Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
171 - 212
شبہ ۲۲ : وہی دیوار و صحن پر چھڑی کے دونوں سرے جن سے مثلث قائم الزاویہ بنے اب اُسے نیچے کی طرف سے جہاں صحن سے ملی ہے بتدریج ضلع ب ح کی جانب مقابل کھینچیں یوں کہ دیوار سے ملی ملی اترے یہاں تک کہ بائیں دیوار میں زمین پر آجائے ظاہر ہےکہ ا دیوار سے اترتا جائے گا اور  ح صحن پر جانب مقابل ب ح میں بڑھتا جائے گا اب اگر یہ اُترنا اور بڑھنا برابر مقدار میں ہو تو وتر  ا ح زمین پر اب اس طرح رکھا ہے کہ پورے ضلع ب ح پر ہے اور اس سے جتنا سرکا اتنا زائد ہے اور وہ سرکنا اترنے کے برابر اور اترنا بقدر ضلع ا ب یعنی قامت دیوار تھا تو وتر دونوں ضلعوں کے مجموعہ کے برابر ہوگیا۔ اور یہ حماری سے محال ہے۔( یعنی اور اگر سرکنا اترنے سے زائد لو تو استحالہ ازید ہے کہ وتر دونوں ضلعوں کے مجموعے سے بڑھ گیا) لاجرم سرکنا اترنے سے کم ہوگا، اب اگر دیوار پر سے ایک جز اترے تو واجب کے صحن پر ایک جز سے کم سر کے، انقام ہوگیا۔(مواقف موضحا)

اقول : یہ اُسی شبہ سابقہ کی گویا دوسری تقریر ہے اور اس پر اولاً وثانیاً :  وہی ہیں۔

ثالثاً  : اس پورے وتر کا دیوار پر سے اترنا محال کہ اس کا جز ا دیوار کا جز تھا کہ دونوں میں مشترک تھا۔

رابعاً یہیں سے ظاہر کہ اس چھڑی یا کڑی کو وتر کہنا صحیح نہیں وتر میں دو جز اور ہیں ایک دیوار کا ایک صحن کا۔

خامساً : یہیں سے روشن کہ اس پورے وتر کا صحن پر سرکانا بھی باطل کہ ح اس میں اور صحن میں مشترک ہے اور اگر ا و ح دونوں جز چھوڑ کر صرف چھڑی کو سرکائیے تو شبہ کا ایک ایک فقرہ مختل ہوگا۔

اولاً : یہ وتر نہیں۔

ثانیاً : اترنے کی مسافت سارا ضلع ا ب نہ ہوئی کہ اس کا جز ا متروک ہے۔

ثالثاً: نہ صرف ا ، بلکہ ب بھی کہ چھڑی دیوار سے ملی ملی جو زمین پر پہنچے گی اس کا پہلا سرا نقطہ ب پر نہیں آسکتا بلکہ ب کے برابر جو جز ضلع ب ح میں ہے اس پر آئے گا کہ دیوار سے ملی ہوئی اتری ہے نہ کہ حلول و تداخل کیے۔

رابعاً اب اس کا انطباق بھی پورے ضلع ب ح پر نہ ہوگا کہ جزء ب متروک ہے۔

خامساً : اس صورت پر حاصل یہ ہوا کہ ضلع ا ب ۔ ۲ جز + ضلع ب ج ۔  یک جز= وتر – ۲جز   ÷ ضلع ا ب + ضلع ب ح یک جز = وتر تو حماری وارد نہ ہوگی، ہاں اگر عروسی وارد ہو تو اسی شبہ ۱۶ تا ۱۹ کی طرف رجوع اور اسی کے دفع سے مدفوع ہوگی، کلام اس تقریر شبہ میں ہے۔
شبہ ۲۳ : اقلید س نے مقالہ دوم میں ثابت کیا ہے کہ ہر خط کے ایسے (عہ۱) دو حصے کرسکتے ہیں کہ قسم اصغر میں خط کی سطح یعنی حاصلِ ضرب قسم اکبر کے مربع کے برابر ہو، اب جو خط مثلاً تین جز سے ہے اسے اگر صحیح تقسیم کریں تو دو اور ایک اقسام ہوئے کل یعنی تین جز کا قسم اصغر ایک میں حاصل ضرب ۳ ہوا۔ اور قسم اکبر ۲ کا مربع ۴، تو ضرور ہے کہ کسر پر تقسیم کریں۔( یعنی قسم اکبر دو جز سے کم لیں اور اصغر ایک جز سے کچھ زیادہ کہ وہ تقسیم بن پڑے تو جز منقسم ہوگیا) (صدرا)۔

عہ۱ :  اقول : یہی نسبت ذات طرفین ووسط ہے یعنی خط : قسم اکبر :: قسم اکبر : قسم اصغر، لاجرم بحکم اربعہ متناسبہ خط × قسم اصغر = مربع قسم اکبر کو اقلیدس نے کہ مقالہ دوم شکل ۱۱ میں خط کی یہ تقسیم بیان کی پھر مقالہ ۶ شکل ۲۷ میں خط کو نسبت ذات طرفین و وسط پر تقسیم کرنا محض عبث ہے یہ وہیں مقالہ دوم میں ثابت ہوچکا تھا ۱۲ منہ غفرلہ۔

