Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
17 - 212
رسالہ

مقامع الحدید علٰی خدّا المنطق الجدید(۱۳۰۴ھ)

(لوہےکےگرز منطقِ جدید کے رخسار پر)
مسئلہ۳۰ : ازبریلی مجانب نواب مولوی سلطان احمد صاحب یکم  رجب ۱۳۰۴ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رائے بیضاضیائے حضرات علمائے دین ادام اﷲ برکاتھم الٰی یوم الدین (اﷲ تعالٰی قیامت تک ان کی برکتوں کو دوام بخشے ۔ت) پر واضح ہو کہ ان روزں (دنوں) زید فلسفی نے کہ اپنے آپ کو سنی کہتا بلکہ اعلم علمائے اہلسنت جانتا اور اپنے سوا اور علماء کو بہ نگاہ کوبہ نگاہِ تحقیر واہانت دیکھتا ہے ایک کتاب منطق میں تالیف کی اور اسے جا بجا ذکر ہیولٰی وقدم اشیاء و عقولِ عشرہ و مزعومہ فلاسفہ وغیر ذلک مسائل فلسفیہ سے مملو و مشحون کیا۔

یہ خادم سنت بہ نظر حمایت ملت اس سے چند اقوال التقاط کرکے مشہدانظار عالیہ علمائے دین میں حاضر کرتا ہے(عہ) :
  قول اوّل : التحقیق اَنّھا لیست الطبائع کلھا مجردۃ محضۃ لکن للطبائع المرسلۃ فی باب التجردوالمادیۃ مراتب (الی اَنْ قال) السابعۃ مرتبۃ الماھیات المجردۃ بالکلیۃ ، لاتعلق لھا بالمادۃ تعلق التقویم اوالحلول اوالتدبیر والتصرف ، ولا تعلق لھا  الا تعلق الخلق والا یجاد مثلاً وھی حقائق المفارقات القدسیۃ کالمعقب القدسی وسائر المعقول العشرۃ والحقیقۃ  الواجبۃ اھ ملتقطا من ص ۲۵۰  الٰی  ۲۵۱۔
تحقیق یہ ہے کہ تمام طبعیتیں مجرومحض نہیں ہیں لیکن تجردو مادیت کے اعتبار سی طبائع مطلقہ کے کئی مرتبہ ہیں( یہاں تک کہ اس نے کہا ) ساتواں مرتبہ ان ماہیتوں کا ہے جو کُلّی طور پر مجرد ہیں،  ان کا مادہ کے ساتھ تقویم حلول باندر بیر وتصرف کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی تعلقِ خلق و ایجاد کے سوا ان کا کوئی اور تعلق ہے اور وہ حقائق مفارقاتِ قدسیہ ہیں جیسے معقب قدسی ، عقول عشرہ اور حقیقتِ واجبہ اھ ملتقطا ص ۲۵۰ تا ۲۵۱۔
عہ : خلاصہ اقوال فلسفیہ مع حکم جواب از مستفتی۔

قول اول: اﷲ تعالٰی کے سوا عالم کے دس خالق اور ہیں۔ 

الجواب  : یہ عقیدہ کفر ہے۔

قول دوم  : مادہ اجسام قدیم ہے۔

الجواب : یہ قول کفر ہے۔

قول چہارم : عقول عشرہ و نفوس قدیم ہیں۔

الجواب : یہ قول کفر ہے۔

قول پنجم  : بعض چیزیں خود زیادہ استحقاقِ ایجاد رکھتی ہیں ، اگر اﷲ تعالی انہیں نہ بنائے تو بخیل ٹھہرے اور ترجیح مرجوع لازم آئے۔

الجواب : یہ قول بدعت و ضلالت و مستلزم کفر ہے۔

قول ششم  : کی دلیل میں نقل کیا کہ یہ عقولِ عشرہ ہر عیب و نقصان سے پاک ومنزّہ ہیں اور محال ہے کہ تمام عالم میں کوئی ذرہ کسی وقت ان کے علم سے غائب ہو۔

