| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دربارہ جسم ہماری رائے ، اقول : وباﷲ التوفیق ( ہم اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ کہتے ہیں ت) ہم نے روشن کردیا کہ جز لایتجزٰی ممکن بلکہ واقع اور ا سسے جسم کی ترکیب بھی ممکن، اگر بعض اجسام اس طرح مرکب ہوئے ہیں کچھ محذور نہیں مگر یہ کلیہ نہیں کہ اس طرح کے اجسام میں تماس ناممکن کہ موجب اتصال دو جز ہے اور جسم حسی جس طرح ہم نے ثابت کیا یونہی تماس حسی ماننا مشکل ہے۔ اولاً:حسِ بصر میں متقارب فصلوں کو اتصال سمجھنا معہود ہے۔ یونہی اگرچہ بصر متقارب جسموں کو متماس گمان کرے مگر تماس میں قوتِ لامسہ کا ادراک اس غلطی پر کیونکر محمول ہو۔ ثانیاً : : انگشتری ایک انگلی میں ٹھیک، دوسری میں تنگ، تیسری میں ڈھیلی ہوتی ہے، یہ فرق تماس حقیقی ہی بتاتا ہے کہ اگر انگشتری کے اجزاء کا انگلی کے اجزاء سے جدا رہنا واجب نہ ہو تو جدائی کی کمی بیشی یہ فرق نہیں لاسکتی ہے۔ ثالثاً : ہم نے اجزائے تتجزی کی طرف بعض اجسام کی تحلیل قرآن کریم سے استفادہ کی تھی بعض اجسام کا متصل بلا انفصال ہونا بھی کتاب عزیز سے استفادہ کریں۔
قال عزوجل :
افلم ینظر واالی السماء فوقھم کیف بنینٰہا و زیَّنّٰھا وما لہا من فروج۱ ؎ ۔
عزت و جلال والے اﷲ نے فرمایا کیا اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھتے ہم نے اسے کیسے بنایا اور آراستہ فرمایا اور اس میں اصلاً رخنے نہیں۔
(۱القرآن الکریم ۵۰/ ۶)
آسمان اگر جزائے لاتتجزٰی سے مرکب ہوتا بلاشبہ اس میں بے شمار رخنے ہوتے کہ کوئی جز دوسرے سے نہ مل سکتا تو ثابت ہوا کہ آسمان جسم متصل ہے اور عنقریب بعونہ تعالٰی مقام آئندہ میں آتا ہے کہ ہیولٰی و صورت سے جسم کا ترکب باطل بلکہ جسم بسیط خود ہی متصل اور خود ہی قابل انفصال ہے یہاں تک کہ اشراقیین ہمارے ساتھ ہیں جن کا مسلک طوسی نے تجرید میں اختیا ر کیا، مگر ہم ثابت کرچکے کہ تقسیم غیر متناہی اگرچہ بالقوہ ہو باطل و محال ہے تو اجسام کی تحلیل اگر تاحدِّ امکان کی جائے گی ضرور اجزائے لاتتجزی پر منتہی ہوگی ، جس طرح ہم نے موقف دوم میں آیۃ کریمہ سے استنباط کیا، اور اب معنی آیت یہ ہوں گے کہ ہم نے ان کے جسم کے اجزائے متصلہ کو اتنا ریزہ ریزہ کردیا کہ آگے تجزیہ ممکن نہیں تو صحیح بعض اجسام میں امکاناً مذہب جمہور متکلمین ہے اور بعض میں وقوعاً مذہب محمد بن عبدالکریم شہر ستانی یہ اس مسئلے میں ہماری رائے ہے اور علم حق عزجلالہ، کو یہاں سے ظاہر ہوا کہ مذہب خمسہ مشہورہ میں سب سے باطل مذہب نظام ہے۔
