مسلمان دیکھیں کہ بعینہ یہی عقیدے ان ہندی وہابیوں کے ہیں پھر ان کے ہندی امام نے اسی نجدی امام کی کتاب التوحید صغیر سے سیکھ کر کفر مسلمین پر وہ چمکتی دلیل لکھی کہ صاف صاف خود اپنے اور اپنے ہم مشربوں سب کے کفر پر مہر کردی یعنی حدیث صحیح مسلم،
لایذھب اللیل و النھار حتی تعبدالات والعزّٰی ( الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ) یبعث اﷲ ریحاً طیبۃ فتوفی من کان فی قلبہ مثقال حبۃ من خردل من ایمان فیبقی من لاخیر فیہ فیرجعون الٰی دین اٰبائھم۲ ؎۔
(۲ ؎۔ مشکوۃ المصابیح کتاب الفتن باب لاتقوم الساعۃ الاعلی الشرار الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۸۱)
مشکوۃ کے باب لا تقدم الساعۃ الا علی شرار الناس سے نقل کرکے بے دھڑک زمانہ موجودہ پر جمادی جس میں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ زمانہ فنا نہ ہوگا جب تک لات و عزی کی پھر پرستش نہ ہو، اور وہ یوں ہوگی کہ اللہ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھالے گی۔ جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان ہوگا انتقال کرے گا ، جب زمین میں نرے کافر رہ جائیں گے پھر بتوں کی پرستش جاری ہوجائے گی۔
اس حدیث کو (اسمعیل دہلوی نے) نقل کرکے صاف لکھ دیا سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا ۱۔
انّاﷲ وانّا الیہ راجعون
( بے شک ہم اﷲ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف ہم نے لوٹنا ہے ت)
(۱ ؎ تقویۃ الایمان ، الفصل الرابع ، مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۳۰)
بدحواس کو اتنا نہ سوجھا کہ اگر وہ یہی زمانہ ہے جس کی اس حدیث میں خبر ہے تو واجب کہ روئے زمین پر مسلمان کا نام و نشان نہ رہا، بھلے مانس اب تو اور تیرے ساتھی نجدو ہند کے سارے وہابی گرفتارخرابی کہاں بچ کر جاتے ہیں، کیا تمہارا طائفہ کہیں دنیا کے پردے سے کہیں الگ بستا ہے، تم سب بدتر سے بدتر کافروں میں ہوئے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں اور دین کفار کی طرف پھر کر بتوں کی پوجا میں ڈوبے ہوئے ہیں، سچ آیا حدیث مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ ۔
حبک الشیئ یعمی ویصم۲۔
کسی شَے سے تیری محبت تجھے اندھا اور بہر کردیتی ہے۔ت)
(۲ ؎ سُنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الہوٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۴۳)
(مسند احمد حنبل مرویات ابی الدردا ۵ /۱۹۴ وکنزالعمال حدیث ۴۴۱۰۴ ۱۶ /۱۱۵)
شرک کی محبت نے اس کفر دوست کو ایسا اندھا بہرا کردیا کہ خود اپنے کفر کا اقرار کر بیٹھا مطلب تو یہ ہے کہ کسی طرح تمام مسلمان معاذ اﷲ مشرک ٹھہریں اگرچہ برائے شگون کو اپنا ہی چہرہ ہموار سہی۔
کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبّار ۳ ؎۔
اﷲ تعالٰی یونہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ت)
(۳ ؎القرآن الکریم ۴۰ /۳۵)
وہابی صاحبو ! اپنے پیشواؤں کی تصریحیں دیکھتے جاؤ صدہا سال کے علماء واولیاء و مقبولانِ خدا کو رافضی خارجی کہتے شرماؤ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو کہ تم بزورِ زبان و بہتان دوسروں پر تبرّا بھیجتے ہو مگر ہندو نجد کے سارے وہابی اپنے ہندی و نجدی اماموں کی تصریح اور وہ دونوں امام معنویِ عوام خودا اپنے اقراراتِ صریح سے کافر بے ایمان مشرک بت پرست شراب کفر سے مخمورو بدمست ہیں،
اقرارِ مرد آزادِ مرد چاہ کن راچاہ درپیش
( مرد کا اقرار مرد کا آزار ہے، کنواں کھودنے والا خود کنویں میں گرتاہے۔ت)
آسمان کا تھوکا حلق میں آیا، تف برماہ بر رُوئے خویش
( چاند پر تھوکنے والا اپنے چہرے پر تھوکتا ہے۔ت)
کذلک العذاب ولعذاب الاخرۃ اکبر،لوکانوایعلمون ۱ ؎۔
مار ایسی ہی ہوتی ہے اور بے شک آخرت کی مار سب سے بڑی ہے، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔(ت)
(۱ ؎۔ القران الکریم ۶۸ /۳۳)
اور یہیں سے ظاہر کہ لقب رافضی وخارجی کے مستحق بھی یہی حضرات ہیں کہ چاروں آئمہ کرام اور ان کے سب مقلدین سے تبری کرتے اور تصریحاً و تلویحاً سب پر تبرا بھیجتے ہیں بخلاف اہلسنت کہ سب کو امام اہلسنت جانتے اور سب کی جناب میں عقیدت رکھتے سب کے مقلدوں کو رُشد و ہدایت پر مانتے ہیں۔ طرفہ یہ کہ زید بیچارہ رافضیوں پر تین خلفاء کے نہ ماننے کا الزام رکھتا ہے حالانکہ اس کا امام مذہب خود حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ماننا بھی حرام و شرک بتاتا ہے، اپنی کتاب تقویۃ الایمان جہال خراب میں صاف لکھتا ہے کہ۔"اللہ کے سوا کسی کو نہ مان" ۲ ؎۔