تو جان لے کہ میر باقر نے اس پر یوں استدلال کیا کہ بے شک حیوان مطلق کی طبیعت بالذات کسی مادہ و مدت سے متعلق نہیں ہوتی تو وہ امکانِ استعدادی کے ساتھ وجود کی مرہون نہ ہوگی چنانچہ امکان ذاتی یہاں پر فیضان وجود کی بنیاد ہوگا ، پس جب یہ حیوان جو کہ مادہ سے متعلق ہے وجود کا فیضان کرنے والا ہے تو حیوان مطلق امکان ذاتی کے استحقاق کی وجہ سے فیضان وجود کا زیادہ حقدار ہوگا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حیوان مطلق امکان ذاتی کے سبب سے مستحق وجود ہے جب کہ حیوان خاص جزئی کا توقف اپنے وجود میں استعداد ، مادہ اور اس کے متعلقات پر ہوتا ہے۔ لہذا مطلق کلی فیضان وجود کا اَحَق (زیادہ حق دار ہوگا)۔
فلایردما اور دہ بعض الکُتّاب بانّ الامکان علۃ اقتصار ، لا علۃ الجعل۔ فحقیقۃ الفیض لایستلزم الفعلیۃ لم لایجوز ان الطبیعۃ لقصور ھاوعدمِ قابلیتھا للوجود الخارجی ، ما استفاض الوجود ۔ انتہی۔
چنانچہ اس پر بعض مصنفوں کا یہ اعتراض و اراد نہ ہوگا کہ امکان تو علّتِ اقتصار ہے نہ کہ علتِ جعل۔ لہذا فیضان وجود کا احق ہونا اس کی فعلیت کو مستلزم نہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ طبیعت اپنے قصور اور وجود خارجی کی عدم قابلیت کی وجہ سے مستفیض وجود نہ ہوئی ہو۔ انتہی ۔
ثم ھذا القول مردود بوجوہ :
پھر یہ قول کئی وجوہ سے مردود ہے۔
الاول : اَنّ احقیۃ الفیض مستلزمۃ للفعلیۃ لا نہ لابخل من جانب المبدء (عہ ) الفیاض ، فلولم یوجود الاحق واستفاض منہ غیر الاحق لزم ترجیح المرجوح ۔ اھ (باختصار ص ۳۴۹)۔
پہلی وجہ : یہ ہے کہ فیضانِ وجود کا احق ہونا اس کی فعلیت کو مسلتزم ہے کیونکہ مبدا فیاض کی جانب سےکوئی بخل نہیں ، لہذا اگر وہ احق کو وجود نہ بخسے اور غیر احق اس سے مستفیض ہوجائے تو مرجوح کو ترجیح دینا لازم آئے گا۔(اختصار ص ۳۴۹)۔
عہ : اقول : اﷲ جل جلالہ کو مبدءِ فیاض کہنے میں نظر ہے۔
اولاً : لفظ مبدء شرع سے ثابت نہیں ، بلکہ مُبدِئُ جوباب اکرام سے ہے۔
ثانیاً : مبدء ایک جانب کم متصل یا منفصل کو کہتے ہیں جہاں سے مثلاً حرکت یا شمار آگے چلے تو لفظ موہم ہے۔
ثالثاً : یوں ہی فیاض غیر ثابت
رابعاً : حق تعالٰی پر اطلاق صیغہ مبالغہ سماع پر موقوف۔
خامساً : اس لفظ کے دوسرے معنی بھی ہیں کہ جناب باری پر محال۔ فیض ہلاک شدن ۔ فیاض بسیار ہالک ۱۳
قول ششم : فلاسفہ نے مفہوم کی تقسیم جزئی و کلی کی طرف کی۔ اس پر اعتراض ہوا کہ :
جزئی مجرد کا ادراک عنوان کلی کے بغیر نہیں کہا جاسکتا اور جزئی مادی کا عقل مجرد میں مرتسم ہونا ممکن نہیں اور مفہوم وہ ہے جو عقل میں حاصل ہو۔(ت)
زید نے اسے طویلہ عبارت طویلہ میں بیان کرکے لکھا۔
الجواب : انا لا نسلم ان الجزئی المادیَّ یدرک بعنوان کلی ، بل ذلک (عہ۱) ھو التحقیق عندنا لا ن العقول العشرۃ عندھم مبرّأۃ عن جمیع شوائب النقص والقبح ، ومقدسۃ منزّھۃ عن سائر القبائح والنقائص ، والجھل اشدّ القبائح ، فلا یَعْزُب عن علمِھا ذرّۃ من ذرّات الموجود فی العالم کلیاتہ وجزئیاتہ ومادیاتہ ومجرداتہ ، فلایمکن ان لایعلم العقل الاول مثلاً تشخصات الموجودات والالزم الجھل فیہ اھ بقدر المقصود ص ۲۰۶۔
جواب : بے شک ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جزئی مادی کا ادراک عنوان کلی سے ہوتا ہے بلکہ ہمارے نزدیک یہی تحقیق ہے۔ کیونکہ فلاسفر کے نزدیک عقول عشرہ نقصان اور برائی کے تمام شائبوں سے بری اور تمام نقائص و قبائح سے پاک و صاف ہیں جب کہ جہالت تمام قباحتوں سے بڑی قباحت ہے چنانچہ موجوداتِ عالم کے ذرات میں سے کوئی ذرہ عقول عشرہ کے علم سے پوشیدہ نہیں ہوسکتا چاہے کلیات ہوں یا جزئیات ، چاہے مجردات ہوں یا مادیات ۔ لہذا یہ ممکن نہیں کہ عقل اول مثلاً موجودات کے تشخص کو نہ جانے ورنہ اس میں جہل لازم آئے گا۔ اھ ، بقدر مقصود ص ۲۰۶۔
عہ ۱ : اقول لایخفٰی قلق العبارۃ ھٰھنا ، ومقصودہ ۔۔(عہ)۔۔۔۔ ان الجزئی المادی لاتدرکہ العقول بوجہ جزئی ، بل ذلک ، الخ ۱۲ سلطان احمد ۔
عہ : لایبدؤ وماھٰھنا فی الاصل ۔ لعلہ ( ان یقول ۔ ونحوہ) والمعنی تام بدون ذٰلک ایضاً ۱۲ محمد احمد غفرلہ۔