| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
شبہ ۱۶: بحکم شکل عروسی قطر مربع یعنی و تر مثلث قائم الزاویہ متساوی الساقین کا مجذور مجذور ضلع کا دو چند ہے، اور اصول ہندسیہ میں ثابت ہوچکا ہے کہ نسبت مجذورین مجذور نسبت جذرین ہوتی ہے تو ضرور قطر وضلع مذکور میں وہ نسبت ہے کہ اس کی مثناۃ بالتکریر ہے یعنی اس کا مجذور دو ہے اور دو کسی عدد کا مجذور نہیں تو ضرور قطر وضلع مذکور میں نسبت صمیہ ہے جس کے لیے کوئی عاد مشترک نہ نکل سکے اور اعداد میں یہ نسبت محال کہ سب کا عاد کم از کم ایک موجود ہے اور اگر ان خطوط کا ترکب اجزاء سے ہوتا تو ضرور ان میں نسبت عددیہ ہوتی یعنی ضلع کو وہ نسبت قطر سے ہے جو ایک کو اتنے سے اس نسبت کا نہ ہوسکنا دلیل روشن ہے کہ ان کا ترکب اجزاء سے نہیں بلکہ یہ مقادیر متصلہ ہیں جن میں نسبت صمیہ پائی جاتی ہے۔ (صدرا) اقول : ہاں اجزائے متفرقہ سے ترکب ہے اور خطوط موہومہ سے اتصال ، ان کی نسبت عددیہ ہے اور یہ صمیہ ان موہومات کی، برہان نے یہی تو ثابت کیا کہ ان مقادیر متصلہ میں نسبت صمیہ ہے، مقادیر متصلہ یہی خطوط موہومہ ہیں نہ کہ وہ اجزائے متفرقہ ۔
شبہ ۱۷ : ایک مثلث قائم الزاویہ کو جس کا ہر ضلع ۱۰ جز سے مرکب تو بحکم عروسی وتر ۳۰۰ کا جزر ہوگا اور وہ بلا کسر ممکن نہیں تو جزمنقسم ہوگیا۔(مواقف مقاصد) بلکہ تحقیق یہ کہ جذرا صم باطل ہے تو لازم کہ اس وتر کے لیے واقع میں کوئی مقدار ہی نہ ہو۔ یہ صریح البطلان ہے کہ امتداد بے مقدار یعنی چہ ( صدرا)۔ شبہ ۱۸: وہ جز کا ایک خط ہو ان میں ایک جز پر تیسرا جزر زاویہ قائمہ بناتا رکھیں تو اس قائمہ کا وتر دو جز سے زیادہ اور تین سے کم ہوگا کہ ۸ کا جذر ہے جز منقسم ہوگیا۔( مقاصد) شبہ ۱۹: ایک ضلع قائمہ جب ۳ جز ہو، دوسرا دو جز ، تو وتر بحکم عروسی ۳ سے بڑا اور بحکم حماری ۴ سے چھوٹا ہوگا۔ (صدرا) اقول : یہ سب شبہات ایک ہیں اور ان کا منشا وہی شبہ ۱۶ اور وہی ان کا جواب کہ تمہاری عروسی تمہاری حماری سب انہیں خطوط موہومہ میں ہیں اجزائے متفرقہ میں کہ جز کا انقسام ہو، عجب کہ علامہ تفتازانی نے ۱۷ و ۱۸ کو جدا دو شبہے کیا اور صدرا نے ۱۷ و ۱۹ کو یوں تو کروڑوں بلکہ غیر متناہی صورتیں نکل سکتی ہیں جن میں مجموع مجذورین ضلعین مجذور صحیح نہ ہو پھر غیر متناہی شبہے کیوں نہ گنائیے۔ شبہ ۲۰: چار چار جز کے چار مستقیم خط لیں اور انہیں برابر رکھیں تاحدِّ امکان خوب ملادیں کہ شکل مربع پیدا ہوں
27_44.jpg
ظاہر ہے کہ اس کے قطر میں بھی چار ہی جز آئیں گے اگر واقع میں اتنے ہی ہیں تو قطر و ضلع برابر ہوگئے اور یہ عروسی سے محال، اور اگر ایک ایک جز کے فصل سے ہیں تو قطر سات جز کا ہوا اور یہی مقدار دو ضلعوں کی ہے کہ ایک جز دونوں میں مشترک ہے تو مثلث کے دو ضلعے مل کر تیسرے کے برابر ہوئے، یہ حماری سے محال ( یعنی اگر کہیں ایک جز سے زائد کا فصل ہے تو محال اعظم کہ ایک ضلع دو کے مجموعہ سے بڑھ گیا ) اگر کہیں ایک سے کم کا فصل ہے تو جز منقسم ہوگیا۔(ابن سینا، مواقف ، مقاصد ، صدرا) اقول : ایک بات ہے لفظ گھماگھما کر جتنی بار چاہو کہو ، تو یہ مواقف نے ایک کو دو کیا اور مقاصد و صدرا نے تین اور جواب وہی کہ ملانا محال بلکہ اضلاع و قطر سب کے تمام اجزا متفرق رہیں گے اور عروسی و حماری امتدادات موہومہ کا حال بتائیں گی۔ اجزائے قطر ضلع یا مجموعہ ضلعین سے کم ہو یا برابر یا زائد، اس میں ایک شق ابنِ سینا سے رہ گئی کہ ممکن کہ اجزائے قطر میں کہیں خلا ہو اور کہیں بالکل نہ ہو جس سے اس کی مقدار ۴ سے زائد اور ۷ سے کم رہے ، مواقف و صدرا سے یہی شق رہ گئی، شرح مقاصد میں اس کی طرف توجہ کی کہ یوں ممتنع ہے کہ خطوط مستقیم ہیں اور تاحدِ امکان ملادیئے ہیں۔ اقول : تاحدِّ امکان ملادینا نفی خلا کرتا ہے تو پہلی ہی شق پر اقتصار واجب تھا باقی سب بے کار، اور جب اس کے بعد یہی خلا کا احتمال اور اس کی وہ تین شقیں ممکن رہیں تو اس چوتھی سے کون مانع ہے کیا واجب ہے کہ ملانے کا اثر سب اجزاء پر یکساں ہو بلکہ یہی کیا ضرور ہے کہ تمہارے ملانے کے بعد خطوط مستقیمہ ہی رہیں، غایت یہ کہ مستقیمہ رہ کر بھی تفاوت خلا سے مربع نہ بنے پھر اس کا بننا ہی کیا ضرور، بلکہ نہ بنا ضرور کہ عروسی حماری نہ بگڑیں۔ ثم اقول : ابن سینا کی یہ جاں کا ہی پتہ دے رہی ہے کہ اصحاب جز کی طرف اس کی وہ نسبت اقرار مربع غلط تھی ورنہ نہ اس محنت کی حاجت ہوتی نہ ان شقوں کی نہ حماری کا خلف دکھانے کی نہ آسانی کو کوئی خاص شمارا جزاء فرض کرنے کی بلکہ اتنا کہہ دینا کافی ہوتا کہ مربع تمہیں مسلم اور برتقدیر اجزا ہر ضلع میں جتنے الزاویہ جس کا ہر ضلع میں جتنے جزہوں گےاتنے ہی قطر میں آئیں گے اور یہ عروسی سے باطل ۔