Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
173 - 212
شبہ ۲۸ : محیط دائرہ اگر اجزائے لا تتجزی سے مرکب ہو تو ظاہر ہے کہ ان کے لیے دو طرف ہوں گی ایک بیرونی خارج دائرہ کی جانب ہے، یہ محدب ہے، دوسری اندرونی کہ داخل دائرہ کی طرف ہے، یہ مقعر ہے، یہ دونوں طرفیں اگر برابر ہوں تو مرکز زمین پر جو دائرہ بال بھر قطر کا لو دہ اور فلک الافلاک کا منطقہ برابر ہوگیا کہ معدل النہار کے محدب و مقعر معدل کے مساوی  ہوئے اب اس کے نیچے ایک اور دائرہ بلا فصل لیجئے ضرور اس کا محدب مقعر معدل کے مساوی ہے کہ دونوں منطبق ہیں اور بغرض مذکور اس کا مقعر اس کے محدب کے مساوی ہے تو اس کا مقعر محدب معدل کا مساوی ہے، یونہی متصل دائرے فرض کرتے آئے یہاں تک کہ اس دائرہ صغیرہ سے مل جائیں جو مرکز زمین پر لیا تھا ان سب کے مقعر و محدب برابر ہوں گے اور ہر ایک کا محدب بحکم انطباق اس سے اور پروانے کے معقر سے اور بحکم تساوی اس کے محدب سے تو فلک سے اس دائرہ زمین تک یہ تمام دو ائر برابر ہوئے ، لاجرم دائرے کا مقعر اس کے محدب سے چھوٹا ہوگا یہ چھوٹا ہونا دو ہی طرح ہوسکتا ہے: ایک یہ کہ اجزاء کی زیریں جانب بالائی سے چھوٹی ہو تو جز منقسم ہوگیا دوسرے یہ کہ زیریں جانب اجزاء خوب ملے ہوئے ہوں اور بالائی جانب جدا جدا یوں بھی انقسام ہوگیا کہ غیر ملاقی غیر ملاقی ہے۔ معہذا بالائی جانب میں جو فرجے ہیں اگر ایک جز سے کم ہیں جز منقسم ہوگیا اور ایک جز کی قدر ہیں، تو دائرے کا محدب مقعر سے دونا ہوگیا اور یہ بشہادتِ حس باطل ہے۔( ملخص مواقف و مقاصد)

اقول : رحم اﷲ العلماء ورحمنا بھم ( اﷲ تعالٰی علماء پر رحم فرمائے اور ان کے صدقے ہم پر بھی رحم فرمائے۔ت) یہ سب تلمیع محض ہے۔
اوّل محدب و مقعر کرے میں ہوتے ہیں محیط دائرہ میں محدب و مقعر آج ہی سنے  محیط بہرحال ایک خط غیر منقسم ہے جس میں عرض محال خواہ خطِ عرضی ہو جیسے فلاسفہ مانتے ہیں، یا جوہری محیط کےلیے اگر دو طرفین ضروری ہوں تو دائرہ قطعاً محال ہوگیا کہ اسے محیط سے چارہ نہیں اور وہ جوہری ہو یا عرضی مستحیل العرض۔

ثانیاً :  اگر بالخصوص محیط ، جوہری میں یہ بداہت عقل کی مصادمت ہے تو دلیل یہیں تمام ہوگئی کہ اجزاء  میں دو طرفین ثابت ہوئیں، قطعاً فرض شے دون شے کے صالح ہوئے۔ آگے تمام شقوق تطویل فضول ہیں۔

ثالثاً  : جب محیط واحد میں مقعر کا محدب سے چھوٹا ہونا واجب ، تو دوسرا دائرہ جو اس کے پیٹ میں اس سے بالکل متصل لیا جائے گا اس کا محدب اس کے مقعر سے مساوی ہونا کیونکر ممکن، خط واحد میں نیچے کی طرف جب اوپر والی سے چھوٹی ہے تو اس کا محدب کہ اس کے مقعر کے نیچے ہے قطعاً اس سے چھوٹا ہے، یہاں انطباق بطور تساوی نہیں بلکہ بطورِ احاطہ ہے کہ اس کا مقعر اس کے محدب کو محیط ہے اور محیط ضروری محاط سے بڑا ہے۔