الجواب : یہ کفر سے تمسک ہے۔

قول ہفتم : حدوث و تغیر  ،  نہ کوئی شے نابود تھی نہ کبھی نابود ہو بلکہ جسے ہم کہتے ہیں اب تک نہ تھی وہ فقط پوشیدہ تھی اور جسے کہتے ہیں اب نہ رہی وہ صرف مخفی ہوگئی، حقیقۃً ہر چیز ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

الجواب : یہ کفر ہے اور بہت سے کفروں کو مستلزم ۔

قول ہشتم : میری یہ کتاب نہایت تحقیق کے اپیہ پر اور فرشتہ اثر بلکہ فرشتہ گر ہے۔

الجواب : یہ قول نہایت سخت گناہ عظیم اور بہت جا روایت کی رو سے کفر ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
دوسرے رسالہ القول الوسیط میں اس مسئلہ کی تحقیق یوں لکھی ہے۔
العلۃ الجاعلۃ ھل یجب کونھا واجبۃ الوجود اویمکن کونھا ممکنۃ؟ المشہور الثانی فیما بین الحکماء لکن المحققین منھم نصوا انّ العلمۃ المؤثرۃ بالذات ھو الباری ،  والعقول کا لوسائط والشروط لتعلق التاثیرالواجبی بغیر ھا کیف والماھیۃ الامکانیۃ انما وجودھا بالاستعارۃ عن الواجب ، فھو المعطی بالذات الوجودات ،  فان اعطاء المستعیرلیس اعطاء حقیقۃ وانما ھو اعطاء من تلقاء المالک ، کما ان استناد اضاء العلم الی القمر لیس حقیقۃ بل بحسب الظاھر ، وانما ھو مستند الی الشمس ،  والقمر واسطۃ محضۃ الانتقال ضوءھا الی العالم  ، فالمنیر بالذات ھی لاھو ، فعلّیۃ الممکن للممکن ظاھریۃ مجازیۃ  ، فھذا الوجود الضعیف یصلح علّۃ بمعنی الواسطۃ والشرط والمتمم والالۃ لا مفیدۃ لا وجود (عہ) حقیقۃ وقداستوفی ھذا التحقیق فی مقامہ  اھ ملخصا ص ۲۔
کیاعلتِ جاعلہ کا واجب الوجود ہونا واجب ہے یا اس کا ممکن ہونا جائز ہے؟ مشہور حکماء میں قول ثانی ہے لیکن ان میں سے محقق نے صراحت کی ہے کہ علت موثرہ بالذات فقط باری تعالٰی ہے اور عقول تاثیر واجبی کے ان کے غیر کے ساتھ متعلق ہونے کے لیے واسطوں اور شرطوں کی طرح ہیں کیوں نہ ہو حالانکہ ماہیت ممکنہ کا وجود تو  واجب سے مستعار ہے چنانچہ وجود وں کا بالذات معطی واجب الوجود ہی ہے کیونکہ مستعیر کا کسی کو عطا کرنا درحقیقت اس کا عطا کرنا نہیں بلکہ وہ مالک کی طرف سے عطا کرنا ہے جیسا کہ عالم کو روشن کرنے کی نسبت چاند کی طرف کرنا حقیقت کے اعتبار سے نہیں بلکہ ظاہر کے اعتبار سے ہے درحقیقت اضاست عالم سورج کی طرف منسوب ہے چاند تو اس کی روشنی کو عالم کی طرف منتقل کرنے کا محض واسطہ ہے۔ لہذا بالذات روشن کرنے والا سورج ہے نہ کہ چاند۔ چنانچہ ممکن کا ممکن کے لیے علّت ہونا ظاہری و مجازی ہے ،  تو یہ ضعیف وجود اس معنی میں علت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ واسطہ ، شرط  ، متمم اور آلہ ہے نہ کہ حقیقتاً مفید وجود ہے۔ اس کی پوری تحقیق اپنے مقام پر کردی گئی ہے  اھ ملخصاص ۲ (ت) ۔
عہ : کذا فی المخطوطۃ المنقولۃ ، ولعل فی الاصل لا مفیدۃ وجودٍحقیقۃً ۱۲ محمد احمد ۔
Flag Counter