اقول ،اوّلا: ہر گز کسر سے بھی صحےح نہ آئے گا کہ اس کی تصحیح کو انقسام جز مانیں، دلیل یہ کہ خط کو لا فرض کیجئے اور قسم اکبر کو ء ، تو قسم اصغر لا – ء  ہوگی اور مساوات یہ بنے گی۔
27_50.jpg
مربع کامل ہے کہ مربع کامل کا مساوی ہے اور اقلیدس کے مقالہ ۹ شکل اول سے ثابت ہے کہ مربع کو مربع میں ضرب دینے یا مربع پر تقسیم کرنے(عہ۲) سے بھی مربع کامل حاصل ہوتا ہے تو لا۲ /۴ مربع کامل ہے جس کا جذر ۱۱/۲  نیز اسی شکل نے ثبوت دیا ہے کہ مربع کا مل کو جس میں ضرب دیئے یا جس پر تقسیم کیے (عہ۳) سے مربع کا مل حاصل ہو وہ مضروب فیہ یا مقسوم علیہ بھی مربع (عہ)کامل ہوتا ہے یہاں لا۲ /۴  کو ۵ میں ضرب دینے سے مربع کامل حاصل ہوا تو واجب کہ ۵ بھی مربع کامل ہوا اور یہ یدیہی البطلان ہے، وبوجہ دیگر ء قسم اصغر کو فرض کیجئے تو اکبر لا – ء ہے اور مساوات یہ
27_51.jpg
 یہاں دو استحالے ہوئے ایک تو بدستور تین کا مجذور کامل ہونا، دوسرے منفی کا مجذور ہونا ، حالانکہ کوئی منفی مجذور نہیں ہوسکتا کہ اس کا جذر مثبت ہو یا منفی بہرحال اس کے نفس میں حاصلِ  ضرب مثبت آئے گا کہ اثبات کا اثبات اور نفی کی نفی دونوں اثبات ہیں، ہاں نفی کا اثبات یا اثبات کی نفی نفی ہے مگر مجذور میں اس کا امکان نہیں کہ مضروبین میں تبدل نفی و اثبات سے شے کی ضرب اس کے نفس میں نہ ہوئی تو اگر یہ شکلیں خط مرکب من الاجزاء کو بھی شامل ہوں خود غلط و باطل ہیں۔
عہ ۲ :  مسئلہ ضرب استبانت اولٰی میں ہے اور مسئلہ تقسیم کہ ہم نے زائد کیا، استبانت چہارم سے ظاہر اگر دو مربعوں کا حاصل قسمت مربع نہ ہواور حاصل قسمت و مقسوم علیہ کا مسطح = مقسوم ہوتا ہے تو مربع وغیر مربع کا مسطح مربع ہوا، حالانکہ استبانت چہارم ہےکہ غیر مربع ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔

عہ۳ :  مسئلہ ضرب استبانت دوم میں ہے اور مسئلہ تقسیم کہ ہم نے زائد کیا اس سے ظاہر ، مربع  ÷ عدد جب کہ مربع ہے تو ضرور عدد ×مربع = مربع ہے تو عدد مربع ہے ۱۲ منہ۔

عہ :  یا یوں کہیے کہ جب دو عددوں کا حاصل ضرب مربع ہو تو وہ دونوں مسطح متشابہ ہیں-( شکل ۲ مقالہ ۹) دو مسطح متشابہ وہ جن کے اجزائے ضربی متناسب ہوں۔(صدرامقالہ ۷) اور ہر دو مسطح متشابہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوتے ہیں۔(شکل ۸ مقالہ ۸) تو جن کا حاصل ضرب مربع ہو وہ دو مربعوں کی نسبت پر ہیں پھر ہر دو عدد کہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوتے ہیں۔ ( شکل ۸ مقالہ ۸) تو جن کا حاصل ضرب مربع ہو وہ دو مربعوں کی نسبت پر ہیں پھر ہر دو عدد کہ دو مربعوں کی نسبت پر ہوں اور ان میں ایک مربع ہو تو دوسرا بھی مربع ہے-(شکل ۲۲ مقالہ ۸) تو جن کا حاصل ِ ضرب مربع ہواور اُن میں ایک مربع ہے تو دوسرا بھی مربع ہے تو لا۲ /۴ کہ مربع ہے اور ۵ میں ضرب دینے سے مربع بنا، لاجرم ۵ بھی مربع ہے حالانکہ ہر گز نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
لطیفہ اقول :  ہمارے یہ دونوں بیان نفس ہر دو شکل پر بھی وارد ہوسکتے ہیں کہ لا و ء جس طرح اعداد مفروض ہوسکتے ہیں، یونہی امتداد ولہ جواب ترکناہ للاختیار۔

لطیفہ اقول : یہاں ایک منطقی سوال ہے شک نہیں کہ ہر مجذور منفی ہوسکتا ہے مثلاً ۳۶ – (۲۴) = ۲۰  تو صادق ہوا کہ بعض مجذور منفی ہیں تو اس کا عکس بھی صادق ہوگا۔ کہ بعض منفی مجذور ہیں حالانکہ اس کی نقیض صادق ہے کہ کوئی منفی مجذور نہیں وجوابہ ظاہر من دون استتار۔

ثانیاً :  حل وہی ہے کہ ہندسہ ہمیشہ امتداداتِ موہومہ سے بحث کرتا ہے ، اجزائے متفرقہ سے جو خط مرکب ہو اسے ایک اتصال موہوم عارض ہوگا اس کی یہ تقسیم ہوسکے گی نہ کہ اجزا کی ۔
Flag Counter