رابعاً : ایک دائرہ جوہری سے دوسرا ملاصق ہونا محال کہ موجب اتصال اجزا ہے۔

خامساً : اجزاء میں نہ زیریں و بالائی جانبین ہیں، نہ ہر گز ان میں کوئی جز دوسرے سے متصل ہے بلکہ متفرق ہیں، اور امتداد فاصل اور شبہ زائل۔
شبہ ۲۹ :
27_52.jpg
 ا ب ایک خط ہے اور اس پر ا ح متناہی اور بہ ح غیر متناہی دو عمود خط غیر متناہی سے نقطہ ء و ہ و ح الخ کو مرکز فرض کرکے ب کی دوری پر ا ح کی طرف قوسین کھینچیں ہر مرکز نقطہ ب سے جتنا بعید ہوگا قوس کا ملتقی خط ا ح میں نقطہ ا سے قریب ہوگا اور خط ب ح غیر متناہی لیا ہے تو ضرور خط ا ح کی تقسیم غیر متناہی ہوگی کہ قوس کبھی خط مستقیم پر منطبق نہیں ہوسکتی اور جب تقسیم نامتناہی ہے تو جز باطل ہے(حدائق)

اقول : بلکہ توجیہ و تقریب شبہ یہ ہے ہم دعوٰی کرتے ہیں کہ ہر خط محدود و غیر متناہی تقسیم کے قابل ہے۔
27_53.jpg
ا ح خط محدود ہے اس پر مربع ا ء بنایا اور خط ب ء کو ح تک کھینچ دیا ء پ ب کی دوری سے دائرہ ب ی ر سم کیا ضرور ہے کہ نقطہ ح پر گزرے گا کہ ح ء اس کا نصف قطر ہے، اب خط ب ح میں ء سے نیچے نقطہ ہ کو مرکز لے کر ب کی دوری پر دائرہ ب ل کھینچیں ضرور ہے کہ خط ا ح کو کہیں قطع کرے اگرچہ ﺻ یا ن تک بڑھا کر کر اس کا نصف قطر سہ ہ خط ح ء سے بڑا ہے تو ضرور اس مسافت سے گزر جائے گا لیکن ب ی ، ب ل دونوں دائروں کے مرکز خط واحد ب ح پر ہیں ا ور دونوں ب کی دوری پر کھینچے گئے تو ب پر متماس ہیں اور متماس دائروں کا دوبارہ تماس یا کہیں تقاطع محال ہے ورنہ قطر مختلف ہوجائے لاجرم جس کا قطر بڑا ہے جیسے یہاں دائرہ ب ل و نقطہ تماس سے چل کر تمام دورے میں چھوٹے قطر والے جیسے دائرہ ب ی کے باہر باہر گزرے گا تو محال ہے کہ ب ل خط ا ح کو ح پر قطع کرے یا ح کے اندر سے گزر کر ح سے نیچے مثلا ن  پر ، نیز یہ محال ہے کہ ا یا اس سے اوپر مثلاعہ (عہ) پر قطع کرے کہ ا ب ان سب قوسوں کا ظل اول یعنی خط مماس ہے کہ اس قطر پر عمود ہے جوان کی ایک طرف پر گزرا ہے اور یوں وتر یا وتر کا جز بہرحال قطع ہوجائے گا یہ ثبوت ہے نہ وہ کہ مستدل نے کہا ا پر گزرنے سے قوس و خط کا انطباق کب لازم ۔ لاجرم ا وح کے درمیان کسی نقطے مثلاً ر پر قطع کرے گا بعینہ اسی بیان سے جتنا مرکز نیچے لیتے جاؤ گے قوس کا ملتقی ا و ح کے درمیان ا کی طرف گرے گا۔ کسی خط کے لیے اگر چہ لامتناہی کمی محال ہے مگر تقضی ضرور ہے خط ب ح جتنا چاہیں بڑھا سکتے ہیں اور اس پر نقطے فرض کرکے ب کی دوری پر جتنے دائرے کھینچیں سب کی قوسیں ا و ح کے درمیان گریں گی تو خط محدود ا ح کی تقسیم نا محدود ہوئی، اگر اجزائے سے مرکب ہونا واجب تھا کہ اس کی تقسیم محدود ہوتی کہ کوئی قوس جز سے کم پر نہیں گر سکتی ورنہ منقسم ہو تو ہر قوس کے مقابل ایک جز درکار اگر اجزا لامتناہی ہوں تقسیم نامتناہی لاتقضی ممکن نہ ہو کہ وقوف واجب ہونا چار نظام معتزلی کی طرح اجزائے غیر متناہیہ بالفعل ماننے پڑیں حالانکہ دو حاصروں میں محصور ہیں، یہ تقریر شبہ ہے، رہا جواب ۔

اقول : واضح ہے یہ تقسیم نامتناہی امتداد موہوم کی ہوئی اور وہ اجزائے متفرقہ سے ترکب کی نافی نہیں ہاں متصلہ ہوئے تو ضرور نفی کرتی کہ قوسین انہیں پر گزرتیں اور وہ محدود لیکن اتصال ممتنع تو شبہ مندفع۔
عہ : ا پر قطع کرے جیسے قو ا ب تو خود اس کا وتر ہے اور ا سے اوپر جیسے قوس ف ب تو اس وتر کا جز ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔،
Flag Counter