Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
170 - 212
شبہ ۲۱  : مثلث قائم الزاویہ جس کا ہر ضلع ۵، ۵ جز ہے، بحکم عروسی اس کا وتر ۵۰ کا جذر ہوگا اب ہم اس وتر کا ایک سرا اس کے پاس کے ضلع کا ایک جز چھوڑ کر رکھیں تو ضرور ہےکہ دوسرا سرا ایک جز سے کم اپنے پاس کے ضلع سے سر کے توجز منقسم ہوگیا ایک جز سے کم سرکنا یوں ضرور ہے کہ اگر یہ بھی ایک جزسر کے تو پہلا ضلع ۴ جز کا ہوا اور دوسرا ۶ کا تو یہ وتر ۵۲ کا جزر ہوگیا حالانکہ ۵۰ کا تھا (صدرا)

اقول : تیمم تقریب یہ ہےکہ مثلاً مثلث ا ب ح میں جب وتر ا ح کو نقطہ سے نیچے سرکا کر مثلاً نقطہ ء پر رکھو تو محال ہے کہ اس کا دوسرا کنارہ نقطہ ح پر منطبق رہے ورنہ ء ح = ا ح ہو۔
27_45.jpg
حالانکہ قطعاً چھوٹا ہے کہ وہ ا ب ،ب ح کے مربعوں کا جزر ہے۔

اور یہ ء ب ۶ ب ح کے ب ح مشترک ہے اور ء ب، ا ب سے چھوٹا ہے تو اس کا مربع چھوٹا ہے تو ان دو مربعوں کا مجموع ان دو مربعوں کے مجموعہ سے چھوٹا ہے تو ان کا جذر ء ح ان کے جذر ا ح سے چھوٹا ہے تو واجب ہے کہ وتر کا دوسرا کنارہ بھی نقطہ ح سے آگے پڑے اور اس کا وقوع خط ب ح کی استقامت پر ممکن بلکہ واقع ہے مثلاً ا ب دیوار ہموار ہو اور ب ء صحن مستوی اس دیوار پر ا ح ایک چھڑی یوں رکھی ہے کہ زاویہ قائمہ ب کا وتر بنی ہے
27_46.jpg
 جب اس کا سرا کہ ا پر ہے نیچے سرکا کر ہ پر رکھو گے ضرور دوسرا سرا کہ ح پر تھا ء کی طرف سرک کر ر پر آئے گا۔ تو اسی ضلع ب ح کی استقامت پر آئے اور ا ب مثلت ا ب ح کے عوض ہ ب ر ہوگا، اس صورت میں ا ہ اگر ایک جز ہے ضرور ح ر ایک جز سے کم ہوگا اور یہاں سے ظاہر ہوا کہ اس مثلث کا متساوی الساقین ہونا جس طرح شبہ میں لیا ضرور نہیں۔ وہ صرف ایک تصوریر ہے جس سے اختلاف مقدار وتر دکھائی جاسکے۔ رہا جب اقول : واضح ہے اولاً مثلث بے اتصال اجزا نہ بنے گا اور وہ محال۔
ثانیاً  : تینوں ضلعوں میں اجزائے متفرقہ ہیں اور ان میں امتدادات وتر کا ایک سِرا اگر ایک ضلع کے جز سے دوسرے  پر آئے گا ضرور ایک امتداد طے کرے گا اور دوسرا سِرا اس سے کم امتداد نہ کہ جز سے کم ۔

ثالثاً  :  اگر اتصال اجزاء لو تو یہ سارا دفتر گاؤ خورد ہوجائے گا سرکانے سے وتر ہی وہ نہ رہے گا جسے کہو کہ شیئ واحد کی مقدار بڑھ گئی پہلے اتنے کا جذر تھا اب وہی وتر اتنے کا جذر ہوگیا۔
فرض کرو، :
27_47.jpg
 ا ب ح ایک مثلث ہے جس کا ضلع ا ب ۳ جز ، ب ح ۴ جز وتر  ا ح ۵ جز جس سے ب ء ہ عروسی نہ بگڑے اس وتر کا نقطہ ا ضلع ا ب میں مشترک ہے اور ح ضلع ب ح میں ا ب ا گر دونوں ضلعوں کی مقدار برقرار رکھ کر وتر کو سرکانا چاہو تو وہ صرف تین جز کا رہ جائے گا اور اگر وتر کی مقدار بحال رکھو تو دونوں ضلعوں میں سے ایک ایک جز کم ہوجائے گا اور ا ب وہ ع ب ۶ ب ہ ہوں گی اور اس ۵ جز کے وتر ا ح کو اگر یوں رکھو کہ اس کا جزء ا ضلع ء ب سے اوپر ہو تو یہی صورت ا ب ح پھر عود کرے گی ا ور اگر یوں رکھو کہ ء اسی کے اجزا کی سمت میں رہے اس طرح :: ء ا :: ب ہ ۰۰۰۰۰۰۰
27_48.jpg
ح تو اب نقطہ ء بھی اس میں شامل ہو کر وتر ۶ جز کا ہوجائے گا وہ وتر نہ رہا اس پر اگر عروسی وارد کرو تو یہ شبہ ۱۶ تا ۱۹ کی طرف رجوع کرے گا اور انہیں کے رد سے رد ہوجائے گا کلام اس شبہ میں ہے اور اگر سمت بچا کر یوں رکھوں
27_49.jpg
تو نہ مثلث رہا نہ وتر شکل ذواربعہ اضلاع ہوگئی، بہرحال تمہارا مقصود کہ سرکانے سے وتر واحد کی مقدار بدل گئی حاصل نہیں ہوسکتا۔
Flag Counter