Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
172 - 212
شبہ ۲۴ : اقلید س کی پہلی شکل ہے کہ ہر خط پر مثلث متساوی الاضلاح بناسکتے ہیں تو اگر خط دو جز کا ہوا اس پر مثلث نہ بنے گا، مگر یونہی کہ تیسرا جز ان دونوں کے ملتقی پر رکھا جائے تو انقسام ہوگیا( شرح مقاصد)

اقول : یہ وہی شبہ ۵ ہے اور ا س کا ردو ہیں گزرا، اجزاء کبھی نہ ملیں گے بلکہ ان میں امتداد فاصل ہوگا اسی کا انقسام حاصل ہوگا۔

شبہ ۲۵: ہر خط کی تنصیف کرسکتے ہیں، اب اگر اجزائے طاق سے ہو جز ء منقسم ہوجائے گا( مواقف و صدرا)

اقول :  یہ وہی شبہ ۱۱ ہے اور وہیں اس کا جواب ۔

شبہ ۲۶ : ہر زاویہ کی تنصیف ہوسکتی ہے( مواقف و مقاصد) تو وہ جز کہ دونوں خطوں کے ملتقی پر ہے منتصف ہوگیا۔(شرح مقاصد)
اقول : تنصیف زاویہ کی ہوگی یا راس کی ، ثانی خود محال کہ راس زاویہ فلاسفہ کے نزدیک بھی نہیں مگر ایک نقطہ اور اول پر جب تنصیف زاویہ سے تنصیف نقطہ راس نہ ہوئی تنصیف جزء راس کیوں ہوگی کہ وہ نہیں مگر اُسی نقطے کی جگہ۔
شبہ ۲۷ :  ایک مثلث متساوی الساقین لیں جس کے قاعدے کے اجزاء ہر ساق سے کم ہوں، ظاہر ہے کہ راس زاویہ پر ساقوں میں اصلاً انفراج نہیں اور پھر ہر امتداد پر بڑھتا گیا ہے تو قاعدے کی طرف سے اوپر چلنے میں ہر جگہ گھٹتا جائے گا یہاں تک کہ ایک جزء کی قدر رہ جائے گا، اور اس سے اوپر ایک جزء سے کم ہوگا۔ یہی انقسام ہے (حضری فی شرح کتاب الابہری) شاہ عبدالعزیز صاحب نے حواشی صدرا میں اس کی یہ تصویر کی کہ دونوں ساقین ۵ ، ۵ جز کی ہوں اور قاعدہ ۴ جز کا اور انفراج کا گھٹنا یوں کہ دونوں ساقوں سے ایک ایک جز حذف کریں تو وہ ۴،۴ کی رہیں گی اور وتر ۳ کا یونہی ایک ایک جز ساقوں میں سے کم کرتے جائیں تو وتر ایک جز سے کم رہے گا۔

اقول : وتر کا تین جز کی قدر سے کم ہونا محال کہ ساقوں میں کتنے ہی اجزا کم لیں ضرور دو جز متقابل ہوں گے کہ دونوں وتر میں داخل ہوں گے اور ان کے بیچ میں کم سے کم ایک جز کی قدر انفراج اور اگر ساقوں کے دونوں جز منتہی چھوڑ کر وتر میں ۴ جز لیے اگر چہ یہ خلاف فرض ہے کہ اب وتر ساقوں سے اکبر ہوا مگر اب تصویر مذکور پر کوئی محال نہ لازم آئے گا جب ساقوں میں ۵ ، ۵ جز ہیں وتر میں ۴ جز ہیں ایک ایک کے حذف پر جب ساقوں میں دو دو جزء رہیں گے وتر میں جز ء وسطانی ایک ہوگا آگے ساقوں میں سے حذف نہیں کرسکتے کہ یہ ۲ ، ۲ جزء  یوں ہیں کہ ایک ملتقی کا دونوں میں مشترک ہے اور ایک ایک امتداد کا جب اسے حذف کرو گے صرف جز ملتقی رہ جائے گا، نہ ساقین رہیں گی نہ وتر نہ مثلث ، تو انقسام کب ہوا، صدرا نے اس شبہ حضری کو ضعیف ترین دلائل سے کہا۔ عماد نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد زاویہ بقدر ایک جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگا، لیکن یہ ممنوع ہے کیوں نہیں جائز کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر دو جز کے ہو تو ملتقی پر پورا جز ہوگا۔
اقول ،اولاً: صدرا نے اس بنا پر تضعیف نہ کی اس نے خود وجہِ ضعف بتادی ہے کہ جتنے دلائل مثلث قائم الزاویہ مسلم، متکلمین کے سوا اور کسی شکل ہندسی پر مبنی ہیں اضعف دلائل ہیں کہ متکلمین انہیں نہیں مانتے تو ان کا وجود اتصال جسم پر مبنی اور اتصال جسم نفی جزء  پر، تو ان سے نفی جز پر استدلال مصادرہ ہے یعنی یہ دلیل ایسی ہی ظاہر ہے کہ مثلث متساوی الساقین جس کا قاعدہ چھوٹا ہو نہ ہوگا مگر حاد الزوایا اور متکلمین صرف مثلث قائم الزاویہ کے قائل ہیں یہ وجہ ضعف ہے نہ وہ اگرچہ اس استثنا کا بطلان بھی اُس پر سن چکے کہ متکلمین ہر گز کسی شکل کے قائل نہیں۔

