| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
یہاں بقدرِ ضرورت صرف اس مقدار پر کہ بطلان کید زید ظاہر کرے اکتفاء ہوتا ہے۔ اس کا قول دو امر پر مشتمل ہے۔ اوّل : بکمال زبان درازی مقلدان حضرات آئمہ کرام علیہم الرضوان من الملک العلام کو معاذ اﷲ رافضی خارجی بنانا۔ دوم : وہ تلبیس عجیب و تدلیس غریب کہ ترکِ تقلید میں تمام دین محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنا ہے۔ امر اوّل : کی نسبت ان کے امام الطائفہ کے علماً و نسباً دادا اور بیعۃً پر دادا یعنی شاہ ولی اﷲ صاحب دہلوی کی گواہی کافی وہ رسالہ انصاف میں انصاف کرتے ہیں :
بعدالمائتین ظہر فیہم التمذھب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علٰی مذھب مجتہد لعینہ وکان ھذا ھوالواجب فی ذلک زمان۱ ؎۔
یعنی دو صدی کے بعد خاص ایک مجتہد کا مذہب اختیار کرنا اہل اسلام میں شائع ہوا۔ کم کوئی شخص تھا جو ایک امام معین کے مذہب پر اعتماد نہ کرتا ہو، اور اس وقت یہی واجب ہوا۔
(۱ ؎۔ الانصاف باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۱۹)
اسی میں لکھتے ہیں :
وبالجملۃ فالتمذھب للمجتہدین سر اللھمہ اﷲ تعالٰی العلماء وجمعھم علیہ من حیث یشعرون او لایشعرون ۲ ؎۔
یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک مذہب کا اختیار کرلینا ایک راز ہےکہ حق سبحانہ ، و تعالٰی نے علماء کے قلوب میں القاء فرمایا اور انہیں اس پر جمع کردیا چاہے اس راز کو سمجھ کر اس پر متفق ہوئے ہوں یا بے جانے۔
(۲ ؎۔ الانصاف باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الحقیقیۃ استنبول ترکی ص ۲۰)
زید بے قید دیکھے کہ اس نے بشہادت شاہ ولی اللہ صاحب گیارہ ۱۱۰۰ سو برس سے زائد کے آئمہ و علماء و مشائخ و اولیاء عامہ اہلسنت و جماعت کو معاذ اﷲ رافضی و خارجی بنایا اور اﷲ عزوجل کے سِرّ جلیل و الہام جمیل کو جس پر اس نے اپنی حکمتِ بالغہ کے مطابق علمائے امت کو مجتمع و متفق فرمایا۔ ضلالت و گمراہی ٹھہرایا۔ علامہ سید احمد مصری طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ حاشیہ در مختار میں ناقل:
ھٰذا الطائفۃ الناجیۃ، قداجتمعت الیوم فی مذاھب اربعۃ وھم الحنفیون والمالکیون و الشافعیون والحنبلیون رحمھم اﷲ تعالٰی ومن کان خارجاً عن ھذہ الاربعۃ فی ھذاالزمان فھو من اھل البدعۃ والنار ۱ ؎۔
یعنی اہل سنت کا گروہ ناجی اب چار مذہب میں مجتمع ہے حنفی، مالکی ، شافعی حنبلی، ا ﷲتعالٰی ان سب پر رحمت فرمائے ، اب جو ان چار سے باہر ہے بدعتی جہنمی ہے۔
(۱ ؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الذبائح المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴ /۱۵۳)
واقعی ان حضرات نے اس ارشاد علماء کا خوب ہی جواب ترکی بترکی دیا یعنی علمائے اہلسنت ہمیں بدعتی ناری بتاتے ہیں ہم گیارہ سو برس تک کے ان کے اکابر و ائمہ کو رافضی و خارجی بنائیں گے ۔ع
کہ تو ہم درمیان ماتلخی
( کہ تو بھی ہمارے درمیان تلخ ہے۔ت) مولٰی تعالٰی ہدایت بخشے آمین۔ مگر پھر بھی زید بے چارے نے بہت تنزل کیا کہ صرف رفض و خروج پر قانع رہا اس کے پیشوا تو کافر و مشرک تک کہتے ہیں۔
وسیعلم الذین ظلمو اای منقلب ینقلبون ۲ ؎۔
اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں کے۔(ت)
(۲ ؎۔ القرآن الکریم ۲۶ / ۲۲۷)
یہ ناپاک ترکہ اسی بے باک اخبث امام اول دین مستحدث یعنی ابن عبدالوہاب نجدی علیہ ما علیہ کا ہے کہ اپنے موافقان ناخرد مندنفر ے چند بے قید و بند آزادی پسند کے سوا تمام عالم کے مسلمانوں کو کافر و مشرک کہتا، اور خود اپنے باپ، دادا، اساتذہ مشائخ کو بھی صراحۃً کافر کہہ کر پوری سعادت مندی ظاہر کرتا، اور نہ صرف انہیں پر قانع ہوتا بلکہ آج سے آٹھ سو برس تک کے تمام علماء و اولیاء سائر امت مرحومہ کو ( خاک بدہانِ ناپاک) صاف صاف کافر بتاتا اور جو شخض اس کے جال میں پھنس کر اس کے دست شیطان پرست پر بعیت کرتا اس سے آج تک اس کے اور اس کے ماں باپ اور اکابر علمائے سلف نام بنام سب کے کفر پر اقرار لیتا، اور اگرچہ بظاہر ادعائے حنبلیت رکھتا مگر مذاہب آئمہ کو مطلقاً باطل جانتا اور سب پر طعن کرتا اور اپنے اتباع ہر کندہ ناتراشیدہ کو مجتہد بننے کا حکم دیتا۔ یہ دو چار حرف اردو کے پڑھ کر استر بے لگام و اشتربے مہار ہوجانا بھی اسی خرنا مشخص کی تعلیم ہے،