Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
179 - 212
خاتمۃ المحققین مولیٰنا امین الملۃ والدین سیدی محمد بن عابدین شامی قدس سرہ السامی ردالمختار علی الدرالمختار کی جلد ثالث کتاب الجہاد باب البغاۃ میں زیر بیان خوارج فرماتے ہیں :
کما وقع فی زماننا فی اتباع عبدالوھاب الذین خرجوا من نجدو تغلبوا علی الحرمین وکانو ینتحلون مذھب الحنابلۃ لکنھم اعتقد وا انھم ھم المسلمون وان من خالف اعتقاد ھم مشرکون واستباحوابذلک قتل اھل السنۃ وقتل علمائھم حتی کسر اﷲ تعالٰی شوکتھم وخرب بلادھم وظفر بھم عساکر المسلمین عام ثالث وثلثین و مائتین والف ۱ ؎۔
یعنی خارجی ایسے ہوتے ہیں جیسا ہمارے زمانے میں پیروانِ عبدالوہاب سے واقع ہوا جنہوں نے نجد سے خروج کرکے حرمین محترمین پر تغلب کیا اور وہ اپنے آپ کو کہتے تو حنبلی تھے مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مسلمان بس وہی ہیں اور جو ان کے مذہب پر نہیں وہ سب مشرک ہیں اس وجہ سے انہوں نے اہلسنت کا قتل اور ان کے علماء کاشہید کرنا مباح ٹھہرالیا، یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی نے ان کی شوکت توڑ دی اور ان کے شہر ویران کیے اور لشکرِ مسلمین کو ان پر فتح بخشی ۱۲۳۳ھ میں (ت)
(۱ ؎ ردالمحتار کتاب الجہاد ،  باب البغاۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۰۹)
والحمد ﷲ ربّ العلمین ،
 وقیل بُعداً للقوم الظلمین   ۲ ؎
۔اور تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے،  اور کہا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ۔(ت)
 (۲ ؎ القرآن الکریم ۱۱ /۴۴)
امام العلماء سید سند شیخ الاسلام بالبلدالحرام سیدّی احمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی نے اپنی کتاب مستطاب درر سنیہ میں اس طائفہ بے باک اور اس کے امام سفاک کے اعمال کا حال عقائد کا ضلال خاتمہ کا وبال قدرے مفصل تحریر فرمایا،  اور بیس حدیثوں میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور حضرت امیر المومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ حضرت امیر المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کا اس طائفہ تالفہ کے ظہور پر شرور کی طرف ایماو اشعار فرمانا بتایا ان بعض حدیثوں اور ان سے زائد کی تفصیل فقیر کے رسالہ النہی الاکید میں مذکور،  یہاں اس کتاب مستطاب ہادی صواب سے چند حرف اس مقام کے متعلق نقل کرنا منظور۔
  قال رضی اللہ تعالٰی عنہ ھٰؤلاء القوم لایعتقدون موحدا الامن تبعھم کان محمد بن عبدالوہاب ابتدع ھذہ البدعۃ،  وکان اخوہ الشیخ سلیمٰن من اھل العلم فکان ینکرعلیہ انکارا شدید افی کل یفعلہ اویامربہ فقال لہ یوما کم ارکان الاسلام؟ قال خمسۃ،  قال انت جعلتہا ستۃ،  السادس من لم یتبعک فلیس بمسلم،  ھذا عندک رکن سادس للاسلام ،  وقال رجل اٰخریوما کم یعتق اﷲ کل لیلۃ فی رمضان ؟ قال مائۃ الف،  وفی اٰخرلیلۃ یعتق مثل ما اعتق فی الشھرکلہ؟ فقال لہ لم یبلغ من اتبعک عشر عشر ماذکر ت فمن ھٰؤلاء المسلمون الذین یعتقھم اﷲ وقد حصرت المسلمین فیک وفیمن اتبعک فبھت الذی کفر، فقال لہ رجل اٰخر ھٰذا الدین الذی جئت بہ متصل ام منفصل فقال حتی مشایخی و مشایخھم الٰی ستمائۃ سنۃ کلھم مشرکون فقال الرجل اذن دینک منفصل لا متصل فعمن اخذتہ قال وحی الھام کالخضر ومن مقابحہ انہ قتل رجلا اعمٰی کان مؤذنا صالحاذا صوت حسن نہاہ عن الصلوۃ علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فامربقتلہ فقتل ثم قال ان الریابۃ فی بیت الخاطئۃ یعنی الزانیۃ اقل اثما ممن ینادی بالصلوٰۃ علی النبی ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) فی المنائر ،  وکان یمنع اتباعہ من مطالعۃ کتب الفقہ واحرق کثیرا منھا واذن لکل من اتبعہ ان یفسرالقرآن بحسب فھمہ حتی ھمج الھمج من اتباعہ فکان کل واحد منھم یفعل ذلک ولوکان لایحفظ القرآن ولا شیئاً منہ فیقول الذی لایقرؤ منھم لا خریقرؤاقرأ علی حتی افسرلک فاذا قرأ علیہ یفسرہ لہ برایہ وامرھم ان یعملوا ویحکموا  بما یفھمونہ فجعل ذلک مقدما علٰی کتب العلم ونصوص العلماء وکان یقول فی کثیر من اقوال الائمۃ الاربعۃ لیست بشئی وتارۃ یتستر ویقول ان الائمۃ علٰی حق ویقدح فی اتباعھم من العلماء الذین القوا فی مذھب الاربعۃ وحرروھا ویقول انھم ضلوا واضلوا، م وتارۃ یقول ان الشریعۃ واحدۃ فما لھٰؤلاء جعلوھا مذاھب اربعۃ ھذا کتاب اﷲ وسنۃ رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لاتعمل الا بھما کان ابتداء ظھور ا مرہ فی الشرق ۱۱۴۳ھ،  وھی فتنۃ من اعظم الفتن کانوا اذا اراد احد ان یتبعھم علٰی دینھم طوعاً اوکرھاً یا مرونہ بالاتیان بالشھادتین اولا ثم یقولون لہ اشھد علٰی نفسک ان کنت کافر اواشھد علٰی والدیک انھما ماتا کافرین واشھد علٰی فلان وفلان ویسمون لہ جماعۃ من اکابر العلماء الماضین فان شھدوا بذلک قبلوھم والا امرو ابقتلہم وکانوا یصرحون بتکفیر الا مۃ من منذست مائۃ سنۃ،  و اول من صرح بذلک محمد بن عبدالوھاب فتبعوہ فی ذلک ،  وکان یطعن فی مذاہب الائمۃ واقوال العلماء ویدعی الانتساب الٰی مذھب الامام احمد رضی اللہ تعالٰی عند کذبا وتسترا وزورا  والا مام احمد برئ منہ واعجب من ذلک انہ کان یکتب الٰی عمالہ الذین ھم من اجھل الجاھلین اجتہدوا بحسب فھمکم ولا تلتفتوا الھذہ الکتب فان فیھا الحق والباطل وکان اصحابہ لایتخذون مذھباً من المذاھب بل یجتہدون کما امرھم ویتسترون ظاھرا بمذھب الامام احمد ویلبسون بذلک علی العامۃ،  فانتدب للرد علیہ علماء المشرق والمغرب من جمیع المذاھب ،  ومن منکراتہ منع الناس من قراء ۃ مولدالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ومن الصلوۃ علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی المنائر بعد الاذان،  ومنع الدعاء بعد الصلوۃ وکان یصرح بتکفیر المتوسل بالانبیاء والاولیاء وینکرعلم الفقہ ویقول ان ذلک بدعۃ ملتقطاً ۱ ؎۔
شیخ سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ گروہِ وہابیہ اپنے پرووں کے سوا کسی کو موحد نہیں جانتے،  محمد بن عبدالوہاب ،  نے یہ نیا مذہب نکالا،  اس کے بھائی شیخ سلیمٰن رحمۃ اللہ علیہ کہ اہل علم سے تھے اس پر ہر فعل و قول میں سخت انکار فرماتے ایک دن اس سے کہا اسلام کے رکن کَے ہیں؟ بولا : پانچ فرمایا ،  تو نے چھ کردیئے ،  چھٹا یہ کہ جو تیری پیروی نہ کرے وہ مسلمان نہیں،  یہ تیرے نزدیک اسلام کا رُکن ششم ہے،  اور ایک صاحب نے اس سے پوچھا : اللہ تعالٰی رمضان شریف میں کتنے بندے ہر رات آزاد فرماتا ہے ہے۔؟ بولا : ایک لاکھ اور پچھلی شب اتنے کہ سارے مہینے میں آزاد فرمائے تھے۔ ان صاحب نے کہا: تیرے پیرو تو اس کے سوویں حصہ کو بھی نہ پہنچے وہ کون مسلمان ہیں جنہیں اللہ تعالٰی رمضان میں آزاد فرماتا ہے ،  تیرے نزدیک تو بس تو اور تیرے پیرو ہی مسلمان ہیں،  اس کے جواب میں حیران ہو کر رہ گیا کافر،  اور ایک شخص نے اس سے کہا یہ دین کہ تو لایا نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے متصل ہے یا منفصل ؟ بولا خود میرے اساتذہ اور ان کے اساتذہ چھ سو برس تک سب مشرک تھے کہا: تو تیرا دین منفصل ہوا متصل تو نہ ہوا،  پھر تو نے کس سے سیکھا ؟ بولا : مجھے خضر کی طرح الہامی وحی ہوئی،  اور اس کی خباثتوں سے ایک یہ ہے کہ ایک نابینا متقی خوش آواز موذن کو منع کیا کہ منارہ پر اذان کے بعد صلوۃ نہ پڑھا کر،  انہوں نے نہ مانا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر صلوۃ پڑھی اس نے ان کے قتل کا حکم دے کر شہید کرادیا کہ رنڈی کی چھوکری اس کے گھر ستار بجانے والی اتنی گنہگار نہیں جتنا منارہ پر باآواز بلند نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) پر درود بھیجنے والا،  اور اپنے پیروؤں کو کتبِ  فقہ دیکھنے سے منع کرتا،  فقہ کی بہت سی کتابیں جلادیں اور انہیں اجازت دی کہ ہر شخص اپنی سمجھ کے موافق قرآن کے معنی گھڑ لیا کرے یہاں تک کہ کمینہ سا کمینہ کو دن ساکو دن اس کے پیروؤں کا تو ان میں ہر شخص ایسا ہی کرتا اگرچہ قرآن عظیم کی ایک آیت بھی نہ یاد ہوتی،  جو محض ناخواندہ تھا وہ پڑھے ہوئے سے کہتا کہ تو مجھے پڑھ کر سنا میں اس کی تفسیر بیان کروں،  وہ پڑھتا اور یہ معنی گھڑتا۔ پھر انہیں تفسیر ہی کرنے کی اجازت نہ دی بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی حکم کیا کہ قرآن کے جو معنی تمہاری اپنی اٹکل میں آئیں انہیں پر عمل کرو اور انہیں پر مقدمات میں حکم دو  اور انہیں کتابوں کے حکم اور اماموں کے ارشاد سے مقدم سمجھو،  آئمہ اربعہ کے بہت سے اقوال کو محض ہیچ وپوچ بتاتا اور کبھی تقیہ کرجاتا اور کہتا کہ امام تو حق پر تھے مگر یہ علماء جو ان کے مقلد تھے اور چاروں مذہب میں کتابیں تصنیف کر گئے اور ان مذاہب کی تحقیق و تلخیص کو گزرے یہ سب گمراہ تھے اور اوروں کو گمراہ کر گئے۔ اور کبھی کہتا شریعت تو ایک ہے ان فقہاء کو کیا ہوا کہ اس کے چار مذہب کردیئے یہ قرآن و حدیث موجود ہیں ہم تو انہیں پر عمل کریں گے ، مشرق میں اس کے مذہب جدید ۱۱۴۳ھ سے ظہور کیا اور یہ فتنہ عظیم فتنوں سے ہوا،  جب کوئی شخص خوشی سے خواہ جبراً وہابیوں کے مذہب میں آنا چاہتا اس سے پہلے کلمہ پڑھواتے پھر کہتے خود اپنے اوپر گواہی دے کہ اب تک تو کافر تھا اور اپنے ماں باپ پر گواہی دے کہ وہ کافر مرے اور اکابر آئمہ سلف سے ایک جماعت کے نام لے کر کہتے ان پر گواہی دے کہ یہ سب کافر تھے پھر اگر اس نے گواہیاں دے لیں جب تو مقبول ورنہ مقتول۔ اگر ذرا انکا ر کیا مروا ڈالتے اور صاف کہتے کہ چھ ۶۰۰ سو برس سے ساری امت کافر ہے،  اول اس کی تصریح اسی عبدالوہاب نے کی پھر سارے وہابی یہی کہنے لگے،  وہ آئمہ کے مذہب اور علماء کے اقوال پر طعن کرتا اور براہ تقیہ جھوٹ فریب سے حنبلی ہونے کا ادعا رکھتا حالانکہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بری و بیزار ہیں اور اس سے عجیب تر یہ کہ اس کے نائب جوہر جاہل سے بدتر جاہل ہوتے انہیں لکھ بھیجتا کہ اپنی سمجھ کے موافق اجتہاد کرو اور ان کتابوں کی طرف منہ پھیر کر نہ دیکھو کہ ان میں حق و باطل سب کچھ ہے ،  اس کے ساتھ لا مذہب تھے اس کے کہنے کے مطابق آپ مجتہد بنتے اور بظاہر جاہلوں کے دھوکا دینے کو مذہب امام احمد کی ڈھال رکھتے یہ چال ڈھال دیکھ کر مشرق و مغرب کے علمائے جمیع مذاہب اس کے رد پر کمر بستہ ہوئے ۔ اس کی بری باتوں سے یہ بھی ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے میلاد شریف پڑھنے اور اذان کے بعد مناروں پر حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر صلوۃ بھیجنے اور نماز کے بعد دعا مانگنے کو ناجائز بتایا اور انبیاء و اولیاء سے توسل کرنے والون کو صراحتہ کافر کہتا اور علم فقہ سے انکار رکھتا اور اسے بدعت کہا کرتا انتہی ملتقطا۔
 (۱ ؎۔ الدررالسنیہ ،  المکتبۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۳۹ تا ۵۳)
Flag Counter