موڑا،  غربی کو پکڑا پھر اس سے بھاگ کر شمالی پر ہولیا اُدھر سے پلٹ کر پھر شرقی پر آرہا تیلی کے سے بیل کو گھر ہی کوس پچاس عقلاء سے پوچھ دیکھو ایسے کو مجنوں کہیں گے یا صحیح الحواس ،  یہ مثال میری ایجاد نہیں بلکہ علمائے کرام واولیائے عظام کا ارشاد ہے اور ان سے امام علام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے میزان الشریعۃ الکبرٰی ۱؂ میں نقل فرمائی ا ور اس کے مشابہ دوسری مثال انگلیوں کے پوروں کی اپنے شیخ حضرت سیدی علی خواص رحمۃ اللہ تعلاٰی علیہ سے روایت کی،  یہ امام ہمام وہ ہیں جن کی اسی کتاب مستطاب سے اسی مسئلہ تقلید میں غیر مقلدانِ زمانہ کے معلم جدید میاں نذیر حسین دہلوی براہِ اغواء سند لائے اور اسی کتاب میں ان کی ہزار در ہزار قاہر تصریحوں سے کہ جہالاتِ طائفہ کا پور اعلاج تھیں آنکھ بند کرگئے مگر کیا جائے شکایت کہ۔
افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض ۲ ؎۔
تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔ت)
(۲؂ القرآن الکریم     ۲ /۸۵)
اس سے نئے طائفہ کی پرانی خصلت جسے اس کی سیر دیکھنی منظور ہو بعض احباب فقیر کا رسالہ سیف المصطفی علی ادیان الافترا (۱۲۹۹ھ )مطالعہ کرے۔
ثانیاً : کل دین متین پر ایسے عمل کا صحابہ و تابعین و سائر آئمہ مجتہدان دین کو بھی حکم تھا یا خدا و رسول نے خاص آپ ہی کے واسطے رکھا،  برتقدیر اوّل ثبوت دو کہ وہ حضرات ہر گز اپنے مذہب پر قائم نہ رہتے بلکہ نماز و روزہ و تمام اعمال و احکام میں آج اپنے اجتہاد پر چلتے تو کل دوسرے کے پرسوں تیسرے کے برتقدیر ثانی یہ اچھی دولتِ دین ہے جس سے تمام سردارانِ اُمت و پیشوا یانِ ملت باز رہ کر محروم گئے کیا ان کے وقت میں یہ اختلاف مذاہب نہ تھا یا انہیں نہ معلوم تھا کہ ہم ناحق کل دین متین پر عمل چھوڑے بیٹھے ہیں۔
ثالثاً : اُف رے مغالطہ کہ کل دین پر یک لخت عمل چھوڑنے کا نام سارے دین پر عمل کرنا رکھا۔
برعکس نہند نام زنگی کافور
 (الٹا حبشی کا نام کافور رکھتے ہیں۔ت)
بھلا مسائل اختلافیہ میں سب اقوال پر ایک وقت میں عمل تو محال عقلی ہاں یوں ہوں کہ مثلاً آج امام کے پیچھے فاتحہ پڑھی مگر یہ کل دین متین کے خلاف ہوا،  کیا امام ابوحنیفہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کے نزدیک مقتدی کو قراء ت بعض اوقات میں ناجائز تھی حاشا بلکہ ہمیشہ،  کیا امام شافعی کی رائے میں ماموم پر فاتحہ احیاناً واجب تھی حاشا بلکہ دواماً توجو نہ دائماً تارک نہ دائماً عامل وہ دونون قول کا مخالف و نافی پر ظاہر کہ ایجاب و سلب فعلی سلب و ایجاب دوامی دونوں کا دافع و منافی،  اب تو کھلا کہ تم رفض و خروج دونوں کے جامع کہ چاروں میں سے کسی کے معتقد نہ کسی کے تابع۔
