Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
177 - 212
رسالہ

النیرالشھابی علٰی تدلیس الوھابی(۱۳۰۹ھ)

(روشن آگ کا شعلہ وہابی کی تدلیس پر)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۳۴: از غازی پور،  مرسلہ جہانگیر خان ۱۵ صفر ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دو چار کتابیں اردو کی دیکھ کر چاروں اماموں کے مسئلے اخذ کرتا ہے اور اپنے اوپر آئمہ اربعہ سے ایک کی تقلید واجب نہیں جانتا،  اس کو عمرو نے کہا کہ تو لامذہب ہے جو ایسا کرتا ہے کیونکہ تجھ کو بالکل احادیث متواتر و مشہور واحاد وعزیز و غریب و صحیح و حسن و ضعیف و مرسل و متروک و منقطع و موضوع وغیرہ کی شناخت نہیں ہے کہ کس کو کہتے ہیں حالانکہ بڑے بڑے علماء اس وقت اپنے اوپر تقلید واحد کی واجب سمجھتے ہیں اور ان کو بغیر تقلید کے چارہ نہیں تو تو ایک بے علم آدمی ہے جو عالموں کی خاک پا کے برابر نہیں ہے،  نہ معلوم اپنے تئین تو کیا سمجھتا ہے جو ایسا کر تا ہے اس کے جواب میں اس نے اس کو رافضی و خارجی و شیعہ وغیرہ بنایا بلکہ بہت سے کلمات سخت سست بھی کہے حالانکہ لامذہب کہنے سے اس کی یہ غرض نہ تھی کہ تو خارج از اسلام ہے بلکہ یہ غرض تھی کہ ان چاروں مذہبوں میں سے تمہارا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اور اُس کی غرض شیعہ ورافضی بنانے سے یہ تھی کہ تو ایک امام کی تقلید کرتا ہے جیسے رافضی تین خلیفوں کو نہیں مانتے اور دوسرے یہ کہ ایک امام کی تقلید کرنے سے بخوبی عمل کل دین محمدی پر نہیں ہوسکتا اور چاروں اماموں کے مسئلے اخذ کرنے میں کل دین محمد ی پر بخوبی عمل ہوسکتا ہے،  آیا ان دونوں سے کس نے حق کہا اور کس نے غیر حق؟ اور حکم شرع کا ان دونوں کے واسطے کیا ہے جو ایک دوسرے کو سخت کلامی سے پیش آئے؟ امید کہ ساتھ مہر،  عالی کے مزین فرما کر ارشاد فرمائیں۔ بیّنوا توجروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے،  ت) فقط۔
الجواب

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ ذی الجلالۃ والصلوۃ والسلام علٰی صاحب الرسالۃ الذی لا تجتمع امتہ علی الضلالۃ وعلٰی اٰلہ وصحبہ و مجتہدی ملتہ اولی الایدی والابصار والنبالۃ۔
تمام تعریفیں جلالت والے اللہ تعالٰی کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو صاحب رسالت پر جس کی امت گمراہی پر مجتمع نہ ہوگی اور آپ کی آل ،  آپ کے صحابہ اور آپ کی امت کے مجتہدین کرام پر جو قوت و بصیرت اور شرافت والے ہیں۔ت)
اللّھم ھدایۃ الحق والصواب
( اے اللہ حق و درستگی کی ہدایت عطا فرما۔ت)
مسئلہ تقلید کی تحقیق و تفصیل دفتر طویل درکار،  فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ،  نے اپنے رسالہ ۱؂ النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید(۱۳۰۵ھ)  اور فتاوائے مندرجہ البارقۃ الشارقۃ علٰی مارقۃ المشارقۃ جلد یاز دہم فتاوائے فقیر مسمّٰی بہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں قدرے کلمات وافیہ ذکر کیے ۔
 (۱ ؎۔ رسالہ  النھی الاکید عن الصلاۃ وراء عدی التقلید فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن   جامع نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور کی جلد ششم کے صفحہ ۶۴۷ پر مرقوم ہے۔)
Flag Counter