پھر (عہ۱) نہایت پوچ و باطل مسلک مشائین ، پھر (عہ۲) مشرب اشراقین ، پھر مذہب(عہ۱) جمہور متکلمین کی کلیت ، پھر مذہب (عہ۲) شہر ستانی میں کلیت پر جزم، اور صحیح یہ ہے جو بتوفیقہ تعالٰی ہم نے اختیار کیا۔ ہم اگرچہ اس رائے میں متفرد ہیں مگر الحمدﷲ آیاتِ کریمہ و دلائل قویمہ ہمارے ساتھ ہیں اس مسلک پر کہ جسم متصل ہواور تقسیم متناہی متشدق جونپوری کا اعتراض کہ اجزائے تحیلیہ بداہۃً ایسے ہونا لازم کہ اگر موجود بالفعل مانے جائیں تو ان سے حجم حاصل ہو تو واجب کہ ایسے ہوں کہ ملیں اور متداخل نہ ہوں تو اجزائے لاتتجزیّ نہیں ہوسکتے۔
عہ ۱ : اس کے تین جزء ہیں نفی جزء اور ہیولی سے ترکب اور انقسام نامتناہی اور تینوں باطل ۱۲ منہ غفرلہ، عہ ۲: اس کے بھی تین جزء ہیں اول وسوم وہی اور دونوں باطل ،دوم اتصال ہر جسم اس کی کلیت پر جزم صحیح نہیں ۔ ممکن کہ بعض اجسام اجزائے لا تتجزی سے ہوں ۱۲ منہ غفرلہ، عہ ۱: کہ ہر جسم اجزائے لا تجزٰی سے ہے حالانکہ یقیناً فلک وغیرہ بہت اجسام ان سے نہیں ہاں اثبات جز صحیح ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ عہ ۲: کہ سب اجسام متصل ہیں نیز نفی جز باطل ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول ،اوّلاً : یہ بداہت وہیں تک مسلم ہے کہ تجزیہ اجزائے منقسمہ تک ہو یہی تم نے دیکھا اور یہی تمہارے ذہنوں میں جما ہوا ہے ۔ دربارہ جواہر تمہاری جتنی بداہتیں گزریں سب قیاس غائب علی الشاہد اور صریح حکم عقل کے خلاف اپنے مالوفات کے دھوکا پر بداہت وہم تھیں یہ بھی انہیں میں سے ہے اس وقت تو جسم کو حجم یوں ہے کہ خود ہی متصل وحدانی ہے اور اسے دو چار ہزار دس ہزار جتنے ٹکڑے ایسے کرو جن کا اتصال ممکن ان کے ملنے سے ضرور حجم بن سکے گا۔ لیکن جب تقسیم ان اجزاء پر منتہی ہو جن کا اتصال محال، تو ان سے دوبارہ تحصیل حجم باطل خیال۔ ہاں اتنا حکم رہے گا کہ اگر یہ بے تداخل مل سکتے تو ضرور ان سے وہی مقدار جسم حاصل ہوتی بس حکم بداہت اس قدر ہے نہ یہ کہ ان کا ملنا بھی ممکن جس طرح عقل ہاں ہاں وہی بداہت قطعاً حکم کرتی ہے کہ اگر فلک کے ہزار ٹکڑے کیے جائیں اور وہ ٹکڑے انہیں اوضاع پر پھر ملادئے جائیں دوبارہ یہی کرہ بن جائے گا۔ اس حکم بداہت سے تمہارے نزدیک یہ لازم نہیں آتا کہ فلک کے ٹکڑے ہوسکیں کہ خرق ہے پھر وہ ٹکڑے مل سکیں کہ التیام ہے۔ ثانیاً : علٰی اھلہا تجنی براقش ( براقش اپنے ہی گھر والوں پر جنات کرتی ہے ت) اجزاء تحلیلیہ با لفعل مانی جائیں تو صالح ترکیب ہوں اس سے جمیع اجزا ء مراد، جہاں تک انقسام کی جسم میں صلاحیت ہے یا بعض ۔ برتقدیر ثانی ہم پر کیا اعتراض اتنے اقسام لو جن کا انقسام ممکن، ضرور ان سے ترکیب ہوسکے گی۔ برتقدیر اول تم اپنے جملہ اقسام موجود بالفعل مان کر صلاحیت ترکیب دکھاؤ، ضرور ہے کہ جملہ اقسام ممکنہ موجود بالفعل فرض کیے تو وہ نہ ہوں گے مگر اجزائے لاتتجزی کہ اگر ان میں کسی کا انقسام ہوسکے تو جمیع اقسام موجود بالفعل نہ ہوئے تو وہی آش تمہارے کاسہ میں ہے، بہرحال اجزائے لا تجزی پر انتہاء واجب ، فرق اتنا ہے کہ ہمارے نزدیک متناہی ہیں تمہارے نزدیک غیر متناہی، اور اجزاء متناہی ہوں خواہ غیر متناہی کسی طرح اس قابل نہیں کہ ملیں اور متداخل نہ ہوں، اور ان سے حجم و ترکیب حاصل ہو، تو اعتراض نہ تھا مگر جہالت خالصہ، اب متشد ق صاحب کو چاہیے کہ اجزائے دیمقراطیسیہ پر ایمان لائیں کہ انہیں تک تحلیل ہو کر پھر ترکیب بن پڑے گی ، یہ ہے ان کا تفلسف، یہ ہے ان کا تشدّق و تصلف ۔ ہاں یہاں ایک شبہ رہے گا کہ جب بعض کفار کے جسم پر موت اجزائے لاتجزٰی فرمادیئے گئے جیسا کہ آیتِ کریمہ سے گزرا اور اجزائے لاتتجزی مل نہیں سکتے تو ان کا اعادہ کس طرح ہوگا۔ اقول : قدرتِ الہیہ کہیں عاجز نہیں ممکن کہ مولٰی سبحنہ و تعالٰی نے اجزاء میں قوتِ نمور کھی ہو۔ روزِ قیامت اُن پر مینہ برسایا جائے گا، جیسا کہ حدیث صحیح کا ارشاد ہے اس بارش سے ان میں بالش ہو اور بالیدگی ان کو اجسام قابل اتصال کردے بعد امتزاج ان سے وہی جسم متصل وحدانی حاصل ہو جیسے قطرات کے ملنے سے جسم آب اور بعد اتصال اس مقدار کی طرف رد فرمادیا جائے جس پر دنیا میں تھااوکما شاء ربنا وعلٰی مایشاء قدیر ( یا جیسا ہمارے رب نے چاہا اور وہ اپنے چاہے پر قادر ہے۔ ت) ظاہر ہے کہ یہاں اس اعتراض کی گنجائش نہیں جو علامہ بحرالعلوم نے شبہ ۲۱ کی تقریر میں اس احتمال پر کیا کہ ممکن کہ سرکا نے سے وتر میں تخلخل ہو کر خود بڑھ جائے، یہ احتمال خود ہی مہمل تھا اس پر رد کیا کہ تمہارے نزدیک تو مقدار انضمام اجزاء سے بڑھتی ہے یہاں وتر میں کون سا جز بڑھا، اور اگر جز خود ہی بڑا ہوجائے تو جز کب رہا خط ہوگیا۔ اقول : یہ ردَ وہاں بھی جیسا تھا ظاہر ہے اولاً متکلمین نے یہ کہا کہ انضمام اجزاء سے مقدار بڑھتی ہے، یہ کب کہا کہ یوں ہی بڑھ سکتی ہے۔ ثانیاً : بعد تخلخل جزء نہ رہا تو اس کا جزء رہنا کس نے واجب کیا تھا، غالباً اسی لیے اخیر میں فرمادیا فافھم ( پس غور کرو۔ت) مگر ہمارے کلام پر تو بفضلہ تعالی اسے راساً ورود نہیں کمالا یخفٰی ( جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے، ت) یہ ہے وہ جس کی طرف ہماری نظر مودی ہوئی۔
والعلم بالحق عند ربّنا وھو بکل شیئ علیم وعلٰی سیدنا محمد و الہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم امین۔ والحمد ﷲ رب العلمین ۔
اورحق کا علم ہمارے رب کے پاس ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور ہمارے آقا، آپ کی آل اور اصحاب پر درود و سلام ہو، آمین، اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔(ت)