رابعاً : جو امر ایک مذہب میں واجب دوسرے میں حرام،  مثلاً قراء ت مقتدی تو عامل بالمذہبین فی وقتین کو کیا حکم دیتے ہو،  آیا اسے ہمیشہ اپنے حق میں حرام سمجھے یا ہمیشہ ۲ واجب یا وقت ۳ عمل واجب وقت ترک حرام یا بالعکس ۴ یا جس ۵ وقت جو چاہے سمجھے یا کبھی ۶ کچھ نہ سمجھے یعنی واجب غیر واجب حرام غیر حرام کچھ تصور نہ کرے یا مذہب ۷ آئمہ یعنی واجب و حرام دونوں کے خلاف محض مباح جانے۔ شقین اوّلین پر یہ ٹھہرتا ہے کہ حرام جان کر ارتکاب کیا یا واجب مان کر اجتناب ،  اور شق رابع پر دونوں یہ صریح اجازت قصد فسق و تعمد معصیت ہے اور شق ثالث مثل رابع کھلم کھلا،
    یُحلونہ عاماً ویحرمرنہ عاماً ۱ ؎۔
 ( ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں۔ت)میں داخل ہونا کہ ایک ہی چیز کو آج واجب جان لیا کل حرام مان لیا پرسوں پھر واجب ٹھہرالیا،  دین نہ ہوا کھیل ہوا،  یا کفار سو فسطائیہ عندیہ کامیل کہ جس چیز کو ہم جو اعتقاد کرلیں وہ نفس الامر میں ویسی ہی ہوجائے۔ شق خامس پر یہ دونوں استحالے قائم کہ جب اجازت مطلقہ ہے تو عاماً شہراً یوماً درکنار یحلونہ اناً و یحرّمونہ اٰناً ( ایک گھڑی اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسری گھڑی اسے حرام مانتے ہیں ت) لازم اور نیز وقت عمل اعتقاد حرمت،  وقت ترک اعتقاد و جوب کی اجازت،  رہی شق سادس وہ خود معقول نہیں بلکہ صریح قول بالمتناقضین کہ آدمی جب عمل بالمذہبین جائز جانے گا قطعاً فعل و ترک روما نے گا اس کا حکم او راس سے منع بے ہودہ ہے ،  معہذا یہ شق بھی استحالہ اولٰی کے حصہ سے سلامت نہیں اچھا حکم دیتے ہو کہ آدمی نماز میں ایک فعل کرے مگر خبردار یہ نہ سمجھے کہ خدا نے میرے لکیے جائز کیا ہے لاجرم شق ہفتم رہے گی اور گل وہی کھلے گا کہ کل دین متین کا خلاف یعنی محصل جواز فعل و ترک نکلا اور وہ وجوب و حرمت دونوں کے منافی۔
(۱؂ القرآن الکریم  ۹ /۳۷)
بالجملہ حضرات براہِ فریب ناحق چاروں مذہب کو حق جاننے کا ادعا کرتے اور اس دھوکے سے عوام بے چاروں کو بے قیدی کی طرف بلاتے ہیں۔ ہاں یوں کہیں کہ آئمہ اہلسنت کے سب مذہبوں میں کچھ کچھ باتیں خلافِ دین محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں لہذا ان میں تنہا ایک پر عمل ناجائز و حرام بلکہ شرک ہے لاجرم ہر ایک کے دینی مسئلے چن لیے جائیں اور بے دینی کے چھوڑ دیئے جائیں۔ 

صاحبو ،  یہ تمہارا خاص دلی عقیدہ ہے جسے تمہارے عمائد طائفہ لکھ بھی چکے پھر ڈر کس کا ہے،  یہ بلاد مدینہ طیبہ و بلد حرام نہیں حجاز و مصرو روم و شام نہیں زیر سلطنت سنت واسلام نہیں کھل کر کہو کہ چاروں اماموں کے مذہب معاذ اللہ بے دینی ہیں کہ آخر دین و خلاف دین کا مجموعہ ہر گز دین نہ ہوگا بلکہ یقیناً بے دینی،  والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
Flag Counter