| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
تنبیہ اقول : اگر نفی جز سے دستبردار ہو کر اس شبہ سے صرف امتداد موہوم کی لاتناہی قسمت کا ثبوت چاہو تو وہ بھی بخیر۔ اولاً : سطح مستوی جس مین خط ب ح کو بڑھاؤ، ایسی کتنی دور تک مل سکتی ہے زمین کرہ ہے۔ ثانیاً : وہ پر کار کہاں سے آئے گی کہ جو بھر خط پر ہزار قوسین متمیز بناسکے۔ نا محدود درکنار تو فعلی تقسیم تو یقیناً نا مقدور۔ رہی وہمی اس کے لیے اتنا بھی ضرور کہ وہم وہاں متمایز حصے تخیل کرسکے۔ کیا جو بھر خط میں کروڑ یا بال بھر میں ہزار حصے ممتاز وہم کے وہم میں بھی آسکتے ہیں۔ سب کی تفصیل بالائے طاق وہم اتنا ہی بتائے کہ بال کی نوک کا ہزارواں حصہ اتنا ہوگا تو محض اجمالی تصور عقلی رہا نہ کہ تقسیم وہمی کہ اس کی مقدار وہم میں بھی نہیں آسکتی۔ ثالثاً : خط ب ح زیادہ سے زیادہ محدب کرہ نار تک بڑھ سکے گا تمہارے نزدیک خرقِ افلاک محال یا خرق وہمی سہی تو محدب فلک الافلاک سے آگے، تو کسی بعد کے لیے اصلاً راہ نہیں تو خط کی لاتناہی لا تقفی بھی باطل بلکہ وقوف واجب، اگر کہیے تو ہم تو آگے بھی کرسکتے ہیں۔ اقول : تو وہ نِرا اختراع ہوگا تقسیم اختراع ہوئی نہ کہ وہمی ، یوں تو جس طرح خط کی تنصیف نامتناہی کہتے ہو تضعیف بھی نامتناہی کہو جس کا کوئی عاقل قائل نہیں اگر کہیے یہ سب کچھ مسلم مگر عقل قطعاً حکم کرتی ہے کہ اگر قوسین غیر متناہی ہوئیں ضرور ا و ح کے درمیان ہی پڑیں گی۔ تو ضرور اس خط میں نامتناہی حصوں کی گنجائش ہے۔
اقول : تو اب ہر خط اگرچہ بال بھر کا ہو حصص غیر متناہیہ بالفعل کے قابل ہوگیا، اگر اس میں کسی محدود ہی کی گنجائش ہے تو ضرور تقسیم وہیں رُک جائے گی حالانکہ نہیں رکتی تو ضرور اس میں بالفعل حصص غیر متناہیہ کی وسعت ہے اور پھر وہ وسعت دو حاصروں میں محصور اور حاصر بھی کیسے جن میں صرف بال کی نوک کا تفاوت اگر فلسفہ ایسی ہی بدیہی البطلان باتیں مانتا ہے تو جنوں و تفلسف میں کتنا فرق ہے۔ ثم قول : بحمدہ تعالٰی یہ رَدفی نفسہ ہر جگہ ان کے ادعائے تقسیم نامتناہی بالقوہ کے رَد کو بس ہے کہ یہاں قوت مستلزم فعلیت وسعت ہے ظاہر ہے کہ تقسیم سے خط یا سطح یا جسم یا زاویہ کی مقدار بڑھتی نہ جائے گی کہ نئی وسعت پیدا ہوتی جائے، وسعت تو اس کی اتنی ہی ہے جو موجود بالفعل ہے اگر اس میں بالفعل غیر متناہی حصوں کی گنجائش نہیں بلکہ صرف محدود ومعدود کی ہے تو قطعاً تقسیم نامتناہی لا تقضی بھی ممکن نہیں جب اس حد تک پہنچے گی وقوف بالفعل واجب ہوگا کہ آگے وسعت نہیں تو لامتناہی لاتقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازم، اور وہ قطعاً باطل۔ لاجرم لاتناہی لا تقضی کے لیے ان تمام امتدادوں میں بالفعل غیر متناہی کی وسعت لازم، اور وہ قطعاً باطل۔ لاجرم لاتناہی بالقوہ بھی باطل وﷲ الحمد۔ حق یہ کہ فلاسفہ کے پاس اس ادعائے باطل پر کوئی دلیل نہیں صرف جز سے بھاگنے کے لیے اس کے مدعی ہوئے ہیں اور براہِ جہالت اسے ہندسہ کے سر منڈھتے ہیں، حالانکہ ہندسہ ان کے افترا سے بری ہے اس نے کہیں یہ دعوی نہیں کیا کہ ہر خط یا زاویہ کی تنصیف نامتناہی ہے بلکہ طریقہ بتایا ہے کہ زاویہ کی تنصیف چاہو تو یوں کرو خط کی چاہو تو یہ کرو۔ یہ تو وہیں تک محدود ہے جہاں تک بالفعل ہم کرسکتے ہیں اس کے لیے اس نے طریقہ بتایا ہے آگے سب فلاسفہ کی وہم پرستی و بادبدستی ہے۔
ھٰکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق والحمد ﷲ رب العالمین وافضل الصلوۃ والسلام علی الجوھر الفردالمبین واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین۔
تحقیق یونہی چاہیے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں اور بہترین درود و سلام ہو حق کو ظاہر کرنے والے جو ہر فرد ( در یکتا) پر اور آپ کے آل ، اصحاب ، اولاد اور تمام امت پر آمین(ت)
یہ ہے وہ جس پر زمین سر پر اٹھا رکھی تھی کہ جز کا مسئلہ ایسا باطل، اس کے بطلان پر اتنے برہان قاطع، بحمدہ تعالٰی کھل گیا کہ وہ خاک بھی براہین قاطعہ نہیں بلکہ خود شبہاتِ مقطوعہ ہیں ۔ یہ ۲۹ ہی شبہے کتابوں میں ہماری نظر سے گزرے اور ان میں بھی بہت متداخل ہیں۔ ایک ایک کو کئی کئی کرکے دکھایا ہے جس کا اشارہ ہر جگہ گزرا اور ان پر بحمد اﷲ تعالٰی رد وہ ہوئے کہ اگر ہزار شبہات اور ہوں تو ہر طالب علم جو ہمارے طریقے کو سمجھ گیا ہے ان کو ھباء منثورا کرسکتا ہے ۔ وﷲ الحمد۔