ثانیاً :  یہ بھی ایک ہی کہی کہ دلیل اس پر مبنی کہ ملتقی کے بعد انفراج بقدر ایک جز کے رہے تو ملتقی پر جز سے کم ہوگا۔ سبحان اﷲ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔

ثالثاً  : ایک جز سے کم ہوگا۔ سبحان اللہ ملتقی پر کہاں انفراج اور کہاں زاویہ۔

ثالثاً  : ایک جز سے مراد تنہا جزو واحد تو خود باطل ہے جسے مجنون ہی جسے مجنون ہی مانے گا ساقوں کے دونوں  جز کدھر جائیں گے اور اگر ایک جزء انفراج مراد تو اس پر بنائے دلیل خرط التقاد اور دو جز کی اصلاً حاجت نہیں جب ساقوں کا یہ ایک ایک جز حذف کرو گے نہ مثلث رہے گا نہ ساقین نہ وتر نہ زاویہ نہ انفراج کما تقدم۔

رابعاً : ہم شبہ کی وہ تقریر کریں جس پر کچھ وارد نہیں۔۱۰ ، ۱۰ جز کے دونوں ضلعے اور ۶ جز کا وتر، ساقوں کا انفراج وہ فاصلہ ہے جو ان کے دونوں جزو متقابل کے اندر ہے اس کی مقدار وتر کے اجزائے وسطانی ہی ہیں یعنی ساقین کے دونوں جز چھوڑ کر یہ مجموعہ امتداد وتر ہے نہ کہ فصل بین الساقین ، تو صورتِ مذکورہ میں انفراج ۴ جز ہوا اب ساقین سے ایک ایک جز کم کیا، ضرور ہے کہ انفراج گھٹا، اب اگر ایک جز سے کم گھٹے جز منقسم ہوجائے گا۔ تو ضرور یہاں انفراج ۳ جز رہا پھر ایک ایک جز ساقوں سے گھٹایا دو جز رہا پھر گھٹایا ایک جز رہا۔ اب ساقوں میں ۷ ، ۷ جز ہیں اور انفراج صرف ایک جز، اب جتنی بار ساقوں سے ایک ایک جز کم کرو گے ضرور انفراج ایک جز سے کم، پھر اس کم سے کم پھر اس سے بھی کم رہے گا اور یہی انقسام ہے۔

ثم اقول : حضری نے تطویل کی اور قاعدہ چھوٹا لینے کی بھی حاجت نہیں بہت صاف و مختصر یہ تقریر ہے کہ مثلث متساوی الاضلاع ہے جس کا ہر ضلع ۳ جز ب  ۰:۰ ا ج ء ہ کا فاصلہ ایک جز ہے تو ضرور ب ح کا اس سے کم رہا۔ 

جواب اقول : واضح ہے اجزاء ہر گز متصل نہ ہوں گے امتداد فاصل ہے وہی ہر جگہ گھٹے گا خواہ اجزاء پہلے امتداد سے کم ہوں یا برابر یا زائد۔
Flag Counter